Poetry Collection

Maikada

Tavern is a place in Urdu poetry which has emerged as a powerful symbol. This is the place where the pious ones meet the profane ones and shy away from each other. A tavern is also an institution with its own constituents like the cup bearer, the preacher, and the mosque etc. This selection of verses on tavern will bring you to a different world where you will meet with a diverse set of characters and situations.

Total

57

Sher

50

Ghazal

7

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں

آئے تھے ہنستے کھیلتے مے خانے میں فراقؔ جب پی چکے شراب تو سنجیدہ ہو گئے

میں مے کدے کی راہ سے ہو کر نکل گیا ورنہ سفر حیات کا کافی طویل تھا

نہ تم ہوش میں ہو نہ ہم ہوش میں ہیں چلو مے کدہ میں وہیں بات ہوگی

گزرے ہیں میکدے سے جو توبہ کے بعد ہم کچھ دور عادتاً بھی قدم ڈگمگائے ہیں

سرک کر آ گئیں زلفیں جو ان مخمور آنکھوں تک میں یہ سمجھا کہ مے خانے پہ بدلی چھائی جاتی ہے

مے خانے میں کیوں یاد خدا ہوتی ہے اکثر مسجد میں تو ذکر مے و مینا نہیں ہوتا

ایک ایسی بھی تجلی آج مے خانے میں ہے لطف پینے میں نہیں ہے بلکہ کھو جانے میں ہے

کوئی سمجھائے کہ کیا رنگ ہے میخانے کا آنکھ ساقی کی اٹھے نام ہو پیمانے کا

تیری مسجد میں واعظ خاص ہیں اوقات رحمت کے ہمارے مے کدے میں رات دن رحمت برستی ہے

روح کس مست کی پیاسی گئی مے خانے سے مے اڑی جاتی ہے ساقی ترے پیمانے سے

اخیر وقت ہے کس منہ سے جاؤں مسجد کو تمام عمر تو گزری شراب خانے میں

کوئی دن آگے بھی زاہد عجب زمانہ تھا ہر اک محلہ کی مسجد شراب خانہ تھا

مے خانہ سلامت ہے تو ہم سرخیٔ مے سے تزئین در و بام حرم کرتے رہیں گے

جب مے کدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قید مسجد ہو مدرسہ ہو کوئی خانقاہ ہو

پیار ہی پیار ہے سب لوگ برابر ہیں یہاں مے کدہ میں کوئی چھوٹا نہ بڑا جام اٹھا

مے خانے میں مزار ہمارا اگر بنا دنیا یہی کہے گی کہ جنت میں گھر بنا

مسجد میں بلاتے ہیں ہمیں زاہد نا فہم ہوتا کچھ اگر ہوش تو مے خانے نہ جاتے

اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں

آئے تھے ہنستے کھیلتے مے خانے میں فراقؔ جب پی چکے شراب تو سنجیدہ ہو گئے

میں مے کدے کی راہ سے ہو کر نکل گیا ورنہ سفر حیات کا کافی طویل تھا

نہ تم ہوش میں ہو نہ ہم ہوش میں ہیں چلو مے کدہ میں وہیں بات ہوگی

گزرے ہیں میکدے سے جو توبہ کے بعد ہم کچھ دور عادتاً بھی قدم ڈگمگائے ہیں

سرک کر آ گئیں زلفیں جو ان مخمور آنکھوں تک میں یہ سمجھا کہ مے خانے پہ بدلی چھائی جاتی ہے

دور سے آئے تھے ساقی سن کے مے خانے کو ہم بس ترستے ہی چلے افسوس پیمانے کو ہم

مے خانے میں کیوں یاد خدا ہوتی ہے اکثر مسجد میں تو ذکر مے و مینا نہیں ہوتا

دن رات مے کدے میں گزرتی تھی زندگی اخترؔ وہ بے خودی کے زمانے کدھر گئے

کبھی تو دیر و حرم سے تو آئے گا واپس میں مے کدے میں ترا انتظار کر لوں گا

جب مے کدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قید مسجد ہو مدرسہ ہو کوئی خانقاہ ہو

تیری مسجد میں واعظ خاص ہیں اوقات رحمت کے ہمارے مے کدے میں رات دن رحمت برستی ہے

پیار ہی پیار ہے سب لوگ برابر ہیں یہاں مے کدہ میں کوئی چھوٹا نہ بڑا جام اٹھا

رند جو ظرف اٹھا لیں وہی ساغر بن جائے جس جگہ بیٹھ کے پی لیں وہی مے خانہ بنے

مسجد میں بلاتے ہیں ہمیں زاہد نا فہم ہوتا کچھ اگر ہوش تو مے خانے نہ جاتے

روح کس مست کی پیاسی گئی مے خانے سے مے اڑی جاتی ہے ساقی ترے پیمانے سے

یہ کہہ دو حضرت ناصح سے گر سمجھانے آئے ہیں کہ ہم دیر و حرم ہوتے ہوئے مے خانے آئے ہیں

کوئی دن آگے بھی زاہد عجب زمانہ تھا ہر اک محلہ کی مسجد شراب خانہ تھا

جا سکے نہ مسجد تک جمع تھے بہت زاہد میکدے میں آ بیٹھے جب نہ راستا پایا

Explore Similar Collections

Maikada FAQs

Maikada collection me kya milega?

Maikada se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.