Poetry Collection

Girya-o-zari

The act of wailing is an expression of human misery. It is, however, typically associated with lovers. He keeps lamenting over his separation from the beloved. It is one of the stock themes of classical poetry. Here are some examples

Total

46

Sher

23

Ghazal

23

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

میں رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں میں پھر اس کے بعد گہری نیند سونا چاہتا ہوں میں

کیا کہوں دیدۂ تر یہ تو مرا چہرہ ہے سنگ کٹ جاتے ہیں بارش کی جہاں دھار گرے

~ Shakeb Jalali

نکل گئے ہیں جو بادل برسنے والے تھے یہ شہر آب کو ترسے گا چشم تر کے بغیر

ضبط گریہ کبھی کرتا ہوں تو فرماتے ہیں آج کیا بات ہے برسات نہیں ہوتی ہے

ملنا کیسا کہ یاد بھی نہ کیا میرے نالوں کا کچھ اثر نہ ہوا

~ Nwab Saif Ali Sayyaf

قفس میں رہ کے نہ روتے اگر یہ جانتے ہم چمن میں رہ کے بھی رونا ہے بال و پر کے لئے

غزل لکھ کر تری دیوار پر لٹکا کے جب آتا تو ساری رات پھر گریہ در و دیوار کرتا تھا

کہسار پہ چل کے روئیے اب صحرا تو بہت ڈبو چکے ہم

تم انہیں بارشیں سمجھتے ہو ہم نے رونے کا تجربہ کیا ہے

آج رونے کی جگہ پر جن کو آتی ہے ہنسی کل وہی ہنسنے کے موقع پر لہو رو جائیں گے

رات دن جاری ہیں کچھ پیدا نہیں ان کا کنار میرے چشموں کا دو آبا مجمع البحرین ہے

میرے نالوں کی جو آواز پہنچ جاتی ہے گھر سے باہر نکل آتے ہیں پریشاں ہو کر

~ Nwab Saif Ali Sayyaf

دن کو فرصت نہ ملی اشک بہانے کی کبھی رات آئی تو مجھے رات نے رونے نہ دیا

میں رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں میں پھر اس کے بعد گہری نیند سونا چاہتا ہوں میں

کیا کہوں دیدۂ تر یہ تو مرا چہرہ ہے سنگ کٹ جاتے ہیں بارش کی جہاں دھار گرے

~ Shakeb Jalali

نکل گئے ہیں جو بادل برسنے والے تھے یہ شہر آب کو ترسے گا چشم تر کے بغیر

ضبط گریہ کبھی کرتا ہوں تو فرماتے ہیں آج کیا بات ہے برسات نہیں ہوتی ہے

ملنا کیسا کہ یاد بھی نہ کیا میرے نالوں کا کچھ اثر نہ ہوا

~ Nwab Saif Ali Sayyaf

قفس میں رہ کے نہ روتے اگر یہ جانتے ہم چمن میں رہ کے بھی رونا ہے بال و پر کے لئے

قصۂ درد کو کرتے ہوئے ضبط تحریر روتے روتے بھی ترے نام پہ ہنس دیتا ہوں

~ Barq Aashiyanvi

دن کو فرصت نہ ملی اشک بہانے کی کبھی رات آئی تو مجھے رات نے رونے نہ دیا

تم انہیں بارشیں سمجھتے ہو ہم نے رونے کا تجربہ کیا ہے

اللہ یہ کس کا ماتم ہے وہ زلف جو بکھری جاتی ہے آنکھیں ہے کہ بھیگی جاتی ہیں دنیا ہے کہ ڈوبی جاتی ہے

رات دن جاری ہیں کچھ پیدا نہیں ان کا کنار میرے چشموں کا دو آبا مجمع البحرین ہے

کہر میں گم سم سماعتو تم گواہ رہنا میں ایک دیوار گریہ ہر رات چن رہا ہوں

You have reached the end.

Explore Similar Collections

Girya-o-zari FAQs

Girya-o-zari collection me kya milega?

Girya-o-zari se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.