دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
Poetry Collection
Politics
Generally speaking, politics brings negative thoughts to our minds. Although it has its positive aspects as well, poets too have looked at politics and politicking rather negatively. In this selection you would come across various perspectives on politics that relate with those who play politics and offer political dispensation as a panacea.
Total
43
Sher
27
Ghazal
16
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
لیڈر جب آنسو بہا کر لوگوں سے کہتے ہیں کہ مذہب خطرے میں ہے تو اس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ مذہب ایسی چیز ہی نہیں کہ خطرے میں پڑ سکے، اگر کسی بات کا خطرہ ہے تو وہ لیڈروں کا ہے جو اپنا اُلّو سیدھا کرنے کے لئے مذہب کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
کرسی ہے تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے
نئے کردار آتے جا رہے ہیں مگر ناٹک پرانا چل رہا ہے
کانٹوں سے گزر جاتا ہوں دامن کو بچا کر پھولوں کی سیاست سے میں بیگانہ نہیں ہوں
دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں ڈھونڈوگے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا
بادشاہوں اور مطلق العنان حکمرانوں کی مستقل اور دل پسند سواری در حقیقت رعایا ہوتی ہے۔
عشق میں بھی سیاستیں نکلیں قربتوں میں بھی فاصلہ نکلا
ان سے امید نہ رکھ ہیں یہ سیاست والے یہ کسی سے بھی محبت نہیں کرنے والے
یہ سچ ہے رنگ بدلتا تھا وہ ہر اک لمحہ مگر وہی تو بہت کامیاب چہرا تھا
ایسا گلشن کی سیاست نے کیا ہے پابند ہم اسیران قفس آہ بھی کرنے کے نہیں
نئی لاشیں بچھانے کے لیے ہی گڑے مردے اکھاڑے جا رہے ہیں
pahle mazhab seenon mein hota tha, aaj-kal topiyon mein hota hai. siyaasat bhi ab topiyon mein chali aayi hai. zindaabaad topiyaan.
ہندوستان کو ان لیڈروں سے بچاؤ جو ملک کی فضا بگاڑ رہے ہیں اور عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔
siyaasat aur mazhab ki laash hamaare naam-war leader apne kandhe par uthaae phirte hain aur seedhe-saade logon ko jo har baat maan lene ke aadi hote hain ye kahte-phirte hain ki woh is laash ko az sar-e-nau zindagi bakhsh rahe hain.
یہ لوگ جو اپنے گھروں کا نظام درست نہیں کر سکتے، یہ لوگ جن کا کیریکٹر بے حد پست ہوتا ہے، سیاست کے میدان میں اپنے وطن کا نظام ٹھیک کرنے اور لوگوں کو اخلاقیات کا سبق دینے کے لئے نکلتے ہیں۔۔۔ کس قدر مضحکہ خیز چیز ہے!
mehnat-kash mazdooron ki sahi nafsiyaat kuch unka apna paseena hi ba-tareeq-e-ahsan bayaan kar sakta hai. usko daulat ke taur par istemaal kar ke uske paseene ki raushnaai mein qalam dubo-dubo kar grandeel lafzon mein manshoor likhne waale, ho sakta hai bade mukhlis aadmi hon, magar maaf kijiye main ab bhi unhein bahrupiya samajhta hun.
مجھ سے کیا بات لکھانی ہے کہ اب میرے لئے کبھی سونے کبھی چاندی کے قلم آتے ہیں
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
لیڈر جب آنسو بہا کر لوگوں سے کہتے ہیں کہ مذہب خطرے میں ہے تو اس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ مذہب ایسی چیز ہی نہیں کہ خطرے میں پڑ سکے، اگر کسی بات کا خطرہ ہے تو وہ لیڈروں کا ہے جو اپنا اُلّو سیدھا کرنے کے لئے مذہب کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
pahle mazhab seenon mein hota tha, aaj-kal topiyon mein hota hai. siyaasat bhi ab topiyon mein chali aayi hai. zindaabaad topiyaan.
کرسی ہے تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے
نئے کردار آتے جا رہے ہیں مگر ناٹک پرانا چل رہا ہے
yeh log jinhein urf-e-aam mein leader kahaa jaata hai, siyaasat aur mazhab ko langda, loolda aur zakhmi aadmi tasawwur karte hain.
siyaasat aur mazhab ki laash hamaare naam-war leader apne kandhe par uthaae phirte hain aur seedhe-saade logon ko jo har baat maan lene ke aadi hote hain ye kahte-phirte hain ki woh is laash ko az sar-e-nau zindagi bakhsh rahe hain.
کانٹوں سے گزر جاتا ہوں دامن کو بچا کر پھولوں کی سیاست سے میں بیگانہ نہیں ہوں
دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں ڈھونڈوگے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا
سیاسیات سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔ لیڈروں اور دوا فروشوں کو میں ایک ہی زمرے میں شمار کرتا ہوں۔ لیڈری اور دوا فروشی، یہ دونوں پیشے ہیں۔ دوا فروش اور لیڈر دونوں دوسروں کے نسخے استعمال کرتے ہیں۔
بادشاہوں اور مطلق العنان حکمرانوں کی مستقل اور دل پسند سواری در حقیقت رعایا ہوتی ہے۔
عشق میں بھی سیاستیں نکلیں قربتوں میں بھی فاصلہ نکلا
سمجھنے ہی نہیں دیتی سیاست ہم کو سچائی کبھی چہرہ نہیں ملتا کبھی درپن نہیں ملتا
ان سے امید نہ رکھ ہیں یہ سیاست والے یہ کسی سے بھی محبت نہیں کرنے والے
یہ سچ ہے رنگ بدلتا تھا وہ ہر اک لمحہ مگر وہی تو بہت کامیاب چہرا تھا
وہ تازہ دم ہیں نئے شعبدے دکھاتے ہوئے عوام تھکنے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
ایسا گلشن کی سیاست نے کیا ہے پابند ہم اسیران قفس آہ بھی کرنے کے نہیں
نئی لاشیں بچھانے کے لیے ہی گڑے مردے اکھاڑے جا رہے ہیں
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Politics FAQs
Politics collection me kya milega?
Politics se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.