اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
Poetry Collection
Romantic
You may well appreciate how dull this life would be without romance. This romance could be for anything—the images of nature, or those aspects related with human relationships. Life confronts us with its stark realities and we seek our redemption through romance with various objects of life. Here you have different facets of romance drawn from diverse manifestations of life.
Total
100
Sher
50
Ghazal
50
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
ہم نے اس کو اتنا دیکھا جتنا دیکھا جا سکتا تھا لیکن پھر بھی دو آنکھوں سے کتنا دیکھا جا سکتا تھا
عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا وہ تری یاد تھی اب یاد آیا
یارو کچھ تو ذکر کرو تم اس کی قیامت بانہوں کا وہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں وہ تو مر جاتے ہوں گے
میں تو غزل سنا کے اکیلا کھڑا رہا سب اپنے اپنے چاہنے والوں میں کھو گئے
تم سے بچھڑ کر زندہ ہیں جان بہت شرمندہ ہیں
سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
شدید پیاس تھی پھر بھی چھوا نہ پانی کو میں دیکھتا رہا دریا تری روانی کو
تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے
لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سے تیری آنکھوں نے تو کچھ اور کہا ہے مجھ سے
کون سی بات ہے تم میں ایسی اتنے اچھے کیوں لگتے ہو
تم کیا جانو اپنے آپ سے کتنا میں شرمندہ ہوں چھوٹ گیا ہے ساتھ تمہارا اور ابھی تک زندہ ہوں
مجھے تنہائی کی عادت ہے میری بات چھوڑیں یہ لیجے آپ کا گھر آ گیا ہے ہات چھوڑیں
نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی بڑی آرزو تھی ملاقات کی
تم مجھے چھوڑ کے جاؤ گے تو مر جاؤں گا یوں کرو جانے سے پہلے مجھے پاگل کر دو
پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا
آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں
جہاں میں ہونے کو اے دوست یوں تو سب ہوگا ترے لبوں پہ مرے لب ہوں ایسا کب ہوگا
وہ چہرہ کتابی رہا سامنے بڑی خوب صورت پڑھائی ہوئی
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
ہم نے اس کو اتنا دیکھا جتنا دیکھا جا سکتا تھا لیکن پھر بھی دو آنکھوں سے کتنا دیکھا جا سکتا تھا
عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے
نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی بڑی آرزو تھی ملاقات کی
ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ
یارو کچھ تو ذکر کرو تم اس کی قیامت بانہوں کا وہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں وہ تو مر جاتے ہوں گے
دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں کتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں
تم مجھے چھوڑ کے جاؤ گے تو مر جاؤں گا یوں کرو جانے سے پہلے مجھے پاگل کر دو
تم سے بچھڑ کر زندہ ہیں جان بہت شرمندہ ہیں
سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا
شدید پیاس تھی پھر بھی چھوا نہ پانی کو میں دیکھتا رہا دریا تری روانی کو
آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں
پوچھ لیتے وہ بس مزاج مرا کتنا آسان تھا علاج مرا
لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سے تیری آنکھوں نے تو کچھ اور کہا ہے مجھ سے
جہاں میں ہونے کو اے دوست یوں تو سب ہوگا ترے لبوں پہ مرے لب ہوں ایسا کب ہوگا
کون سی بات ہے تم میں ایسی اتنے اچھے کیوں لگتے ہو
آتے آتے مرا نام سا رہ گیا اس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا
مجھے تنہائی کی عادت ہے میری بات چھوڑیں یہ لیجے آپ کا گھر آ گیا ہے ہات چھوڑیں
اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا
Explore Similar Collections
Romantic FAQs
Romantic collection me kya milega?
Romantic se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.