آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
Poetry Collection
Aah
Ah! This is a stock expression of classical Urdu poetry. Usually, it is the sigh of one lover pining for the other in separation, or even in a state of union where something is amiss. This selection brings to you this state of emotional stress. Enjoy your reading.
Total
48
Sher
48
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں تو ہائے گل پکار میں چلاؤں ہائے دل
ہم نے ہنس ہنس کے تری بزم میں اے پیکر ناز کتنی آہوں کو چھپایا ہے تجھے کیا معلوم
کچھ درد کی شدت ہے کچھ پاس محبت ہے ہم آہ تو کرتے ہیں فریاد نہیں کرتے
مری آہ کا تم اثر دیکھ لینا وہ آئیں گے تھامے جگر دیکھ لینا
ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے قفس میں مرا دم آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے
وہ کون تھا وہ کہاں کا تھا کیا ہوا تھا اسے سنا ہے آج کوئی شخص مر گیا یارو
دل پر چوٹ پڑی ہے تب تو آہ لبوں تک آئی ہے یوں ہی چھن سے بول اٹھنا تو شیشہ کا دستور نہیں
درد الفت کا نہ ہو تو زندگی کا کیا مزا آہ و زاری زندگی ہے بے قراری زندگی
ضبط دیکھو ادھر نگاہ نہ کی مر گئے مرتے مرتے آہ نہ کی
پوچھا اگر کسی نے مرا آ کے حال دل بے اختیار آہ لبوں سے نکل گئی
آہ کرتا ہوں تو آتے ہیں پسینے ان کو نالہ کرتا ہوں تو راتوں کو وہ ڈر جاتے ہیں
شعر کیا ہے آہ ہے یا واہ ہے جس سے ہر دل کی ابھر آتی ہے چوٹ
عرش تک جاتی تھی اب لب تک بھی آ سکتی نہیں رحم آ جاتا ہے کیوں اب مجھ کو اپنی آہ پر
چمن پھونک ڈالوں گا آہ و فغاں سے وہ میرا نشیمن جلا کر تو دیکھیں
آہ کرتا ہوں تو آتی ہے پلٹ کر یہ صدا عاشقوں کے واسطے باب اثر کھلتا نہیں
بہت مضر دل عاشق کو آہ ہوتی ہے اسی ہوا سے یہ کشتی تباہ ہوتی ہے
جب سے جدا ہوا ہے وہ شوخ تب سے مجھ کو نت آہ آہ کرنا اور زار زار رونا
ایک ایسا بھی وقت ہوتا ہے مسکراہٹ بھی آہ ہوتی ہے
آہ! کل تک وہ نوازش! آج اتنی بے رخی کچھ تو نسبت چاہئے انجام کو آغاز سے
آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں تو ہائے گل پکار میں چلاؤں ہائے دل
ہم نے ہنس ہنس کے تری بزم میں اے پیکر ناز کتنی آہوں کو چھپایا ہے تجھے کیا معلوم
کچھ درد کی شدت ہے کچھ پاس محبت ہے ہم آہ تو کرتے ہیں فریاد نہیں کرتے
مری آہ کا تم اثر دیکھ لینا وہ آئیں گے تھامے جگر دیکھ لینا
ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے قفس میں مرا دم آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے
ایک ایسا بھی وقت ہوتا ہے مسکراہٹ بھی آہ ہوتی ہے
وہ کون تھا وہ کہاں کا تھا کیا ہوا تھا اسے سنا ہے آج کوئی شخص مر گیا یارو
کتاب عشق میں ہر آہ ایک آیت ہے پر آنسوؤں کو حروف مقطعات سمجھ
درد الفت کا نہ ہو تو زندگی کا کیا مزا آہ و زاری زندگی ہے بے قراری زندگی
آہ! کل تک وہ نوازش! آج اتنی بے رخی کچھ تو نسبت چاہئے انجام کو آغاز سے
ادھر سے بھی ہے سوا کچھ ادھر کی مجبوری کہ ہم نے آہ تو کی ان سے آہ بھی نہ ہوئی
پوچھا اگر کسی نے مرا آ کے حال دل بے اختیار آہ لبوں سے نکل گئی
آہ کرتا ہوں تو آتے ہیں پسینے ان کو نالہ کرتا ہوں تو راتوں کو وہ ڈر جاتے ہیں
شعر کیا ہے آہ ہے یا واہ ہے جس سے ہر دل کی ابھر آتی ہے چوٹ
عرش تک جاتی تھی اب لب تک بھی آ سکتی نہیں رحم آ جاتا ہے کیوں اب مجھ کو اپنی آہ پر
چمن پھونک ڈالوں گا آہ و فغاں سے وہ میرا نشیمن جلا کر تو دیکھیں
آہ کرتا ہوں تو آتی ہے پلٹ کر یہ صدا عاشقوں کے واسطے باب اثر کھلتا نہیں
بہت مضر دل عاشق کو آہ ہوتی ہے اسی ہوا سے یہ کشتی تباہ ہوتی ہے
جب سے جدا ہوا ہے وہ شوخ تب سے مجھ کو نت آہ آہ کرنا اور زار زار رونا
Explore Similar Collections
Aah FAQs
Aah collection me kya milega?
Aah se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.