اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں
Poetry Collection
Pyas
Thirst! It is not only the usual thirst that poets necessarily speak about. It is also the thirst for wine, for love, and for all such things that help us appreciate the meaning of lust and longing. Various facets of thirst are here for you to appreciate.
Total
42
Sher
38
Ghazal
4
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ جائیں
پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگی ساقی نے جیسے پیاس ملا دی شراب میں
ساقیا تشنگی کی تاب نہیں زہر دے دے اگر شراب نہیں
کتنے دنوں کے پیاسے ہوں گے یارو سوچو تو شبنم کا قطرہ بھی جن کو دریا لگتا ہے
پیاس بڑھتی جا رہی ہے بہتا دریا دیکھ کر بھاگتی جاتی ہیں لہریں یہ تماشا دیکھ کر
ایسی پیاس اور ایسا صبر دریا پانی پانی ہے
وہ مجبوری موت ہے جس میں کاسے کو بنیاد ملے پیاس کی شدت جب بڑھتی ہے ڈر لگتا ہے پانی سے
آج پی کر بھی وہی تشنہ لبی ہے ساقی لطف میں تیرے کہیں کوئی کمی ہے ساقی
ساقی مرے بھی دل کی طرف ٹک نگاہ کر لب تشنہ تیری بزم میں یہ جام رہ گیا
ساقی مجھے خمار ستائے ہے لا شراب مرتا ہوں تشنگی سے اے ظالم پلا شراب
جسے بھی پیاس بجھانی ہو میرے پاس رہے کبھی بھی اپنے لبوں سے چھلکنے لگتا ہوں
پھر اس کے بعد ہمیں تشنگی رہے نہ رہے کچھ اور دیر مروت سے کام لے ساقی
دو دریا بھی جب آپس میں ملتے ہیں دونوں اپنی اپنی پیاس بجھاتے ہیں
پیاس کی سلطنت نہیں مٹتی لاکھ دجلے بنا فرات بنا
اک جنم کے پیاسے بھی سیر ہوں تو ہم جانیں یوں تو رحمت یزداں چار سو برستی ہے
کیا کروں اے تشنگی تیرا مداوا بس وہ لب جن لبوں کو چھو کے پانی آگ بنتا جائے ہے
اس اہتمام سے اکثر اٹھے ہیں پیمانے کہ بوند بوند کو میں جانوں یا خدا جانے
آپ ساگر ہیں تو سیراب کریں پیاسے کو آپ بادل ہیں تو مجھ دشت پہ سایا کیجئے
وہ سامنے ہیں مگر تشنگی نہیں جاتی یہ کیا ستم ہے کہ دریا سراب جیسا ہے
اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں
بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ جائیں
پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگی ساقی نے جیسے پیاس ملا دی شراب میں
ساقیا تشنگی کی تاب نہیں زہر دے دے اگر شراب نہیں
کتنے دنوں کے پیاسے ہوں گے یارو سوچو تو شبنم کا قطرہ بھی جن کو دریا لگتا ہے
پیاس بڑھتی جا رہی ہے بہتا دریا دیکھ کر بھاگتی جاتی ہیں لہریں یہ تماشا دیکھ کر
وہ سامنے ہیں مگر تشنگی نہیں جاتی یہ کیا ستم ہے کہ دریا سراب جیسا ہے
ایسی پیاس اور ایسا صبر دریا پانی پانی ہے
روح کس مست کی پیاسی گئی مے خانے سے مے اڑی جاتی ہے ساقی ترے پیمانے سے
کمال تشنگی ہی سے بجھا لیتے ہیں پیاس اپنی اسی تپتے ہوئے صحرا کو ہم دریا سمجھتے ہیں
ساقی مرے بھی دل کی طرف ٹک نگاہ کر لب تشنہ تیری بزم میں یہ جام رہ گیا
ساحل تمام اشک ندامت سے اٹ گیا دریا سے کوئی شخص تو پیاسا پلٹ گیا
جسے بھی پیاس بجھانی ہو میرے پاس رہے کبھی بھی اپنے لبوں سے چھلکنے لگتا ہوں
حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے پیاس کا ذائقہ پانی کی طرح ہوتا ہے
دو دریا بھی جب آپس میں ملتے ہیں دونوں اپنی اپنی پیاس بجھاتے ہیں
تھا زہر کو ہونٹوں سے لگانا ہی مناسب ورنہ یہ مری تشنہ لبی کم نہیں ہوتی
اک جنم کے پیاسے بھی سیر ہوں تو ہم جانیں یوں تو رحمت یزداں چار سو برستی ہے
یہ سوچ کے دانستہ رہا اس سے بہت دور مغرور ہے دریا مجھے پیاسا نہ سمجھ لے
اس اہتمام سے اکثر اٹھے ہیں پیمانے کہ بوند بوند کو میں جانوں یا خدا جانے
کھینچ لائی جانب دریا ہمیں بھی تشنگی اب گلوئے خشک کا خنجر پہ رم ہونے کو ہے
Explore Similar Collections
Pyas FAQs
Pyas collection me kya milega?
Pyas se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.