غم اور خوشی میں فرق نہ محسوس ہو جہاں میں دل کو اس مقام پہ لاتا چلا گیا
Poetry Collection
Khushi
While pain is a perennial state, happiness is a passing season. In spite of this, they go hand in hand and punctuate our lives. In real terms, happiness has often been elusive and plays tricks with human beings. Here are some verses on this theme.
Total
27
Sher
25
Ghazal
2
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے بے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے
وہ خوش ہوا کہ اس کو خسارا نہیں ہوا میں رو رہا تھا میرا سہارا چلا گیا
ایک وہ ہیں کہ جنہیں اپنی خوشی لے ڈوبی ایک ہم ہیں کہ جنہیں غم نے ابھرنے نہ دیا
میں بد نصیب ہوں مجھ کو نہ دے خوشی اتنی کہ میں خوشی کو بھی لے کر خراب کر دوں گا
مجھے خبر نہیں غم کیا ہے اور خوشی کیا ہے یہ زندگی کی ہے صورت تو زندگی کیا ہے
مسرت زندگی کا دوسرا نام مسرت کی تمنا مستقل غم
تیرے آنے سے یو خوشی ہے دل جوں کہ بلبل بہار کی خاطر
سنتے ہیں خوشی بھی ہے زمانے میں کوئی چیز ہم ڈھونڈتے پھرتے ہیں کدھر ہے یہ کہاں ہے
عیش ہی عیش ہے نہ سب غم ہے زندگی اک حسین سنگم ہے
اگر تیری خوشی ہے تیرے بندوں کی مسرت میں تو اے میرے خدا تیری خوشی سے کچھ نہیں ہوتا
پھر دے کے خوشی ہم اسے ناشاد کریں کیوں غم ہی سے طبیعت ہے اگر شاد کسی کی
سفید پوشیٔ دل کا بھرم بھی رکھنا ہے تری خوشی کے لیے تیرا غم بھی رکھنا ہے
صوت کیا شے ہے خامشی کیا ہے غم کسے کہتے ہیں خوشی کیا ہے
ساری خوشی ہماری آنکھوں سے چھن رہی ہے کچھ دیر تم نے گیسو لہرا دیئے تو کیا ہے
ارے او آسماں والے بتا اس میں برا کیا ہے خوشی کے چار جھونکے گر ادھر سے بھی گزر جائیں
وصل کی رات خوشی نے مجھے سونے نہ دیا میں بھی بے دار رہا طالع بے دار کے ساتھ
غم اور خوشی میں فرق نہ محسوس ہو جہاں میں دل کو اس مقام پہ لاتا چلا گیا
اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے بے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے
وہ خوش ہوا کہ اس کو خسارا نہیں ہوا میں رو رہا تھا میرا سہارا چلا گیا
ایک وہ ہیں کہ جنہیں اپنی خوشی لے ڈوبی ایک ہم ہیں کہ جنہیں غم نے ابھرنے نہ دیا
احباب کو دے رہا ہوں دھوکا چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں
میں بد نصیب ہوں مجھ کو نہ دے خوشی اتنی کہ میں خوشی کو بھی لے کر خراب کر دوں گا
وہ دل لے کے خوش ہیں مجھے یہ خوشی ہے کہ پاس ان کے رہتا ہوں میں دور ہو کر
مسرت زندگی کا دوسرا نام مسرت کی تمنا مستقل غم
تمام عمر خوشی کی تلاش میں گزری تمام عمر ترستے رہے خوشی کے لیے
سنتے ہیں خوشی بھی ہے زمانے میں کوئی چیز ہم ڈھونڈتے پھرتے ہیں کدھر ہے یہ کہاں ہے
دلوں کو تیرے تبسم کی یاد یوں آئی کہ جگمگا اٹھیں جس طرح مندروں میں چراغ
اگر تیری خوشی ہے تیرے بندوں کی مسرت میں تو اے میرے خدا تیری خوشی سے کچھ نہیں ہوتا
کچھ اس ادا سے محبت شناس ہونا ہے خوشی کے باب میں مجھ کو اداس ہونا ہے
سفید پوشیٔ دل کا بھرم بھی رکھنا ہے تری خوشی کے لیے تیرا غم بھی رکھنا ہے
جیسے اس کا کبھی یہ گھر ہی نہ تھا دل میں برسوں خوشی نہیں آتی
ڈھونڈ لایا ہوں خوشی کی چھاؤں جس کے واسطے ایک غم سے بھی اسے دو چار کرنا ہے مجھے
ساری خوشی ہماری آنکھوں سے چھن رہی ہے کچھ دیر تم نے گیسو لہرا دیئے تو کیا ہے
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Khushi FAQs
Khushi collection me kya milega?
Khushi se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.