چلے تو پاؤں کے نیچے کچل گئی کوئی شے نشے کی جھونک میں دیکھا نہیں کہ دنیا ہے
Poetry Collection
Nasha
The idea and experience of intoxication has been represented variously in poetry. It does not necessarily refer to a condition one reaches after consuming wine. In mystical poetry, intoxication is a state of rapport with the divine. In both the cases, intoxication is a higher state of being. Here are some verses on this experience.
Total
42
Sher
25
Ghazal
17
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
اتنی پی جائے کہ مٹ جائے میں اور تو کی تمیز یعنی یہ ہوش کی دیوار گرا دی جائے
ترک مے ہی سمجھ اسے ناصح اتنی پی ہے کہ پی نہیں جاتی
ہم انتظار کریں ہم کو اتنی تاب نہیں پلا دو تم ہمیں پانی اگر شراب نہیں
خشک باتوں میں کہاں ہے شیخ کیف زندگی وہ تو پی کر ہی ملے گا جو مزا پینے میں ہے
اے گردشو تمہیں ذرا تاخیر ہو گئی اب میرا انتظار کرو میں نشے میں ہوں
عالم سے بے خبر بھی ہوں عالم میں بھی ہوں میں ساقی نے اس مقام کو آساں بنا دیا
مری شراب کی توبہ پہ جا نہ اے واعظ نشے کی بات نہیں اعتبار کے قابل
یہ واقعہ مری آنکھوں کے سامنے کا ہے شراب ناچ رہی تھی گلاس بیٹھے رہے
نشہ تھا زندگی کا شرابوں سے تیز تر ہم گر پڑے تو موت اٹھا لے گئی ہمیں
اتنی پی ہے کہ بعد توبہ بھی بے پیے بے خودی سی رہتی ہے
آنکھوں کو دیکھتے ہی بولے بن پئے کوئی مدہوش آیا
تا مرگ مجھ سے ترک نہ ہوگی کبھی نماز پر نشۂ شراب نے مجبور کر دیا
نشہ ٹوٹا نہیں ہے مار کھا کر کہ ہم نے پی ہے کم کھائی بہت ہے
نشے میں سوجھتی ہے مجھے دور دور کی ندی وہ سامنے ہے شراب طہور کی
توبہ بھی کر لی تھی یہ بھی نشہ کی تھی اک ترنگ آپ سمجھے تھے کہ بیخودؔ پارسا ہو جائے گا
اب میں حدود ہوش و خرد سے گزر گیا ٹھکراؤ چاہے پیار کرو میں نشے میں ہوں
چلے تو پاؤں کے نیچے کچل گئی کوئی شے نشے کی جھونک میں دیکھا نہیں کہ دنیا ہے
اتنی پی جائے کہ مٹ جائے میں اور تو کی تمیز یعنی یہ ہوش کی دیوار گرا دی جائے
ترک مے ہی سمجھ اسے ناصح اتنی پی ہے کہ پی نہیں جاتی
ہم انتظار کریں ہم کو اتنی تاب نہیں پلا دو تم ہمیں پانی اگر شراب نہیں
خشک باتوں میں کہاں ہے شیخ کیف زندگی وہ تو پی کر ہی ملے گا جو مزا پینے میں ہے
اے گردشو تمہیں ذرا تاخیر ہو گئی اب میرا انتظار کرو میں نشے میں ہوں
عالم سے بے خبر بھی ہوں عالم میں بھی ہوں میں ساقی نے اس مقام کو آساں بنا دیا
مری شراب کی توبہ پہ جا نہ اے واعظ نشے کی بات نہیں اعتبار کے قابل
یہ واقعہ مری آنکھوں کے سامنے کا ہے شراب ناچ رہی تھی گلاس بیٹھے رہے
نشہ تھا زندگی کا شرابوں سے تیز تر ہم گر پڑے تو موت اٹھا لے گئی ہمیں
اتنی پی ہے کہ بعد توبہ بھی بے پیے بے خودی سی رہتی ہے
آنکھوں کو دیکھتے ہی بولے بن پئے کوئی مدہوش آیا
یہ واعظ کیسی بہکی بہکی باتیں ہم سے کرتے ہیں کہیں چڑھ کر شراب عشق کے نشے اترتے ہیں
تا مرگ مجھ سے ترک نہ ہوگی کبھی نماز پر نشۂ شراب نے مجبور کر دیا
مے کدے میں نشہ کی عینک دکھاتی ہے مجھے آسماں مست و زمیں مست و در و دیوار مست
نشے میں سوجھتی ہے مجھے دور دور کی ندی وہ سامنے ہے شراب طہور کی
مست ہیں نشۂ جوانی سے کیا خبر آپ کو کسی دل کی
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Nasha FAQs
Nasha collection me kya milega?
Nasha se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.