بہار آئے تو میرا سلام کہہ دینا مجھے تو آج طلب کر لیا ہے صحرا نے
Poetry Collection
Sahra
While reading the stories of love in poetry you must have passed through wilderness many a time. It is here that the lover finds a space for his wild activities. And it is here only that love reaches its realisation. You may experience this strange world of wilderness in these verses.
Total
31
Sher
23
Ghazal
8
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
صحرا کو بہت ناز ہے ویرانی پہ اپنی واقف نہیں شاید مرے اجڑے ہوئے گھر سے
رکھی ہوئی ہے دونوں کی بنیاد ریت پر صحرائے بے کراں کو سمندر لکھیں گے ہم
عشق نے منصب لکھے جس دن مری تقدیر میں داغ کی نقدی ملی صحرا ملا جاگیر میں
کس نے صحرا میں مرے واسطے رکھی ہے یہ چھاؤں دھوپ روکے ہے مرا چاہنے والا کیسا
میں تو رہتا ہوں دشت میں مصروف قیس کرتا ہے کام کاج مرا
مجنوں سے یہ کہنا کہ مرے شہر میں آ جائے وحشت کے لیے ایک بیابان ابھی ہے
نہ ہم وحشت میں اپنے گھر سے نکلے نہ صحرا اپنی ویرانی سے نکلا
پہلے تمام شہر کو صحرا بنائیں گے پھر وحشتوں کی ریت پہ سویا کریں گے ہم
وحشی رقص چمکتے خنجر سرخ الاؤ جنگل جنگل کانٹے دار قبیلے پھول
بنجر دل سیراب تو ہوگا اشکوں سے صحرا آنکھوں کہو نا کیسے رو لوں میں
میرے عناصر خاک نہ ہوں بس رنگ بنیں اور جنگل صحرا دریا پر برسے رنگ
کہسار پہ چل کے روئیے اب صحرا تو بہت ڈبو چکے ہم
مجھے دریا، کبھی صحرا کے حوالے کر کے وہ کہانی کو نیا موڑ دیا کرتا تھا
ہمیں پکار نہ اب اے عروس شبنم و گل ہمیں نہ ڈھونڈھ کہ ہم بے کنار صحرا ہیں
وسعت صحرا بھی منہ اپنا چھپا کر نکلی ساری دنیا مرے کمرے کے برابر نکلی
بہار آئے تو میرا سلام کہہ دینا مجھے تو آج طلب کر لیا ہے صحرا نے
صحرا کو بہت ناز ہے ویرانی پہ اپنی واقف نہیں شاید مرے اجڑے ہوئے گھر سے
رکھی ہوئی ہے دونوں کی بنیاد ریت پر صحرائے بے کراں کو سمندر لکھیں گے ہم
وسعت صحرا بھی منہ اپنا چھپا کر نکلی ساری دنیا مرے کمرے کے برابر نکلی
ہو سکے کیا اپنی وحشت کا علاج میرے کوچے میں بھی صحرا چاہئے
کس نے صحرا میں مرے واسطے رکھی ہے یہ چھاؤں دھوپ روکے ہے مرا چاہنے والا کیسا
اب اس پہ چاند ستارے بھی رشک کرتے ہیں وہ اک دیا جو کبھی دشت میں بجھایا گیا
مجنوں سے یہ کہنا کہ مرے شہر میں آ جائے وحشت کے لیے ایک بیابان ابھی ہے
کیا خبر کب قید بام و در سے اکتا جائے دل بستیوں کے درمیاں صحرا بھی ہونا چاہیئے
پہلے تمام شہر کو صحرا بنائیں گے پھر وحشتوں کی ریت پہ سویا کریں گے ہم
آبلہ پائی ہماری رنگ لائی دشت میں خار صحرا تشنۂ خوں ہو کے نشتر ہو گئے
بنجر دل سیراب تو ہوگا اشکوں سے صحرا آنکھوں کہو نا کیسے رو لوں میں
پیغام تو ان کا آیا ہے تم شہر میں تشنہؔ آ جاؤ صحرا ہے پسندیدہ ہم کو ہم شہر میں جا کر کیا کرتے
کہسار پہ چل کے روئیے اب صحرا تو بہت ڈبو چکے ہم
میں بہتا دریا ہوں لیکن بیچ میں صحرا پڑ جاتا ہے
ہمیں پکار نہ اب اے عروس شبنم و گل ہمیں نہ ڈھونڈھ کہ ہم بے کنار صحرا ہیں
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Sahra FAQs
Sahra collection me kya milega?
Sahra se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.