ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
Poetry Collection
Meer Taqi Meer
Mir Taqi Mir has been used by a number of poets as a subject in their poetry. All poets who wrote after Mir acknowledged him as a master. While reading these verses you may see how Mir has been a healthy obsession with the poets through ages.
Total
50
Sher
50
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
شاگرد ہیں ہم میرؔ سے استاد کے راسخؔ استادوں کا استاد ہے استاد ہمارا
سوداؔ تو اس غزل کو غزل در غزل ہی کہہ ہونا ہے تجھ کو میرؔ سے استاد کی طرف
عشق بن جینے کے آداب نہیں آتے ہیں میرؔ صاحب نے کہا ہے کہ میاں عشق کرو
شعر میرے بھی ہیں پر درد ولیکن حسرتؔ میرؔ کا شیوۂ گفتار کہاں سے لاؤں
میرؔ کا رنگ برتنا نہیں آساں اے داغؔ اپنے دیواں سے ملا دیکھیے دیواں ان کا
داغؔ کے شعر جوانی میں بھلے لگتے ہیں میرؔ کی کوئی غزل گاؤ کہ کچھ چین پڑے
تم پہ کیا خاک اثر ہوگا مرے شعروں کا تم کو تو میر تقی میرؔ نہیں کھینچ سکا
جب غزل میرؔ کی پڑھتا ہے پڑوسی میرا اک نمی سی مری دیوار میں آ جاتی ہے
شاعری میں میرؔ و غالبؔ کے زمانہ اب کہاں شہرتیں جب اتنی سستی ہوں ادب دیکھے گا کون
شبہ ناسخؔ نہیں کچھ میرؔ کی استادی میں آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میرؔ نہیں
عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو باؤلے ہو جاؤ گے مہتاب مت دیکھا کرو
سخت مشکل تھا امتحان غزل میرؔ کی نقل کر کے پاس ہوئے
کل شام چھت پہ میر تقی میرؔ کی غزل میں گنگنا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے
جب بھی ٹوٹا مرے خوابوں کا حسیں تاج محل میں نے گھبرا کے کہی میرؔ کے لہجے میں غزل
اک میرؔ تھا سو آج بھی کاغذ میں قید ہے ہندی غزل کا دوسرا اوتار میں ہی ہوں
آج غالب ہے مرے سر پر عشق آج میں میرؔ ہوا چاہتا ہوں
تمہاری یاد بھی چپکے سے آ کے بیٹھ گئی غزل جو میرؔ کی اک گنگنا رہا تھا میں
غالبؔ اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخؔ آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میرؔ نہیں
گزرے بہت استاد مگر رنگ اثر میں بے مثل ہے حسرتؔ سخن میرؔ ابھی تک
ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
شاگرد ہیں ہم میرؔ سے استاد کے راسخؔ استادوں کا استاد ہے استاد ہمارا
ہمارے پیر تقی میرؔ نے کہا تھا کبھی میاں یہ عاشقی عزت بگاڑ دیتی ہے
سوداؔ تو اس غزل کو غزل در غزل ہی کہہ ہونا ہے تجھ کو میرؔ سے استاد کی طرف
کہہ دو میرؔ و غالبؔ سے ہم بھی شعر کہتے ہیں وہ صدی تمہاری تھی یہ صدی ہماری ہے
شعر میرے بھی ہیں پر درد ولیکن حسرتؔ میرؔ کا شیوۂ گفتار کہاں سے لاؤں
حالیؔ سخن میں شیفتہؔ سے مستفید ہے غالبؔ کا معتقد ہے مقلد ہے میرؔ کا
داغؔ کے شعر جوانی میں بھلے لگتے ہیں میرؔ کی کوئی غزل گاؤ کہ کچھ چین پڑے
ہمارا میرؔ جی سے متفق ہونا ہے نا ممکن اٹھانا ہے جو پتھر عشق کا تو ہلکا بھاری کیا
جب غزل میرؔ کی پڑھتا ہے پڑوسی میرا اک نمی سی مری دیوار میں آ جاتی ہے
شاعری میں میرؔ و غالبؔ کے زمانہ اب کہاں شہرتیں جب اتنی سستی ہوں ادب دیکھے گا کون
اب خدا مغفرت کرے اس کی میرؔ مرحوم تھا عجب کوئی
عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو باؤلے ہو جاؤ گے مہتاب مت دیکھا کرو
میں ہوں کیا چیز جو اس طرز پہ جاؤں اکبرؔ ناسخؔ و ذوقؔ بھی جب چل نہ سکے میرؔ کے ساتھ
سخت مشکل تھا امتحان غزل میرؔ کی نقل کر کے پاس ہوئے
کل شام چھت پہ میر تقی میرؔ کی غزل میں گنگنا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے
جب بھی ٹوٹا مرے خوابوں کا حسیں تاج محل میں نے گھبرا کے کہی میرؔ کے لہجے میں غزل
اک میرؔ تھا سو آج بھی کاغذ میں قید ہے ہندی غزل کا دوسرا اوتار میں ہی ہوں
آج غالب ہے مرے سر پر عشق آج میں میرؔ ہوا چاہتا ہوں
تمہاری یاد بھی چپکے سے آ کے بیٹھ گئی غزل جو میرؔ کی اک گنگنا رہا تھا میں
Explore Similar Collections
Meer Taqi Meer FAQs
Meer Taqi Meer collection me kya milega?
Meer Taqi Meer se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.