میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
Poetry Collection
Safar
Human beings are always on the run. Slow or fast, they travel the terrain to reach their own destinations. Travelling exposes us to new spaces, brings us to new destinations, and new successes, some of which may sometimes even disappoint us. Here are some examples for you to think over the philosophy of travelling.
Total
56
Sher
50
Ghazal
6
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا
اس سفر میں نیند ایسی کھو گئی ہم نہ سوئے رات تھک کر سو گئی
مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہا یہ حادثہ تھا کہ میں عمر بھر سفر میں رہا
ڈر ہم کو بھی لگتا ہے رستے کے سناٹے سے لیکن ایک سفر پر اے دل اب جانا تو ہوگا
سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو سبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو
کس کی تلاش ہے ہمیں کس کے اثر میں ہیں جب سے چلے ہیں گھر سے مسلسل سفر میں ہیں
ہے کوئی جو بتائے شب کے مسافروں کو کتنا سفر ہوا ہے کتنا سفر رہا ہے
سفر میں کوئی کسی کے لیے ٹھہرتا نہیں نہ مڑ کے دیکھا کبھی ساحلوں کو دریا نے
آئے ٹھہرے اور روانہ ہو گئے زندگی کیا ہے، سفر کی بات ہے
نہیں ہوتی ہے راہ عشق میں آسان منزل سفر میں بھی تو صدیوں کی مسافت چاہئے ہے
ابھی سفر میں کوئی موڑ ہی نہیں آیا نکل گیا ہے یہ چپ چاپ داستان سے کون
طلسم خواب زلیخا و دام بردہ فروش ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں
میری تقدیر میں منزل نہیں ہے غبار کارواں ہے اور میں ہوں
کبھی میری طلب کچے گھڑے پر پار اترتی ہے کبھی محفوظ کشتی میں سفر کرنے سے ڈرتا ہوں
میں سفر میں ہوں مگر سمت سفر کوئی نہیں کیا میں خود اپنا ہی نقش کف پا ہوں کیا ہوں
رہ طلب میں کسے آرزوئے منزل ہے شعور ہو تو سفر خود سفر کا حاصل ہے
اپنی سی خاک اڑا کے بیٹھ رہے اپنا سا قافلہ بناتے ہوئے
نہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیں عجب سفر ہے کہ بس ہم سفر کو دیکھتے ہیں
ایک سفر وہ ہے جس میں پاؤں نہیں دل تھکتا ہے
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا
اس سفر میں نیند ایسی کھو گئی ہم نہ سوئے رات تھک کر سو گئی
مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہا یہ حادثہ تھا کہ میں عمر بھر سفر میں رہا
ڈر ہم کو بھی لگتا ہے رستے کے سناٹے سے لیکن ایک سفر پر اے دل اب جانا تو ہوگا
نہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیں عجب سفر ہے کہ بس ہم سفر کو دیکھتے ہیں
سفر میں ایسے کئی مرحلے بھی آتے ہیں ہر ایک موڑ پہ کچھ لوگ چھوٹ جاتے ہیں
ایک سفر وہ ہے جس میں پاؤں نہیں دل تھکتا ہے
ہے کوئی جو بتائے شب کے مسافروں کو کتنا سفر ہوا ہے کتنا سفر رہا ہے
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے ہزارہا شجر سایہ دار راہ میں ہے
آئے ٹھہرے اور روانہ ہو گئے زندگی کیا ہے، سفر کی بات ہے
گو آبلے ہیں پاؤں میں پھر بھی اے رہروو منزل کی جستجو ہے تو جاری رہے سفر
ابھی سفر میں کوئی موڑ ہی نہیں آیا نکل گیا ہے یہ چپ چاپ داستان سے کون
چلے تھے جس کی طرف وہ نشان ختم ہوا سفر ادھورا رہا آسمان ختم ہوا
میری تقدیر میں منزل نہیں ہے غبار کارواں ہے اور میں ہوں
میں اپنے آپ میں گہرا اتر گیا شاید مرے سفر سے الگ ہو گئی روانی مری
یہ بات یاد رکھیں گے تلاشنے والے جو اس سفر پہ گئے لوٹ کر نہیں آئے
میں سفر میں ہوں مگر سمت سفر کوئی نہیں کیا میں خود اپنا ہی نقش کف پا ہوں کیا ہوں
رہ طلب میں کسے آرزوئے منزل ہے شعور ہو تو سفر خود سفر کا حاصل ہے
اپنی سی خاک اڑا کے بیٹھ رہے اپنا سا قافلہ بناتے ہوئے
Explore Similar Collections
Safar FAQs
Safar collection me kya milega?
Safar se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.