خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
Poetry Collection
Naqab
Veil has been a subject of great interest to both poets and readers of poetry. The beloved keeps herself in veil and causes much suffering to the lovers who die to steal a look which he cannot get so easily. It also happens sometimes that the beloved fails in hiding herself behind the veil which both amuses and pleases the lover. You may like to see some of these conditions here.
Total
33
Sher
32
Ghazal
1
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
اتنے حجابوں پر تو یہ عالم ہے حسن کا کیا حال ہو جو دیکھ لیں پردہ اٹھا کے ہم
ہزار چہرے ہیں موجود آدمی غائب یہ کس خرابے میں دنیا نے لا کے چھوڑ دیا
اس دور میں انسان کا چہرہ نہیں ملتا کب سے میں نقابوں کی تہیں کھول رہا ہوں
ابھی رات کچھ ہے باقی نہ اٹھا نقاب ساقی ترا رند گرتے گرتے کہیں پھر سنبھل نہ جائے
دیکھ کر ہم کو نہ پردے میں تو چھپ جایا کر ہم تو اپنے ہیں میاں غیر سے شرمایا کر
چراغ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے ذرا نقاب اٹھاؤ بڑا اندھیرا ہے
خول چہروں پہ چڑھانے نہیں آتے ہم کو گاؤں کے لوگ ہیں ہم شہر میں کم آتے ہیں
کب تک چھپاؤگے رخ زیبا نقاب میں برق جمال رہ نہیں سکتا حجاب میں
ہے دیکھنے والوں کو سنبھلنے کا اشارا تھوڑی سی نقاب آج وہ سرکائے ہوئے ہیں
اسی امید پر تو جی رہے ہیں ہجر کے مارے کبھی تو رخ سے اٹھے گی نقاب آہستہ آہستہ
دیدار سے پہلے ہی کیا حال ہوا دل کا کیا ہوگا جو الٹیں گے وہ رخ سے نقاب آخر
ذرا نقاب حسیں رخ سے تم الٹ دینا ہم اپنے دیدہ و دل کا غرور دیکھیں گے
اگرچہ وہ بے پردہ آئے ہوئے ہیں چھپانے کی چیزیں چھپائے ہوئے ہیں
آنکھوں کو دیکھنے کا سلیقہ جب آ گیا کتنے نقاب چہرۂ اسرار سے اٹھے
ذرا پردہ ہٹا دو سامنے سے بجلیاں چمکیں مرا دل جلوہ گاہ طور بن جائے تو اچھا ہو
نقاب کہتی ہے میں پردۂ قیامت ہوں اگر یقین نہ ہو دیکھ لو اٹھا کے مجھے
الٹی اک ہاتھ سے نقاب ان کی ایک سے اپنے دل کو تھام لیا
کسی میں تاب کہاں تھی کہ دیکھتا ان کو اٹھی نقاب تو حیرت نقاب ہو کے رہی
دیکھتا میں اسے کیوں کر کہ نقاب اٹھتے ہی بن کے دیوار کھڑی ہو گئی حیرت میری
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
اتنے حجابوں پر تو یہ عالم ہے حسن کا کیا حال ہو جو دیکھ لیں پردہ اٹھا کے ہم
ہزار چہرے ہیں موجود آدمی غائب یہ کس خرابے میں دنیا نے لا کے چھوڑ دیا
اس دور میں انسان کا چہرہ نہیں ملتا کب سے میں نقابوں کی تہیں کھول رہا ہوں
ابھی رات کچھ ہے باقی نہ اٹھا نقاب ساقی ترا رند گرتے گرتے کہیں پھر سنبھل نہ جائے
دیکھ کر ہم کو نہ پردے میں تو چھپ جایا کر ہم تو اپنے ہیں میاں غیر سے شرمایا کر
چراغ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے ذرا نقاب اٹھاؤ بڑا اندھیرا ہے
خول چہروں پہ چڑھانے نہیں آتے ہم کو گاؤں کے لوگ ہیں ہم شہر میں کم آتے ہیں
کب تک چھپاؤگے رخ زیبا نقاب میں برق جمال رہ نہیں سکتا حجاب میں
ہے دیکھنے والوں کو سنبھلنے کا اشارا تھوڑی سی نقاب آج وہ سرکائے ہوئے ہیں
اسی امید پر تو جی رہے ہیں ہجر کے مارے کبھی تو رخ سے اٹھے گی نقاب آہستہ آہستہ
دیدار سے پہلے ہی کیا حال ہوا دل کا کیا ہوگا جو الٹیں گے وہ رخ سے نقاب آخر
نقاب رخ اٹھایا جا رہا ہے وہ نکلی دھوپ سایہ جا رہا ہے
ذرا نقاب حسیں رخ سے تم الٹ دینا ہم اپنے دیدہ و دل کا غرور دیکھیں گے
اگرچہ وہ بے پردہ آئے ہوئے ہیں چھپانے کی چیزیں چھپائے ہوئے ہیں
تیرے قربان قمرؔ منہ سر گلزار نہ کھول صدقے اس چاند سی صورت پہ نہ ہو جائے بہار
آنکھوں کو دیکھنے کا سلیقہ جب آ گیا کتنے نقاب چہرۂ اسرار سے اٹھے
اٹھ اے نقاب یار کہ بیٹھے ہیں دیر سے کتنے غریب دیدۂ پر نم لیے ہوئے
دیکھتا میں اسے کیوں کر کہ نقاب اٹھتے ہی بن کے دیوار کھڑی ہو گئی حیرت میری
ذرا پردہ ہٹا دو سامنے سے بجلیاں چمکیں مرا دل جلوہ گاہ طور بن جائے تو اچھا ہو
Explore Similar Collections
Naqab FAQs
Naqab collection me kya milega?
Naqab se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.