مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
Poetry Collection
Intezar
Intezar shayari aptly captures the turmoil of a man while he is waiting for someone, something. Enjoy the outstanding urdu shayari that we have compiled for all those who are still waiting their turn.
Total
60
Sher
50
Ghazal
10
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
وہ آ رہے ہیں وہ آتے ہیں آ رہے ہوں گے شب فراق یہ کہہ کر گزار دی ہم نے
تیرے آنے کی کیا امید مگر کیسے کہہ دوں کہ انتظار نہیں
وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے
جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ وصل سے انتظار اچھا تھا
میں لوٹنے کے ارادے سے جا رہا ہوں مگر سفر سفر ہے مرا انتظار مت کرنا
غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا تمام رات قیامت کا انتظار کیا
جس کی آنکھوں میں کٹی تھیں صدیاں اس نے صدیوں کی جدائی دی ہے
مجھ کو یہ آرزو وہ اٹھائیں نقاب خود ان کو یہ انتظار تقاضا کرے کوئی
کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا
میں نے سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی
کہیں وہ آ کے مٹا دیں نہ انتظار کا لطف کہیں قبول نہ ہو جائے التجا میری
اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں آنے والے برسوں بعد بھی آتے ہیں
گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
اس شعر کا مزاج غزل کے رویتی مزاج سے ملتا ہے۔ چونکہ فیض نے ترقی پسند فکر کی ترجمانی میں بھی اردو شعریات کی روایت کا پورا لحاظ رکھا لہٰذا ان کی تخلیقات میں اگرچہ علامتی سطح پر ترقی پسند سوچ کی کارفرمائی دکھائی دیتی ہے تاہم ان کی شعری دنیا میں اور بھی امکانات موجود ہیں۔ جس کی سب سے بڑی مثال یہ مشہور شعر ہے۔ بادِ نو بہار کے معنی نئی بہار کی ہواہے۔ پہلے اس شعر کی تشریح ترقی پسند فکر کو مدِ نظر کرتے ہیں۔ فیض کی شکایت یہ رہی ہے کہ انقلاب رونما ہونے کے باوجود استحصال کی چکی میں پسنے والوں کی تقدیر نہیں بدلتی ۔ اس شعر میں اگر بادِ نو بہار کو انقلاب کی علامت مان لیا جائے تو شعر کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ گلشن (ملک، زمانہ وغیرہ) کا کاروبار تب تک نہیں چل سکتا جب تک کہ انقلاب اپنے صحیح معنوں میں نہیں آتا۔ اسی لئے وہ انقلاب یا بدلاؤ سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ جب تم رونما ہوجاؤ گے تب پھولوں میں نئی بہار کی ہوا تازگی لائی گی۔ اور اس طرح سے چمن کا کاروبار چلے گا۔ دوسرے معنوں میں وہ اپنے محبوب سے کہتے ہیں کہ تم اب آ بھی جاؤ تاکہ گلوں میں نئی بہار کی ہوا رنگ بھرے اور چمن کھل اٹھے۔ شفق سوپوری
نہ کوئی وعدہ نہ کوئی یقیں نہ کوئی امید مگر ہمیں تو ترا انتظار کرنا تھا
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر
وہ چاند کہہ کے گیا تھا کہ آج نکلے گا تو انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں شام سے میں
اک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میں ایسے بھی ہیں کہ کٹ نہ سکی جن سے ایک رات
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
وہ آ رہے ہیں وہ آتے ہیں آ رہے ہوں گے شب فراق یہ کہہ کر گزار دی ہم نے
گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
اس شعر کا مزاج غزل کے رویتی مزاج سے ملتا ہے۔ چونکہ فیض نے ترقی پسند فکر کی ترجمانی میں بھی اردو شعریات کی روایت کا پورا لحاظ رکھا لہٰذا ان کی تخلیقات میں اگرچہ علامتی سطح پر ترقی پسند سوچ کی کارفرمائی دکھائی دیتی ہے تاہم ان کی شعری دنیا میں اور بھی امکانات موجود ہیں۔ جس کی سب سے بڑی مثال یہ مشہور شعر ہے۔ بادِ نو بہار کے معنی نئی بہار کی ہواہے۔ پہلے اس شعر کی تشریح ترقی پسند فکر کو مدِ نظر کرتے ہیں۔ فیض کی شکایت یہ رہی ہے کہ انقلاب رونما ہونے کے باوجود استحصال کی چکی میں پسنے والوں کی تقدیر نہیں بدلتی ۔ اس شعر میں اگر بادِ نو بہار کو انقلاب کی علامت مان لیا جائے تو شعر کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ گلشن (ملک، زمانہ وغیرہ) کا کاروبار تب تک نہیں چل سکتا جب تک کہ انقلاب اپنے صحیح معنوں میں نہیں آتا۔ اسی لئے وہ انقلاب یا بدلاؤ سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ جب تم رونما ہوجاؤ گے تب پھولوں میں نئی بہار کی ہوا تازگی لائی گی۔ اور اس طرح سے چمن کا کاروبار چلے گا۔ دوسرے معنوں میں وہ اپنے محبوب سے کہتے ہیں کہ تم اب آ بھی جاؤ تاکہ گلوں میں نئی بہار کی ہوا رنگ بھرے اور چمن کھل اٹھے۔ شفق سوپوری
نہ کوئی وعدہ نہ کوئی یقیں نہ کوئی امید مگر ہمیں تو ترا انتظار کرنا تھا
یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں تو آ کے جا بھی چکا ہے، میں انتظار میں ہوں
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے
باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر
مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہا یہ حادثہ تھا کہ میں عمر بھر سفر میں رہا
غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا تمام رات قیامت کا انتظار کیا
جانتا ہے کہ وہ نہ آئیں گے پھر بھی مصروف انتظار ہے دل
سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی تم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گی
جس کی آنکھوں میں کٹی تھیں صدیاں اس نے صدیوں کی جدائی دی ہے
بے خودی لے گئی کہاں ہم کو دیر سے انتظار ہے اپنا
کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا
شب انتظار کی کشمکش میں نہ پوچھ کیسے سحر ہوئی کبھی اک چراغ جلا دیا کبھی اک چراغ بجھا دیا
اک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میں ایسے بھی ہیں کہ کٹ نہ سکی جن سے ایک رات
کہیں وہ آ کے مٹا دیں نہ انتظار کا لطف کہیں قبول نہ ہو جائے التجا میری
اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں آنے والے برسوں بعد بھی آتے ہیں
Explore Similar Collections
Intezar FAQs
Intezar collection me kya milega?
Intezar se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.