آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیر جس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے
Poetry Collection
New Year
The arrival of a new year is a cause for celebration. It marks the end of one journey and the beginning of another. This is, however, a momentary pleasure and keeps us oblivious of the times that may not be as welcome as this one. These verses bring the pleasures that the New Year brings to us along with new promises.
Total
43
Sher
41
Ghazal
2
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی شام نئی ورنہ ان آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی
کچھ خوشیاں کچھ آنسو دے کر ٹال گیا جیون کا اک اور سنہرا سال گیا
نہ کوئی رنج کا لمحہ کسی کے پاس آئے خدا کرے کہ نیا سال سب کو راس آئے
کسی کو سال نو کی کیا مبارک باد دی جائے کلینڈر کے بدلنے سے مقدر کب بدلتا ہے
پھر نئے سال کی سرحد پہ کھڑے ہیں ہم لوگ راکھ ہو جائے گا یہ سال بھی حیرت کیسی
ایک برس اور بیت گیا کب تک خاک اڑانی ہے
اک اجنبی کے ہاتھ میں دے کر ہمارا ہاتھ لو ساتھ چھوڑنے لگا آخر یہ سال بھی
جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے اس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں
چہرے سے جھاڑ پچھلے برس کی کدورتیں دیوار سے پرانا کلینڈر اتار دے
دلہن بنی ہوئی ہیں راہیں جشن مناؤ سال نو کے
پچھلا برس تو خون رلا کر گزر گیا کیا گل کھلائے گا یہ نیا سال دوستو
اک پل کا قرب ایک برس کا پھر انتظار آئی ہے جنوری تو دسمبر چلا گیا
سال نو آتا ہے تو محفوظ کر لیتا ہوں میں کچھ پرانے سے کلینڈر ذہن کی دیوار پر
مبارک مبارک نیا سال آیا خوشی کا سماں ساری دنیا پہ چھایا
ایک پتا شجر عمر سے لو اور گرا لوگ کہتے ہیں مبارک ہو نیا سال تمہیں
یہ کس نے فون پے دی سال نو کی تہنیت مجھ کو تمنا رقص کرتی ہے تخیل گنگناتا ہے
خدا کرے کہ یہ دن بار بار آتا رہے اور اپنے ساتھ خوشی کا خزانہ لاتا رہے
اب کے بار مل کے یوں سال نو منائیں گے رنجشیں بھلا کر ہم نفرتیں مٹائیں گے
آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیر جس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے
دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی شام نئی ورنہ ان آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی
نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہے کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے
یکم جنوری ہے نیا سال ہے دسمبر میں پوچھوں گا کیا حال ہے
نہ کوئی رنج کا لمحہ کسی کے پاس آئے خدا کرے کہ نیا سال سب کو راس آئے
عمر کا ایک اور سال گیا وقت پھر ہم پہ خاک ڈال گیا
پھر نئے سال کی سرحد پہ کھڑے ہیں ہم لوگ راکھ ہو جائے گا یہ سال بھی حیرت کیسی
پرانے سال کی ٹھٹھری ہوئی پرچھائیاں سمٹیں نئے دن کا نیا سورج افق پر اٹھتا آتا ہے
اک اجنبی کے ہاتھ میں دے کر ہمارا ہاتھ لو ساتھ چھوڑنے لگا آخر یہ سال بھی
ایک پتا شجر عمر سے لو اور گرا لوگ کہتے ہیں مبارک ہو نیا سال تمہیں
یہ کس نے فون پے دی سال نو کی تہنیت مجھ کو تمنا رقص کرتی ہے تخیل گنگناتا ہے
گزشتہ سال کوئی مصلحت رہی ہوگی گزشتہ سال کے سکھ اب کے سال دے مولا
چہرے سے جھاڑ پچھلے برس کی کدورتیں دیوار سے پرانا کلینڈر اتار دے
دلہن بنی ہوئی ہیں راہیں جشن مناؤ سال نو کے
نیا سال دیوار پر ٹانگ دے پرانے برس کا کلنڈر گرا
اب کے بار مل کے یوں سال نو منائیں گے رنجشیں بھلا کر ہم نفرتیں مٹائیں گے
نیا سال آیا ہے خوشیاں مناؤ نئے آسمانوں سے آنکھیں ملاؤ
اس گئے سال بڑے ظلم ہوئے ہیں مجھ پر اے نئے سال مسیحا کی طرح مل مجھ سے
سال نو آتا ہے تو محفوظ کر لیتا ہوں میں کچھ پرانے سے کلینڈر ذہن کی دیوار پر
Explore Similar Collections
New Year FAQs
New Year collection me kya milega?
New Year se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.