Poetry Collection

Hasrat

Once our desires are fulfilled the craving, or longing for the desired object stops. It is the non-fulfillment of desire that takes us to appreciate the real meaning of craving. It is quite, naturally, a subject for poetry. Urdu poets have been naturally inclined towards appropriating this subject with respects to lovers. We have a small selection for you to read and appreciate the layers of meaning behind craving and longing.

Total

69

Sher

37

Ghazal

32

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں

انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیں دو گز زمیں بھی چاہیئے دو گز کفن کے بعد

آرزو ہے کہ تو یہاں آئے اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں

کچھ نظر آتا نہیں اس کے تصور کے سوا حسرت دیدار نے آنکھوں کو اندھا کر دیا

آرزو حسرت اور امید شکایت آنسو اک ترا ذکر تھا اور بیچ میں کیا کیا نکلا

کس کس طرح کی دل میں گزرتی ہیں حسرتیں ہے وصل سے زیادہ مزا انتظار کا

کٹتی ہے آرزو کے سہارے پہ زندگی کیسے کہوں کسی کی تمنا نہ چاہئے

دل میں وہ بھیڑ ہے کہ ذرا بھی نہیں جگہ آپ آئیے مگر کوئی ارماں نکال کے

حسرتوں کا ہو گیا ہے اس قدر دل میں ہجوم سانس رستہ ڈھونڈھتی ہے آنے جانے کے لیے

ایک بھی خواہش کے ہاتھوں میں نہ مہندی لگ سکی میرے جذبوں میں نہ دولہا بن سکا اب تک کوئی

جینے والوں سے کہو کوئی تمنا ڈھونڈیں ہم تو آسودۂ منزل ہیں ہمارا کیا ہے

میکدے کو جا کے دیکھ آؤں یہ حسرت دل میں ہے زاہد اس مٹی کی الفت میری آب و گل میں ہے

محض خوابوں خیالوں میں ترا دیدار ہو کب تک حقیقت میں بھی تجھ سے آشنائی چاہتے ہیں ہم

عجیب وقت ہے اب دوستوں کے چاقو کو مرے قلم کی نہیں انگلیوں کی حسرت ہے

ڈوبتا ہوں تو مجھے ہاتھ کئی ملتے ہیں کتنی حسرت سے کناروں کی طرف دیکھتا ہوں

اپنے آنگن میں پرندے دیکھ کر جسم کی ٹہنی سے اڑ جاتے ہیں ہم

سب خواہشیں پوری ہوں فرازؔ ایسا نہیں ہے جیسے کئی اشعار مکمل نہیں ہوتے

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں

انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیں دو گز زمیں بھی چاہیئے دو گز کفن کے بعد

آرزو ہے کہ تو یہاں آئے اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں

کچھ نظر آتا نہیں اس کے تصور کے سوا حسرت دیدار نے آنکھوں کو اندھا کر دیا

سب خواہشیں پوری ہوں فرازؔ ایسا نہیں ہے جیسے کئی اشعار مکمل نہیں ہوتے

کس کس طرح کی دل میں گزرتی ہیں حسرتیں ہے وصل سے زیادہ مزا انتظار کا

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا کیا بتاؤں کہ میرے دل میں ہے ارماں کیا کیا

دل میں وہ بھیڑ ہے کہ ذرا بھی نہیں جگہ آپ آئیے مگر کوئی ارماں نکال کے

بعد مرنے کے بھی چھوڑی نہ رفاقت میری میری تربت سے لگی بیٹھی ہے حسرت میری

یار پہلو میں ہے تنہائی ہے کہہ دو نکلے آج کیوں دل میں چھپی بیٹھی ہے حسرت میری

جینے والوں سے کہو کوئی تمنا ڈھونڈیں ہم تو آسودۂ منزل ہیں ہمارا کیا ہے

محض خوابوں خیالوں میں ترا دیدار ہو کب تک حقیقت میں بھی تجھ سے آشنائی چاہتے ہیں ہم

فقط آنکھیں چراغوں کی طرح سے جل رہی ہیں کسی کی دسترس میں ہے کہاں کوئی ستارہ

ڈوبتا ہوں تو مجھے ہاتھ کئی ملتے ہیں کتنی حسرت سے کناروں کی طرف دیکھتا ہوں

کب الم اور حسرتیں اپنی کہیں اے دوستاں رات کو بلبل ہیں ہم اور دن کو پروانے ہیں ہم

Explore Similar Collections

Hasrat FAQs

Hasrat collection me kya milega?

Hasrat se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.