اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے
Poetry Collection
Iltija
Entreaty, supplication, or pleas are made quite often to gain a favour, or seek an answer. While all of us, at one time or the other, indulge into these, it is the lover who is destined to indulge into it to gain the beloved’s favour. Some verses around this theme are here for you to appraise and appreciate.
Total
62
Sher
22
Ghazal
40
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
کہیں وہ آ کے مٹا دیں نہ انتظار کا لطف کہیں قبول نہ ہو جائے التجا میری
آؤ مل جاؤ کہ یہ وقت نہ پاؤ گے کبھی میں بھی ہمراہ زمانہ کے بدل جاؤں گا
آدھی سے زیادہ شب غم کاٹ چکا ہوں اب بھی اگر آ جاؤ تو یہ رات بڑی ہے
میرے گھر کے تمام دروازے تم سے کرتے ہیں پیار آ جاؤ
نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا مجھے تو ہوش دے اتنا رہوں میں تجھ پہ دیوانا
بہت دور تو کچھ نہیں گھر مرا چلے آؤ اک دن ٹہلتے ہوئے
قبول اس بارگہہ میں التجا کوئی نہیں ہوتی الٰہی یا مجھی کو التجا کرنا نہیں آتا
یہ التجا دعا یہ تمنا فضول ہے سوکھی ندی کے پاس سمندر نہ جائے گا
اب تو آ جاؤ رسم دنیا کی میں نے دیوار بھی گرا دی ہے
تیرا عاشق تیرے قدموں سے لپٹ جائے گا روٹھنے والے تجھے آج منانے کے لئے
ان سے ملنے کی التجا کی ہے دل ناداں نے یہ خطا کی ہے
مجھ سے اے دوست پھر خفا ہو جا عشق کو نیند آئی جاتی ہے
بس اتنا سوچ کر ہی مجھ کو اپنے پاس تم رکھ لو تمہارے واسطے میں حکمرانی چھوڑ آیا ہوں
ستم ہی کرنا جفا ہی کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرنا تمہیں قسم ہے ہمارے سر کی ہمارے حق میں کمی نہ کرنا
اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے
گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
اس شعر کا مزاج غزل کے رویتی مزاج سے ملتا ہے۔ چونکہ فیض نے ترقی پسند فکر کی ترجمانی میں بھی اردو شعریات کی روایت کا پورا لحاظ رکھا لہٰذا ان کی تخلیقات میں اگرچہ علامتی سطح پر ترقی پسند سوچ کی کارفرمائی دکھائی دیتی ہے تاہم ان کی شعری دنیا میں اور بھی امکانات موجود ہیں۔ جس کی سب سے بڑی مثال یہ مشہور شعر ہے۔ بادِ نو بہار کے معنی نئی بہار کی ہواہے۔ پہلے اس شعر کی تشریح ترقی پسند فکر کو مدِ نظر کرتے ہیں۔ فیض کی شکایت یہ رہی ہے کہ انقلاب رونما ہونے کے باوجود استحصال کی چکی میں پسنے والوں کی تقدیر نہیں بدلتی ۔ اس شعر میں اگر بادِ نو بہار کو انقلاب کی علامت مان لیا جائے تو شعر کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ گلشن (ملک، زمانہ وغیرہ) کا کاروبار تب تک نہیں چل سکتا جب تک کہ انقلاب اپنے صحیح معنوں میں نہیں آتا۔ اسی لئے وہ انقلاب یا بدلاؤ سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ جب تم رونما ہوجاؤ گے تب پھولوں میں نئی بہار کی ہوا تازگی لائی گی۔ اور اس طرح سے چمن کا کاروبار چلے گا۔ دوسرے معنوں میں وہ اپنے محبوب سے کہتے ہیں کہ تم اب آ بھی جاؤ تاکہ گلوں میں نئی بہار کی ہوا رنگ بھرے اور چمن کھل اٹھے۔ شفق سوپوری
اب تو مل جاؤ ہمیں تم کہ تمہاری خاطر اتنی دور آ گئے دنیا سے کنارا کرتے
آؤ مل جاؤ کہ یہ وقت نہ پاؤ گے کبھی میں بھی ہمراہ زمانہ کے بدل جاؤں گا
مانی ہیں میں نے سیکڑوں باتیں تمام عمر آج آپ ایک بات مری مان جائیے
میرے گھر کے تمام دروازے تم سے کرتے ہیں پیار آ جاؤ
ستم ہی کرنا جفا ہی کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرنا تمہیں قسم ہے ہمارے سر کی ہمارے حق میں کمی نہ کرنا
عشق میں شکوہ کفر ہے اور ہر التجا حرام توڑ دے کاسۂ مراد عشق گداگری نہیں
قبول اس بارگہہ میں التجا کوئی نہیں ہوتی الٰہی یا مجھی کو التجا کرنا نہیں آتا
عشق کو نغمۂ امید سنا دے آ کر دل کی سوئی ہوئی قسمت کو جگا دے آ کر
اب تو آ جاؤ رسم دنیا کی میں نے دیوار بھی گرا دی ہے
میرے کہنے میں ہے دل جب تک مرے پہلو میں ہے آپ لے لیجے اسے یہ آپ کا ہو جائے گا
ان سے ملنے کی التجا کی ہے دل ناداں نے یہ خطا کی ہے
ہم اس لمبے چوڑے گھر میں شب کو تنہا ہوتے ہیں دیکھ کسی دن آ مل ہم سے ہم کو تجھ سے کام ہے چاند
بس اتنا سوچ کر ہی مجھ کو اپنے پاس تم رکھ لو تمہارے واسطے میں حکمرانی چھوڑ آیا ہوں
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Iltija FAQs
Iltija collection me kya milega?
Iltija se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.