کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا
Poetry Collection
Majburi
Helplessness is a terrible state to be in. Those who are helpless can measure its pain but others can only be apathetic to this condition of living. Helplessness, however, also impels men to collect their strength in order to challenge the state of helplessness, and emerge victorious. Some of the verses here underline various states of helplessness we suffer.
Total
37
Sher
22
Ghazal
15
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
کرسی ہے تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے
یہ میرے عشق کی مجبوریاں معاذ اللہ تمہارا راز تمہیں سے چھپا رہا ہوں میں
زندگی ہے اپنے قبضے میں نہ اپنے بس میں موت آدمی مجبور ہے اور کس قدر مجبور ہے
مری مجبوریاں کیا پوچھتے ہو کہ جینے کے لیے مجبور ہوں میں
احسان زندگی پہ کئے جا رہے ہیں ہم من تو نہیں ہے پھر بھی جیے جا رہے ہیں ہم
زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں ہائے اس قید کو زنجیر بھی درکار نہیں
کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔ مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا
جو کچھ پڑتی ہے سر پر سب اٹھاتا ہے محبت میں جہاں دل آ گیا پھر آدمی مجبور ہوتا ہے
میں نے سامان سفر باندھ کے پھر کھول دیا ایک تصویر نے دیکھا مجھے الماری سے
نجانے کون سی مجبوریاں ہیں جن کے لیے خود اپنی ذات سے انکار کرنا پڑتا ہے
دشمن مجھ پر غالب بھی آ سکتا ہے ہار مری مجبوری بھی ہو سکتی ہے
پر کٹے پنچھیوں سے پوچھتے ہو تم میں اڑنے کا حوصلہ ہے کیا
ہائے محبت کی مجبوری رونا بھی آسان نہیں ہے
رسم و رواج چھوڑ کے سب آ گئے یہاں رکھی ہوئی ہیں طاق میں اب غیرتیں تمام
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا
کرسی ہے تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے
یہ میرے عشق کی مجبوریاں معاذ اللہ تمہارا راز تمہیں سے چھپا رہا ہوں میں
زندگی ہے اپنے قبضے میں نہ اپنے بس میں موت آدمی مجبور ہے اور کس قدر مجبور ہے
مری مجبوریاں کیا پوچھتے ہو کہ جینے کے لیے مجبور ہوں میں
احسان زندگی پہ کئے جا رہے ہیں ہم من تو نہیں ہے پھر بھی جیے جا رہے ہیں ہم
ہائے سیمابؔ اس کی مجبوری جس نے کی ہو شباب میں توبہ
زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں ہائے اس قید کو زنجیر بھی درکار نہیں
وحشتیں عشق اور مجبوری کیا کسی خاص امتحان میں ہوں
جو کچھ پڑتی ہے سر پر سب اٹھاتا ہے محبت میں جہاں دل آ گیا پھر آدمی مجبور ہوتا ہے
میں چاہتا ہوں اسے اور چاہنے کے سوا مرے لیے تو کوئی اور راستا بھی نہیں
نجانے کون سی مجبوریاں ہیں جن کے لیے خود اپنی ذات سے انکار کرنا پڑتا ہے
آزادیوں کے شوق و ہوس نے ہمیں عدیلؔ اک اجنبی زمین کا قیدی بنا دیا
پر کٹے پنچھیوں سے پوچھتے ہو تم میں اڑنے کا حوصلہ ہے کیا
ہائے محبت کی مجبوری رونا بھی آسان نہیں ہے
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Majburi FAQs
Majburi collection me kya milega?
Majburi se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.