ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
Poetry Collection
Inquilab
Revolution is the ultimate stage after dissatisfaction, protest, and rebellion. It concerns all human societies. All poets in all languages have pondered and philosophized over the idea and experience of revolution. Urdu poets have also written copiously on this. Here are some examples for you to read and assess their thematic and literary worth.
Total
35
Sher
19
Ghazal
16
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
کچھ اصولوں کا نشہ تھا کچھ مقدس خواب تھے ہر زمانے میں شہادت کے یہی اسباب تھے
کوئی تو سود چکائے کوئی تو ذمہ لے اس انقلاب کا جو آج تک ادھار سا ہے
رنگ محفل چاہتا ہے اک مکمل انقلاب چند شمعوں کے بھڑکنے سے سحر ہوتی نہیں
کام ہے میرا تغیر نام ہے میرا شباب میرا نعرہ انقلاب و انقلاب و انقلاب
انقلاب آئے گا رفتار سے مایوس نہ ہو بہت آہستہ نہیں ہے جو بہت تیز نہیں
دیکھ رفتار انقلاب فراقؔ کتنی آہستہ اور کتنی تیز
انقلاب صبح کی کچھ کم نہیں یہ بھی دلیل پتھروں کو دے رہے ہیں آئنے کھل کر جواب
انقلابوں کی گھڑی ہے ہر نہیں ہاں سے بڑی ہے
جو ایک پل کے لیے خود بدل نہیں سکتے یہ کہہ رہے ہیں کہ سارا جہاں بدل ڈالو
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی
انقلابات دہر کی بنیاد حق جو حق دار تک نہیں پہنچا
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی
میرے سینے میں نہیں تو تیرے سینے میں سہی ہو کہیں بھی آگ لیکن آگ جلنی چاہئے
کچھ اصولوں کا نشہ تھا کچھ مقدس خواب تھے ہر زمانے میں شہادت کے یہی اسباب تھے
دنیا میں وہی شخص ہے تعظیم کے قابل جس شخص نے حالات کا رخ موڑ دیا ہو
رنگ محفل چاہتا ہے اک مکمل انقلاب چند شمعوں کے بھڑکنے سے سحر ہوتی نہیں
ستون دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے
انقلاب آئے گا رفتار سے مایوس نہ ہو بہت آہستہ نہیں ہے جو بہت تیز نہیں
یہ کہہ رہی ہے اشاروں میں گردش گردوں کہ جلد ہم کوئی سخت انقلاب دیکھیں گے
انقلاب صبح کی کچھ کم نہیں یہ بھی دلیل پتھروں کو دے رہے ہیں آئنے کھل کر جواب
بہت برباد ہیں لیکن صدائے انقلاب آئے وہیں سے وہ پکار اٹھے گا جو ذرہ جہاں ہوگا
انقلابات دہر کی بنیاد حق جو حق دار تک نہیں پہنچا
جو ایک پل کے لیے خود بدل نہیں سکتے یہ کہہ رہے ہیں کہ سارا جہاں بدل ڈالو
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Inquilab FAQs
Inquilab collection me kya milega?
Inquilab se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.