ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا
Poetry Collection
Insaan
Human beings belong to the category of God’s supreme creation. Man has to deserve to be a human being as it calls for great perseverance to achieve that status. Poetic discourses on men and human beings are spread in poetry in all languages. Here are a few samples from Urdu poets that you may like to read and enjoy.
Total
58
Sher
50
Ghazal
8
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
اسی لئے تو یہاں اب بھی اجنبی ہوں میں تمام لوگ فرشتے ہیں آدمی ہوں میں
بستی میں اپنی ہندو مسلماں جو بس گئے انساں کی شکل دیکھنے کو ہم ترس گئے
خود کو بکھرتے دیکھتے ہیں کچھ کر نہیں پاتے ہیں پھر بھی لوگ خداؤں جیسی باتیں کرتے ہیں
آدمی آدمی سے ملتا ہے دل مگر کم کسی سے ملتا ہے
میری رسوائی کے اسباب ہیں میرے اندر آدمی ہوں سو بہت خواب ہیں میرے اندر
مری زبان کے موسم بدلتے رہتے ہیں میں آدمی ہوں مرا اعتبار مت کرنا
اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوف ڈرتے ہیں اے زمین ترے آدمی سے ہم
سب سے پر امن واقعہ یہ ہے آدمی آدمی کو بھول گیا
بھیڑ تنہائیوں کا میلا ہے آدمی آدمی اکیلا ہے
اس دور میں انسان کا چہرہ نہیں ملتا کب سے میں نقابوں کی تہیں کھول رہا ہوں
دیوتاؤں کا خدا سے ہوگا کام آدمی کو آدمی درکار ہے
پھول کر لے نباہ کانٹوں سے آدمی ہی نہ آدمی سے ملے
جس کی ادا ادا پہ ہو انسانیت کو ناز مل جائے کاش ایسا بشر ڈھونڈتے ہیں ہم
گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا
کوئی ہندو کوئی مسلم کوئی عیسائی ہے سب نے انسان نہ بننے کی قسم کھائی ہے
گرجا میں مندروں میں اذانوں میں بٹ گیا ہوتے ہی صبح آدمی خانوں میں بٹ گیا
جانور آدمی فرشتہ خدا آدمی کی ہیں سیکڑوں قسمیں
ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا
ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
اسی لئے تو یہاں اب بھی اجنبی ہوں میں تمام لوگ فرشتے ہیں آدمی ہوں میں
سامنے ہے جو اسے لوگ برا کہتے ہیں جس کو دیکھا ہی نہیں اس کو خدا کہتے ہیں
بستی میں اپنی ہندو مسلماں جو بس گئے انساں کی شکل دیکھنے کو ہم ترس گئے
خود کو بکھرتے دیکھتے ہیں کچھ کر نہیں پاتے ہیں پھر بھی لوگ خداؤں جیسی باتیں کرتے ہیں
اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا وہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگا
آدمی آدمی سے ملتا ہے دل مگر کم کسی سے ملتا ہے
میری رسوائی کے اسباب ہیں میرے اندر آدمی ہوں سو بہت خواب ہیں میرے اندر
مری زبان کے موسم بدلتے رہتے ہیں میں آدمی ہوں مرا اعتبار مت کرنا
اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوف ڈرتے ہیں اے زمین ترے آدمی سے ہم
آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا
جانور آدمی فرشتہ خدا آدمی کی ہیں سیکڑوں قسمیں
بھیڑ تنہائیوں کا میلا ہے آدمی آدمی اکیلا ہے
ہزار چہرے ہیں موجود آدمی غائب یہ کس خرابے میں دنیا نے لا کے چھوڑ دیا
دیوتاؤں کا خدا سے ہوگا کام آدمی کو آدمی درکار ہے
فرشتہ ہے تو تقدس تجھے مبارک ہو ہم آدمی ہیں تو عیب و ہنر بھی رکھتے ہیں
جس کی ادا ادا پہ ہو انسانیت کو ناز مل جائے کاش ایسا بشر ڈھونڈتے ہیں ہم
آدمی کا آدمی ہر حال میں ہمدرد ہو اک توجہ چاہئے انساں کو انساں کی طرف
Explore Similar Collections
Insaan FAQs
Insaan collection me kya milega?
Insaan se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.