Poetry Collection

Justaju

Curiosity, or will to explore, keeps us going all our lives. This may take any turn and apply to any walk of life. One could be curious about one’s own self, about the world around, or the beloved, even God who stays unreachable in spite of all efforts to reach out to Him. This selection on justujuu would bring certain interesting facets of this experience.

Total

42

Sher

31

Ghazal

11

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی

اے شخص میں تیری جستجو سے بے زار نہیں ہوں تھک گیا ہوں

سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں نگاہیں کیا بات ہے میں وقت پہ گھر کیوں نہیں جاتا

پا سکیں گے نہ عمر بھر جس کو جستجو آج بھی اسی کی ہے

تری آرزو تری جستجو میں بھٹک رہا تھا گلی گلی مری داستاں تری زلف ہے جو بکھر بکھر کے سنور گئی

جستجو کرنی ہر اک امر میں نادانی ہے جو کہ پیشانی پہ لکھی ہے وہ پیش آنی ہے

کھویا ہے کچھ ضرور جو اس کی تلاش میں ہر چیز کو ادھر سے ادھر کر رہے ہیں ہم

ورنہ انسان مر گیا ہوتا کوئی بے نام جستجو ہے ابھی

جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے چاند کے ہم راہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے

تلاطم آرزو میں ہے نہ طوفاں جستجو میں ہے جوانی کا گزر جانا ہے دریا کا اتر جانا

ہم کہ مایوس نہیں ہیں انہیں پا ہی لیں گے لوگ کہتے ہیں کہ ڈھونڈے سے خدا ملتا ہے

~ Arsh Siddiqui

تری تلاش میں نکلے تو اتنی دور گئے کہ ہم سے طے نہ ہوئے فاصلے جدائی کے

میں یہ چاہتا ہوں کہ عمر بھر رہے تشنگی مرے عشق میں کوئی جستجو رہے درمیاں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی

جس حسن کی ہے چشم تمنا کو جستجو وہ آفتاب میں ہے نہ ہے ماہتاب میں

کہاں سے آئی تھی آخر تری طلب مجھ میں خدا نے مجھ کو بنایا تو میں اکیلا تھا

اسی اقبالؔ کی میں جستجو کرتا رہا برسوں بڑی مدت کے بعد آخر وہ شاہیں زیر دام آیا

اپنے ہونے سے بھی انکار کئے جاتے ہیں تیرے ہونے کا یقیں خود کو دلاتے ہوئے ہم

نہیں کہ زندگی ہمیں کہاں کہاں لئے پھری ہے یوں کہ ہم گئے اسے کہاں کہاں لئے ہوئے

نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی

اے شخص میں تیری جستجو سے بے زار نہیں ہوں تھک گیا ہوں

سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں نگاہیں کیا بات ہے میں وقت پہ گھر کیوں نہیں جاتا

پا سکیں گے نہ عمر بھر جس کو جستجو آج بھی اسی کی ہے

تری آرزو تری جستجو میں بھٹک رہا تھا گلی گلی مری داستاں تری زلف ہے جو بکھر بکھر کے سنور گئی

جستجو کرنی ہر اک امر میں نادانی ہے جو کہ پیشانی پہ لکھی ہے وہ پیش آنی ہے

کھویا ہے کچھ ضرور جو اس کی تلاش میں ہر چیز کو ادھر سے ادھر کر رہے ہیں ہم

ورنہ انسان مر گیا ہوتا کوئی بے نام جستجو ہے ابھی

جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے چاند کے ہم راہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے

تلاطم آرزو میں ہے نہ طوفاں جستجو میں ہے جوانی کا گزر جانا ہے دریا کا اتر جانا

ہم کہ مایوس نہیں ہیں انہیں پا ہی لیں گے لوگ کہتے ہیں کہ ڈھونڈے سے خدا ملتا ہے

~ Arsh Siddiqui

تری تلاش میں نکلے تو اتنی دور گئے کہ ہم سے طے نہ ہوئے فاصلے جدائی کے

میں یہ چاہتا ہوں کہ عمر بھر رہے تشنگی مرے عشق میں کوئی جستجو رہے درمیاں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی

جس حسن کی ہے چشم تمنا کو جستجو وہ آفتاب میں ہے نہ ہے ماہتاب میں

کہاں سے آئی تھی آخر تری طلب مجھ میں خدا نے مجھ کو بنایا تو میں اکیلا تھا

اسی اقبالؔ کی میں جستجو کرتا رہا برسوں بڑی مدت کے بعد آخر وہ شاہیں زیر دام آیا

اپنے ہونے سے بھی انکار کئے جاتے ہیں تیرے ہونے کا یقیں خود کو دلاتے ہوئے ہم

نہیں کہ زندگی ہمیں کہاں کہاں لئے پھری ہے یوں کہ ہم گئے اسے کہاں کہاں لئے ہوئے

Explore Similar Collections

Justaju FAQs

Justaju collection me kya milega?

Justaju se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.