تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر
Poetry Collection
Teer
Yes, teer, or arrow, too can be the subject of poetry. It is so because an arrow is not a mere physical object used in a war or duet, it is also a metaphor for even the beloved’s eyes. Poets have appropriated the image of arrow differently but always interestingly. Here are some examples.
Total
44
Sher
44
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
اک پرندہ ابھی اڑان میں ہے تیر ہر شخص کی کمان میں ہے
شکریہ ریشمی دلاسے کا تیر تو آپ نے بھی مارا تھا
زندگی کے حسین ترکش میں کتنے بے رحم تیر ہوتے ہیں
میٹھی باتیں، کبھی تلخ لہجے کے تیر دل پہ ہر دن ہے ان کا کرم بھی نیا
جنگ کا ہتھیار طے کچھ اور تھا تیر سینے میں اتارا اور ہے
یوں ترس کھا کے نہ پوچھو احوال تیر سینے پہ لگا ہو جیسے
کتنے ہی زخم ہیں مرے اک زخم میں چھپے کتنے ہی تیر آنے لگے اک نشان پر
بچ گیا تیر نگاہ یار سے واقعی آئینہ ہے فولاد کا
برساؤ تیر مجھ پہ مگر اتنا جان لو پہلو میں دل ہے دل میں تمہارا خیال ہے
تیر و کمان آپ بھی محسنؔ سنبھالیے جب دوستی کی آڑ میں خنجر دکھائی دے
یہ ناد علی کا عجب معجزہ تھا سبھی تیر پلٹے کمانوں کی جانب
وقت مہلت نہ دے گا پھر تم کو تیر جس دم کمان سے نکلا
کربلا میں رخ اصغر کی طرف تیر چلتے نہیں دیکھے جاتے
مرحلے اور آنے والے ہیں تیر اپنا ابھی کمان میں رکھ
تیرے مژگاں کی کیا کروں تعریف تیر یہ بے کمان جاتا ہے
چلے گا تیر جب اپنی دعا کا کلیجے دشمنوں کے چھان دے گا
محبت تیر ہے اور تیر باطن چھید دیتا ہے مگر نیت غلط ہو تو نشانے پر نہیں لگتا
نمی جگہ بنا رہی ہے آنکھ میں یہ تیر اب کمان سے نکالئے
زخم کاری بہت لگا دل پر تیر اپنوں نے اک چلایا تھا
تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر
اک پرندہ ابھی اڑان میں ہے تیر ہر شخص کی کمان میں ہے
شکریہ ریشمی دلاسے کا تیر تو آپ نے بھی مارا تھا
زندگی کے حسین ترکش میں کتنے بے رحم تیر ہوتے ہیں
میٹھی باتیں، کبھی تلخ لہجے کے تیر دل پہ ہر دن ہے ان کا کرم بھی نیا
جنگ کا ہتھیار طے کچھ اور تھا تیر سینے میں اتارا اور ہے
یوں ترس کھا کے نہ پوچھو احوال تیر سینے پہ لگا ہو جیسے
کتنے ہی زخم ہیں مرے اک زخم میں چھپے کتنے ہی تیر آنے لگے اک نشان پر
بچ گیا تیر نگاہ یار سے واقعی آئینہ ہے فولاد کا
برساؤ تیر مجھ پہ مگر اتنا جان لو پہلو میں دل ہے دل میں تمہارا خیال ہے
تیر و کمان آپ بھی محسنؔ سنبھالیے جب دوستی کی آڑ میں خنجر دکھائی دے
یہ ناد علی کا عجب معجزہ تھا سبھی تیر پلٹے کمانوں کی جانب
وقت مہلت نہ دے گا پھر تم کو تیر جس دم کمان سے نکلا
کربلا میں رخ اصغر کی طرف تیر چلتے نہیں دیکھے جاتے
مرحلے اور آنے والے ہیں تیر اپنا ابھی کمان میں رکھ
تیرے مژگاں کی کیا کروں تعریف تیر یہ بے کمان جاتا ہے
چلے گا تیر جب اپنی دعا کا کلیجے دشمنوں کے چھان دے گا
محبت تیر ہے اور تیر باطن چھید دیتا ہے مگر نیت غلط ہو تو نشانے پر نہیں لگتا
نمی جگہ بنا رہی ہے آنکھ میں یہ تیر اب کمان سے نکالئے
زخم کاری بہت لگا دل پر تیر اپنوں نے اک چلایا تھا
Explore Similar Collections
Teer FAQs
Teer collection me kya milega?
Teer se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.