روتے پھرتے ہیں ساری ساری رات اب یہی روزگار ہے اپنا
Poetry Collection
Girya-o-zari
The act of wailing is an expression of human misery. It is, however, typically associated with lovers. He keeps lamenting over his separation from the beloved. It is one of the stock themes of classical poetry. Here are some examples
Total
46
Sher
23
Ghazal
23
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
میں رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں میں پھر اس کے بعد گہری نیند سونا چاہتا ہوں میں
کیا کہوں دیدۂ تر یہ تو مرا چہرہ ہے سنگ کٹ جاتے ہیں بارش کی جہاں دھار گرے
نکل گئے ہیں جو بادل برسنے والے تھے یہ شہر آب کو ترسے گا چشم تر کے بغیر
رونے پہ اگر آؤں تو دریا کو ڈبو دوں قطرہ کوئی سمجھے نہ مرے دیدۂ نم کو
ضبط گریہ کبھی کرتا ہوں تو فرماتے ہیں آج کیا بات ہے برسات نہیں ہوتی ہے
ملنا کیسا کہ یاد بھی نہ کیا میرے نالوں کا کچھ اثر نہ ہوا
دونوں چشموں سے مری اشک بہا کرتے ہیں موجزن رہتا ہے دریا کے کنارے دریا
قفس میں رہ کے نہ روتے اگر یہ جانتے ہم چمن میں رہ کے بھی رونا ہے بال و پر کے لئے
غزل لکھ کر تری دیوار پر لٹکا کے جب آتا تو ساری رات پھر گریہ در و دیوار کرتا تھا
کہسار پہ چل کے روئیے اب صحرا تو بہت ڈبو چکے ہم
تم انہیں بارشیں سمجھتے ہو ہم نے رونے کا تجربہ کیا ہے
آج رونے کی جگہ پر جن کو آتی ہے ہنسی کل وہی ہنسنے کے موقع پر لہو رو جائیں گے
رات دن جاری ہیں کچھ پیدا نہیں ان کا کنار میرے چشموں کا دو آبا مجمع البحرین ہے
میرے نالوں کی جو آواز پہنچ جاتی ہے گھر سے باہر نکل آتے ہیں پریشاں ہو کر
دن کو فرصت نہ ملی اشک بہانے کی کبھی رات آئی تو مجھے رات نے رونے نہ دیا
روتے پھرتے ہیں ساری ساری رات اب یہی روزگار ہے اپنا
میں رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں میں پھر اس کے بعد گہری نیند سونا چاہتا ہوں میں
کیا کہوں دیدۂ تر یہ تو مرا چہرہ ہے سنگ کٹ جاتے ہیں بارش کی جہاں دھار گرے
نکل گئے ہیں جو بادل برسنے والے تھے یہ شہر آب کو ترسے گا چشم تر کے بغیر
رونے پہ اگر آؤں تو دریا کو ڈبو دوں قطرہ کوئی سمجھے نہ مرے دیدۂ نم کو
ضبط گریہ کبھی کرتا ہوں تو فرماتے ہیں آج کیا بات ہے برسات نہیں ہوتی ہے
ملنا کیسا کہ یاد بھی نہ کیا میرے نالوں کا کچھ اثر نہ ہوا
دونوں چشموں سے مری اشک بہا کرتے ہیں موجزن رہتا ہے دریا کے کنارے دریا
سن کے ہر سمت سسکیاں میں نے جانے کیوں کر لیں دوریاں میں نے
قفس میں رہ کے نہ روتے اگر یہ جانتے ہم چمن میں رہ کے بھی رونا ہے بال و پر کے لئے
قصۂ درد کو کرتے ہوئے ضبط تحریر روتے روتے بھی ترے نام پہ ہنس دیتا ہوں
دن کو فرصت نہ ملی اشک بہانے کی کبھی رات آئی تو مجھے رات نے رونے نہ دیا
تم انہیں بارشیں سمجھتے ہو ہم نے رونے کا تجربہ کیا ہے
اللہ یہ کس کا ماتم ہے وہ زلف جو بکھری جاتی ہے آنکھیں ہے کہ بھیگی جاتی ہیں دنیا ہے کہ ڈوبی جاتی ہے
رات دن جاری ہیں کچھ پیدا نہیں ان کا کنار میرے چشموں کا دو آبا مجمع البحرین ہے
کہر میں گم سم سماعتو تم گواہ رہنا میں ایک دیوار گریہ ہر رات چن رہا ہوں
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Girya-o-zari FAQs
Girya-o-zari collection me kya milega?
Girya-o-zari se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.