Poetry Collection

Iltija

Entreaty, supplication, or pleas are made quite often to gain a favour, or seek an answer. While all of us, at one time or the other, indulge into these, it is the lover who is destined to indulge into it to gain the beloved’s favour. Some verses around this theme are here for you to appraise and appreciate.

Total

62

Sher

22

Ghazal

40

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

کہیں وہ آ کے مٹا دیں نہ انتظار کا لطف کہیں قبول نہ ہو جائے التجا میری

آؤ مل جاؤ کہ یہ وقت نہ پاؤ گے کبھی میں بھی ہمراہ زمانہ کے بدل جاؤں گا

آدھی سے زیادہ شب غم کاٹ چکا ہوں اب بھی اگر آ جاؤ تو یہ رات بڑی ہے

نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا مجھے تو ہوش دے اتنا رہوں میں تجھ پہ دیوانا

قبول اس بارگہہ میں التجا کوئی نہیں ہوتی الٰہی یا مجھی کو التجا کرنا نہیں آتا

~ Chiragh Hasan Hasrat

یہ التجا دعا یہ تمنا فضول ہے سوکھی ندی کے پاس سمندر نہ جائے گا

تیرا عاشق تیرے قدموں سے لپٹ جائے گا روٹھنے والے تجھے آج منانے کے لئے

ان سے ملنے کی التجا کی ہے دل ناداں نے یہ خطا کی ہے

~ Azeem Hyderabadi

بس اتنا سوچ کر ہی مجھ کو اپنے پاس تم رکھ لو تمہارے واسطے میں حکمرانی چھوڑ آیا ہوں

ستم ہی کرنا جفا ہی کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرنا تمہیں قسم ہے ہمارے سر کی ہمارے حق میں کمی نہ کرنا

اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

اس شعر کا مزاج غزل کے رویتی مزاج سے ملتا ہے۔ چونکہ فیض نے ترقی پسند فکر کی ترجمانی میں بھی اردو شعریات کی روایت کا پورا لحاظ رکھا لہٰذا ان کی تخلیقات میں اگرچہ علامتی سطح پر ترقی پسند سوچ کی کارفرمائی دکھائی دیتی ہے تاہم ان کی شعری دنیا میں اور بھی امکانات موجود ہیں۔ جس کی سب سے بڑی مثال یہ مشہور شعر ہے۔ بادِ نو بہار کے معنی نئی بہار کی ہواہے۔ پہلے اس شعر کی تشریح ترقی پسند فکر کو مدِ نظر کرتے ہیں۔ فیض کی شکایت یہ رہی ہے کہ انقلاب رونما ہونے کے باوجود استحصال کی چکی میں پسنے والوں کی تقدیر نہیں بدلتی ۔ اس شعر میں اگر بادِ نو بہار کو انقلاب کی علامت مان لیا جائے تو شعر کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ گلشن (ملک، زمانہ وغیرہ) کا کاروبار تب تک نہیں چل سکتا جب تک کہ انقلاب اپنے صحیح معنوں میں نہیں آتا۔ اسی لئے وہ انقلاب یا بدلاؤ سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ جب تم رونما ہوجاؤ گے تب پھولوں میں نئی بہار کی ہوا تازگی لائی گی۔ اور اس طرح سے چمن کا کاروبار چلے گا۔ دوسرے معنوں میں وہ اپنے محبوب سے کہتے ہیں کہ تم اب آ بھی جاؤ تاکہ گلوں میں نئی بہار کی ہوا رنگ بھرے اور چمن کھل اٹھے۔ شفق سوپوری

اب تو مل جاؤ ہمیں تم کہ تمہاری خاطر اتنی دور آ گئے دنیا سے کنارا کرتے

آؤ مل جاؤ کہ یہ وقت نہ پاؤ گے کبھی میں بھی ہمراہ زمانہ کے بدل جاؤں گا

مانی ہیں میں نے سیکڑوں باتیں تمام عمر آج آپ ایک بات مری مان جائیے

ستم ہی کرنا جفا ہی کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرنا تمہیں قسم ہے ہمارے سر کی ہمارے حق میں کمی نہ کرنا

عشق میں شکوہ کفر ہے اور ہر التجا حرام توڑ دے کاسۂ مراد عشق گداگری نہیں

قبول اس بارگہہ میں التجا کوئی نہیں ہوتی الٰہی یا مجھی کو التجا کرنا نہیں آتا

~ Chiragh Hasan Hasrat

عشق کو نغمۂ امید سنا دے آ کر دل کی سوئی ہوئی قسمت کو جگا دے آ کر

میرے کہنے میں ہے دل جب تک مرے پہلو میں ہے آپ لے لیجے اسے یہ آپ کا ہو جائے گا

ان سے ملنے کی التجا کی ہے دل ناداں نے یہ خطا کی ہے

~ Azeem Hyderabadi

ہم اس لمبے چوڑے گھر میں شب کو تنہا ہوتے ہیں دیکھ کسی دن آ مل ہم سے ہم کو تجھ سے کام ہے چاند

بس اتنا سوچ کر ہی مجھ کو اپنے پاس تم رکھ لو تمہارے واسطے میں حکمرانی چھوڑ آیا ہوں

You have reached the end.

Explore Similar Collections

Iltija FAQs

Iltija collection me kya milega?

Iltija se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.