ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو جائے
Poetry Collection
Kashmakash
It is difficult sometimes to arrive at a desired point as there are forces that pull us apart and deter us from arriving. This state of dilemma is a state of test for us. It calls for a resolution. This is spread over all preoccupations of our lives—personal, social, political, even religious which tear us apart between the states of belief and disbelief. These verses would help you appreciate the various conditions of dilemma that life is filled with.
Total
31
Sher
16
Ghazal
15
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
مجھے بھی لمحۂ ہجرت نے کر دیا تقسیم نگاہ گھر کی طرف ہے قدم سفر کی طرف
ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے قفس میں مرا دم آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے
سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں لیکن اس ترک محبت کا بھروسا بھی نہیں
یہ کس عذاب میں چھوڑا ہے تو نے اس دل کو سکون یاد میں تیری نہ بھولنے میں قرار
ہے عجب سی کشمکش دل میں اثرؔ کس کو بھولیں کس کو رکھیں یاد ہم
یہ سوچتے ہی رہے اور بہار ختم ہوئی کہاں چمن میں نشیمن بنے کہاں نہ بنے
پھڑکوں تو سر پھٹے ہے نہ پھڑکوں تو جی گھٹے تنگ اس قدر دیا مجھے صیاد نے قفس
تم سے ملنا بھی ہے ملنا بھی نہیں ہے تم سے آؤ تم سے سر بازار کہیں ملتے ہیں
کشمکش دل میں ہے یہ برسوں سے آس کس کی ہے یاس کس کی ہے
ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو جائے
ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
مجھے بھی لمحۂ ہجرت نے کر دیا تقسیم نگاہ گھر کی طرف ہے قدم سفر کی طرف
ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے قفس میں مرا دم آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے
سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں لیکن اس ترک محبت کا بھروسا بھی نہیں
یہ کس عذاب میں چھوڑا ہے تو نے اس دل کو سکون یاد میں تیری نہ بھولنے میں قرار
ہے عجب سی کشمکش دل میں اثرؔ کس کو بھولیں کس کو رکھیں یاد ہم
یہ سوچتے ہی رہے اور بہار ختم ہوئی کہاں چمن میں نشیمن بنے کہاں نہ بنے
پھڑکوں تو سر پھٹے ہے نہ پھڑکوں تو جی گھٹے تنگ اس قدر دیا مجھے صیاد نے قفس
تم سے ملنا بھی ہے ملنا بھی نہیں ہے تم سے آؤ تم سے سر بازار کہیں ملتے ہیں
کشمکش دل میں ہے یہ برسوں سے آس کس کی ہے یاس کس کی ہے
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Kashmakash FAQs
Kashmakash collection me kya milega?
Kashmakash se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.