ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ
Poetry Collection
Neend
Sleep is one of the subjects that the Urdu poets have written on quite frequently. It is important because it also brings dreams and with dream the beloved as well who is always craved for. The loss of sleep in love is yet another idea that engages the attention of poets. Here are some examples for you to enjoy.
Total
62
Sher
50
Ghazal
12
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
موت کا ایک دن معین ہے نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے
آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت مجھ کو تو نیند بھی نہیں آتی
نیند تو درد کے بستر پہ بھی آ سکتی ہے ان کی آغوش میں سر ہو یہ ضروری تو نہیں
یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہے نیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو
تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب وہ آئے تو بھی نیند نہ آئی تمام شب
سکون دے نہ سکیں راحتیں زمانے کی جو نیند آئی ترے غم کی چھاؤں میں آئی
شام سے ان کے تصور کا نشہ تھا اتنا نیند آئی ہے تو آنکھوں نے برا مانا ہے
نیند بھی جاگتی رہی پورے ہوئے نہ خواب بھی صبح ہوئی زمین پر رات ڈھلی مزار میں
ہمارے خواب چوری ہو گئے ہیں ہمیں راتوں کو نیند آتی نہیں ہے
نیند کو لوگ موت کہتے ہیں خواب کا نام زندگی بھی ہے
نیندوں میں پھر رہا ہوں اسے ڈھونڈھتا ہوا شامل جو ایک خواب مرے رتجگے میں تھا
کیسا جادو ہے سمجھ آتا نہیں نیند میری خواب سارے آپ کے
بھری رہے ابھی آنکھوں میں اس کے نام کی نیند وہ خواب ہے تو یونہی دیکھنے سے گزرے گا
کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے رات گئے تک کیوں جاگے ہو
دینے والے تو مجھے نیند نہ دے خواب تو دے مجھ کو مہتاب سے آگے بھی کہیں جانا ہے
چور ہے دل میں کچھ نہ کچھ یارو نیند پھر رات بھر نہ آئی آج
تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھر آنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں
معلوم تھیں مجھے تری مجبوریاں مگر تیرے بغیر نیند نہ آئی تمام رات
ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ
موت کا ایک دن معین ہے نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے
آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت مجھ کو تو نیند بھی نہیں آتی
نیند تو درد کے بستر پہ بھی آ سکتی ہے ان کی آغوش میں سر ہو یہ ضروری تو نہیں
یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہے نیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو
تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب وہ آئے تو بھی نیند نہ آئی تمام شب
وصل ہو یا فراق ہو اکبرؔ جاگنا رات بھر مصیبت ہے
مدت سے خواب میں بھی نہیں نیند کا خیال حیرت میں ہوں یہ کس کا مجھے انتظار ہے
تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھر آنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں
نیند بھی جاگتی رہی پورے ہوئے نہ خواب بھی صبح ہوئی زمین پر رات ڈھلی مزار میں
بہت کچھ تم سے کہنا تھا مگر میں کہہ نہ پایا لو میری ڈائری رکھ لو مجھے نیند آ رہی ہے
نیند کو لوگ موت کہتے ہیں خواب کا نام زندگی بھی ہے
معلوم تھیں مجھے تری مجبوریاں مگر تیرے بغیر نیند نہ آئی تمام رات
نیندوں میں پھر رہا ہوں اسے ڈھونڈھتا ہوا شامل جو ایک خواب مرے رتجگے میں تھا
کیسا جادو ہے سمجھ آتا نہیں نیند میری خواب سارے آپ کے
بھری رہے ابھی آنکھوں میں اس کے نام کی نیند وہ خواب ہے تو یونہی دیکھنے سے گزرے گا
کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے رات گئے تک کیوں جاگے ہو
اب آؤ مل کے سو رہیں تکرار ہو چکی آنکھوں میں نیند بھی ہے بہت رات کم بھی ہے
دینے والے تو مجھے نیند نہ دے خواب تو دے مجھ کو مہتاب سے آگے بھی کہیں جانا ہے
Explore Similar Collections
Neend FAQs
Neend collection me kya milega?
Neend se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.