کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا
Poetry Collection
Qismat
It is universally believed that we get what we are destined to get. As such, destiny is God-given which means that thoughts associated with destiny are essentially religious in nature. In addition, destiny is also a philosophical concept, as well as a concept which is often talked about by lovers for what they get or lose. Verses in this section would help you appreciate various aspects of destiny.
Total
53
Sher
50
Ghazal
3
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
کسی کے تم ہو کسی کا خدا ہے دنیا میں مرے نصیب میں تم بھی نہیں خدا بھی نہیں
تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا
یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا
بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا ہم جس پہ مر مٹے وہ ہمارا نہ ہو سکا
ہم کو نہ مل سکا تو فقط اک سکون دل اے زندگی وگرنہ زمانے میں کیا نہ تھا
روز وہ خواب میں آتے ہیں گلے ملنے کو میں جو سوتا ہوں تو جاگ اٹھتی ہے قسمت میری
ٹوٹ پڑتی تھیں گھٹائیں جن کی آنکھیں دیکھ کر وہ بھری برسات میں ترسے ہیں پانی کے لیے
نیرنگیٔ سیاست دوراں تو دیکھیے منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
جستجو کرنی ہر اک امر میں نادانی ہے جو کہ پیشانی پہ لکھی ہے وہ پیش آنی ہے
کبھی سایہ ہے کبھی دھوپ مقدر میرا ہوتا رہتا ہے یوں ہی قرض برابر میرا
زور قسمت پہ چل نہیں سکتا خامشی اختیار کرتا ہوں
سنا ہے اب بھی مرے ہاتھ کی لکیروں میں نجومیوں کو مقدر دکھائی دیتا ہے
تدبیر سے قسمت کی برائی نہیں جاتی بگڑی ہوئی تقدیر بنائی نہیں جاتی
اپنی قسمت میں سبھی کچھ تھا مگر پھول نہ تھے تم اگر پھول نہ ہوتے تو ہمارے ہوتے
پھول کھلے ہیں گلشن گلشن لیکن اپنا اپنا دامن
میرے حواس عشق میں کیا کم ہیں منتشر مجنوں کا نام ہو گیا قسمت کی بات ہے
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں
تجھ سے قسمت میں مری صورت قفل ابجد تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا
کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
کسی کے تم ہو کسی کا خدا ہے دنیا میں مرے نصیب میں تم بھی نہیں خدا بھی نہیں
تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں
یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا
قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند کچھ دور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا
ہم کو نہ مل سکا تو فقط اک سکون دل اے زندگی وگرنہ زمانے میں کیا نہ تھا
کھو دیا تم کو تو ہم پوچھتے پھرتے ہیں یہی جس کی تقدیر بگڑ جائے وہ کرتا کیا ہے
ٹوٹ پڑتی تھیں گھٹائیں جن کی آنکھیں دیکھ کر وہ بھری برسات میں ترسے ہیں پانی کے لیے
کوئی منزل کے قریب آ کے بھٹک جاتا ہے کوئی منزل پہ پہنچتا ہے بھٹک جانے سے
تجھ سے قسمت میں مری صورت قفل ابجد تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا
کبھی سایہ ہے کبھی دھوپ مقدر میرا ہوتا رہتا ہے یوں ہی قرض برابر میرا
خوش نصیبی میں ہے یہی اک عیب بد نصیبوں کے گھر نہیں آتی
سنا ہے اب بھی مرے ہاتھ کی لکیروں میں نجومیوں کو مقدر دکھائی دیتا ہے
بعد مرنے کے مری قبر پہ آیا غافلؔ یاد آئی مرے عیسیٰ کو دوا میرے بعد
اپنی قسمت میں سبھی کچھ تھا مگر پھول نہ تھے تم اگر پھول نہ ہوتے تو ہمارے ہوتے
خدا توفیق دیتا ہے جنہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ خود اپنے ہی ہاتھوں سے بنا کرتی ہیں تقدیریں
کب ہنسا تھا جو یہ کہتے ہو کہ رونا ہوگا ہو رہے گا مری قسمت میں جو ہونا ہوگا
میرے حواس عشق میں کیا کم ہیں منتشر مجنوں کا نام ہو گیا قسمت کی بات ہے
Explore Similar Collections
Qismat FAQs
Qismat collection me kya milega?
Qismat se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.