قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
Poetry Collection
Qasid
A messenger is a stereotypical character in classical poetry. He does not only bring messages, he also helps develop lasting bonds. A lover lying in separation considers the messenger luckier than himself who can meet her and speak to her. Sometimes, even the messenger has to bear the onslaughts of love and has to pay for someone else’s love.
Total
45
Sher
44
Ghazal
1
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
کیا جانے کیا لکھا تھا اسے اضطراب میں قاصد کی لاش آئی ہے خط کے جواب میں
قاصد پیام شوق کو دینا بہت نہ طول کہنا فقط یہ ان سے کہ آنکھیں ترس گئیں
کوئی نام و نشاں پوچھے تو اے قاصد بتا دینا تخلص داغؔ ہے وہ عاشقوں کے دل میں رہتے ہیں
مرا خط اس نے پڑھا پڑھ کے نامہ بر سے کہا یہی جواب ہے اس کا کوئی جواب نہیں
قاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راہ لے اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے
تو دیکھ رہا ہے جو مرا حال ہے قاصد مجھ کو یہی کہنا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
اشکوں کے نشاں پرچۂ سادہ پہ ہیں قاصد اب کچھ نہ بیاں کر یہ عبارت ہی بہت ہے
وہ اور وعدہ وصل کا قاصد نہیں نہیں سچ سچ بتا یہ لفظ انہی کی زباں کے ہیں
خط دیکھ کر مرا مرے قاصد سے یوں کہا کیا گل نہیں ہوا وہ چراغ سحر ہنوز
کیا بھول گئے ہیں وہ مجھے پوچھنا قاصد نامہ کوئی مدت سے مرے کام نہ آیا
کسی کو بھیج کے خط ہائے یہ کیسا عذاب آیا کہ ہر اک پوچھتا ہے نامہ بر آیا جواب آیا
زباں قاصد کی مضطرؔ کاٹ لی جب ان کو خط بھیجا کہ آخر آدمی ہے تذکرہ شاید کہیں کر دے
قیامت ہے یہ کہہ کر اس نے لوٹایا ہے قاصد کو کہ ان کا تو ہر اک خط آخری پیغام ہوتا ہے
یا اس سے جواب خط لانا یا قاصد اتنا کہہ دینا بچنے کا نہیں بیمار ترا ارشاد اگر کچھ بھی نہ ہوا
پہنچے نہ وہاں تک یہ دعا مانگ رہا ہوں قاصد کو ادھر بھیج کے دھیان آئے ہے کیا کیا
قاصد پیام ان کا نہ کچھ دیر ابھی سنا رہنے دے محو لذت ذوق خبر مجھے
آتی ہے بات بات مجھے بار بار یاد کہتا ہوں دوڑ دوڑ کے قاصد سے راہ میں
آیا نہ پھر کے ایک بھی کوچے سے یار کے قاصد گیا نسیم گئی نامہ بر گیا
وہ کب سننے لگے قاصد مگر یوں ہی سنا دینا ملا کر دوسروں کی داستاں میں داستاں میری
قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
کیا جانے کیا لکھا تھا اسے اضطراب میں قاصد کی لاش آئی ہے خط کے جواب میں
قاصد پیام شوق کو دینا بہت نہ طول کہنا فقط یہ ان سے کہ آنکھیں ترس گئیں
کوئی نام و نشاں پوچھے تو اے قاصد بتا دینا تخلص داغؔ ہے وہ عاشقوں کے دل میں رہتے ہیں
مرا خط اس نے پڑھا پڑھ کے نامہ بر سے کہا یہی جواب ہے اس کا کوئی جواب نہیں
آتی ہے بات بات مجھے بار بار یاد کہتا ہوں دوڑ دوڑ کے قاصد سے راہ میں
مزا جب تھا کہ میرے منہ سے سنتے داستاں میری کہاں سے لائے گا قاصد دہن میرا زباں میری
تو دیکھ رہا ہے جو مرا حال ہے قاصد مجھ کو یہی کہنا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
مضمون سوجھتے ہیں ہزاروں نئے نئے قاصد یہ خط نہیں مرے غم کی کتاب ہے
وہ اور وعدہ وصل کا قاصد نہیں نہیں سچ سچ بتا یہ لفظ انہی کی زباں کے ہیں
آہ قاصد تو اب تلک نہ پھرا دل دھڑکتا ہے کیا ہوا ہوگا
کیا مرے حال پہ سچ مچ انہیں غم تھا قاصد تو نے دیکھا تھا ستارہ سر مژگاں کوئی
آیا نہ پھر کے ایک بھی کوچے سے یار کے قاصد گیا نسیم گئی نامہ بر گیا
کسی کو بھیج کے خط ہائے یہ کیسا عذاب آیا کہ ہر اک پوچھتا ہے نامہ بر آیا جواب آیا
زباں قاصد کی مضطرؔ کاٹ لی جب ان کو خط بھیجا کہ آخر آدمی ہے تذکرہ شاید کہیں کر دے
وہ کب سننے لگے قاصد مگر یوں ہی سنا دینا ملا کر دوسروں کی داستاں میں داستاں میری
قیامت ہے یہ کہہ کر اس نے لوٹایا ہے قاصد کو کہ ان کا تو ہر اک خط آخری پیغام ہوتا ہے
خط شوق کو پڑھ کے قاصد سے بولے یہ ہے کون دیوانہ خط لکھنے والا
پہنچے نہ وہاں تک یہ دعا مانگ رہا ہوں قاصد کو ادھر بھیج کے دھیان آئے ہے کیا کیا
جب اس نے مرا خط نہ چھوا ہاتھ سے اپنے قاصد نے بھی چپکا دیا دیوار سے کاغذ
Explore Similar Collections
Qasid FAQs
Qasid collection me kya milega?
Qasid se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.