گلابی گال پر کچھ رنگ مجھ کو بھی جمانے دو منانے دو مجھے بھی جان من تیوہار ہولی میں
Poetry Collection
Holi
This tag features verses on the essence and elements of the festival of colors. Holi celebrates spring's arrival and the triumph of good over evil. Symbolized by bonfires and playful legends, it fosters unity and joy transcending social barriers with its colorful revelry.
Total
43
Sher
36
Ghazal
7
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
تیرے گالوں پہ جب گلال لگا یہ جہاں مجھ کو لال لال لگا
سجنی کی آنکھوں میں چھپ کر جب جھانکا بن ہولی کھیلے ہی ساجن بھیگ گیا
موسم ہولی ہے دن آئے ہیں رنگ اور راگ کے ہم سے تم کچھ مانگنے آؤ بہانے پھاگ کے
غیر سے کھیلی ہے ہولی یار نے ڈالے مجھ پر دیدۂ خوں بار رنگ
کب تک چنری پر ہی ظلم ہوں رنگوں کے رنگریزہ تیری بھی قبا پر برسے رنگ
بہار آئی کہ دن ہولی کے آئے گلوں میں رنگ کھیلا جا رہا ہے
پورا کریں گے ہولی میں کیا وعدۂ وصال جن کو ابھی بسنت کی اے دل خبر نہیں
وہ آئے تو رنگ سنورنے لگتے ہیں جیسے بچھڑا یار بھی کوئی موسم ہے
سانس لیتا ہوا ہر رنگ نظر آئے گا تم کسی روز مرے رنگ میں آؤ تو سہی
وہ رنگ رنگ کے چھینٹے پڑے کہ اس کے بعد کبھی نہ پھر نئے کپڑے پہن کے نکلا میں
بادل آئے ہیں گھر گلال کے لال کچھ کسی کا نہیں کسی کو خیال
تو بھی دیکھے گا ذرا رنگ اتر لیں تیرے ہم ہی رکھتے ہیں تجھے یاد کہ سب رکھتے ہیں
بہت ہی خشکی میں گزری ہے اس برس ہولی گلہ ہے تجھ سے کہ گیلا نہیں کیا مجھ کو
کتنی رنگینیوں میں تیری یاد کس قدر سادگی سے آتی ہے
سب کا الگ انداز تھا سب رنگ رکھتے تھے جدا رہنا سبھی کے ساتھ تھا سو خود کو پانی کر لیا
ڈال کر غنچوں کی مندری شاخ گل کے کان میں اب کے ہولی میں بنانا گل کو جوگن اے صبا
کس کی ہولی جشن نو روزی ہے آج سرخ مے سے ساقیا دستار رنگ
مہیا سب ہے اب اسباب ہولی اٹھو یارو بھرو رنگوں سے جھولی
شب جو ہولی کی ہے ملنے کو ترے مکھڑے سے جان چاند اور تارے لیے پھرتے ہیں افشاں ہاتھ میں
گلابی گال پر کچھ رنگ مجھ کو بھی جمانے دو منانے دو مجھے بھی جان من تیوہار ہولی میں
تیرے گالوں پہ جب گلال لگا یہ جہاں مجھ کو لال لال لگا
سجنی کی آنکھوں میں چھپ کر جب جھانکا بن ہولی کھیلے ہی ساجن بھیگ گیا
موسم ہولی ہے دن آئے ہیں رنگ اور راگ کے ہم سے تم کچھ مانگنے آؤ بہانے پھاگ کے
غیر سے کھیلی ہے ہولی یار نے ڈالے مجھ پر دیدۂ خوں بار رنگ
کب تک چنری پر ہی ظلم ہوں رنگوں کے رنگریزہ تیری بھی قبا پر برسے رنگ
اب کی ہولی میں رہا بے کار رنگ اور ہی لایا فراق یار رنگ
بہار آئی کہ دن ہولی کے آئے گلوں میں رنگ کھیلا جا رہا ہے
وہ تماشا و کھیل ہولی کا سب کے تن رخت کیسری ہے یاد
وہ آئے تو رنگ سنورنے لگتے ہیں جیسے بچھڑا یار بھی کوئی موسم ہے
ہولی کے اب بہانے چھڑکا ہے رنگ کس نے نام خدا تجھ اوپر اس آن عجب سماں ہے
وہ رنگ رنگ کے چھینٹے پڑے کہ اس کے بعد کبھی نہ پھر نئے کپڑے پہن کے نکلا میں
بادل آئے ہیں گھر گلال کے لال کچھ کسی کا نہیں کسی کو خیال
کس کی ہولی جشن نو روزی ہے آج سرخ مے سے ساقیا دستار رنگ
سیکڑوں رنگوں کی بارش ہو چکے گی اس کے بعد عطر میں بھیگی ہوئی شاموں کا منظر آئے گا
مہیا سب ہے اب اسباب ہولی اٹھو یارو بھرو رنگوں سے جھولی
بہت ہی خشکی میں گزری ہے اس برس ہولی گلہ ہے تجھ سے کہ گیلا نہیں کیا مجھ کو
شب جو ہولی کی ہے ملنے کو ترے مکھڑے سے جان چاند اور تارے لیے پھرتے ہیں افشاں ہاتھ میں
میں نے کچھ رنگ اچھالے تھے ہواؤں میں نبیلؔ اور تصویر تری دھیان سے باہر آئی
کتنی رنگینیوں میں تیری یاد کس قدر سادگی سے آتی ہے
Explore Similar Collections
Holi FAQs
Holi collection me kya milega?
Holi se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.