پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگی ساقی نے جیسے پیاس ملا دی شراب میں
Poetry Collection
Saqi
The figure of saqi is an alien one in today’s world as he has been replaced by the bartender in a bar. In the olden days, saqi was the one who epitomised the institution of tavern and his eyes were more intoxicating than the glasses full of wine. In the classical poetry he represented a tradition and an institution. This selection will introduce you to the most interesting figure of saqi as represented in Urdu poetry.
Total
43
Sher
37
Ghazal
6
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
اجازت ہو تو میں تصدیق کر لوں تیری زلفوں سے سنا ہے زندگی اک خوبصورت دام ہے ساقی
ابھی رات کچھ ہے باقی نہ اٹھا نقاب ساقی ترا رند گرتے گرتے کہیں پھر سنبھل نہ جائے
تیز ہے آج درد دل ساقی تلخیٔ مے کو تیز تر کر دے
کوئی سمجھائے کہ کیا رنگ ہے میخانے کا آنکھ ساقی کی اٹھے نام ہو پیمانے کا
یہ دشمنی ہے ساقی یا دوستی ہے ساقی اوروں کو جام دینا مجھ کو دکھا دکھا کے
فریب ساقئ محفل نہ پوچھئے مجروحؔ شراب ایک ہے بدلے ہوئے ہیں پیمانے
روح کس مست کی پیاسی گئی مے خانے سے مے اڑی جاتی ہے ساقی ترے پیمانے سے
اثر نہ پوچھیے ساقی کی مست آنکھوں کا یہ دیکھیے کہ کوئی ہوشیار باقی ہے
واعظ کی آنکھیں کھل گئیں پیتے ہی ساقیا یہ جام مے تھا یا کوئی دریائے نور تھا
ساقی نے نگاہوں سے پلا دی ہے غضب کی رندان ازل دیکھیے کب ہوش میں آئیں
میں تو جب مانوں مری توبہ کے بعد کر کے مجبور پلا دے ساقی
یہ تھوڑی تھوڑی مے نہ دے کلائی موڑ موڑ کر بھلا ہو تیرا ساقیا پلا دے خم نچوڑ کر
آتی جاتی ہے جا بہ جا بدلی ساقیا جلد آ ہوا بدلی
شیخ حرم کا ذکر نہیں ہے مرے ندیم پیر مغاں کے کشف و کرامت کی بات ہے
ساقی ذرا نگاہ ملا کر تو دیکھنا کمبخت ہوش میں تو نہیں آ گیا ہوں میں
اذاں ہو رہی ہے پلا جلد ساقی عبادت کریں آج مخمور ہو کر
آتا ہے جی میں ساقئ مہ وش پہ بار بار لب چوم لوں ترا لب پیمانہ چھوڑ کر
ساقی تجھے اک تھوڑی سی تکلیف تو ہوگی ساغر کو ذرا تھام میں کچھ سوچ رہا ہوں
چشم ساقی مجھے ہر گام پہ یاد آتی ہے راستا بھول نہ جاؤں کہیں میخانے کا
پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگی ساقی نے جیسے پیاس ملا دی شراب میں
اجازت ہو تو میں تصدیق کر لوں تیری زلفوں سے سنا ہے زندگی اک خوبصورت دام ہے ساقی
ساقی ذرا نگاہ ملا کر تو دیکھنا کمبخت ہوش میں تو نہیں آ گیا ہوں میں
ابھی رات کچھ ہے باقی نہ اٹھا نقاب ساقی ترا رند گرتے گرتے کہیں پھر سنبھل نہ جائے
تیز ہے آج درد دل ساقی تلخیٔ مے کو تیز تر کر دے
کسی کی بزم کے حالات نے سمجھا دیا مجھ کو کہ جب ساقی نہیں اپنا تو مے اپنی نہ جام اپنا
کوئی سمجھائے کہ کیا رنگ ہے میخانے کا آنکھ ساقی کی اٹھے نام ہو پیمانے کا
آتا ہے جی میں ساقئ مہ وش پہ بار بار لب چوم لوں ترا لب پیمانہ چھوڑ کر
زبان ہوش سے یہ کفر سرزد ہو نہیں سکتا میں کیسے بن پئے لے لوں خدا کا نام اے ساقی
شراب بند ہو ساقی کے بس کی بات نہیں تمام شہر ہے دو چار دس کی بات نہیں
ساقی تجھے اک تھوڑی سی تکلیف تو ہوگی ساغر کو ذرا تھام میں کچھ سوچ رہا ہوں
روح کس مست کی پیاسی گئی مے خانے سے مے اڑی جاتی ہے ساقی ترے پیمانے سے
اثر نہ پوچھیے ساقی کی مست آنکھوں کا یہ دیکھیے کہ کوئی ہوشیار باقی ہے
چشم ساقی مجھے ہر گام پہ یاد آتی ہے راستا بھول نہ جاؤں کہیں میخانے کا
درد سر ہے خمار سے مجھ کو جلد لے کر شراب آ ساقی
ساقی نے نگاہوں سے پلا دی ہے غضب کی رندان ازل دیکھیے کب ہوش میں آئیں
میں تو جب مانوں مری توبہ کے بعد کر کے مجبور پلا دے ساقی
نہ واعظ ہجو کر ایک دن دنیا سے جانا ہے ارے منہ ساقی کوثر کو بھی آخر دکھانا ہے
آتی جاتی ہے جا بہ جا بدلی ساقیا جلد آ ہوا بدلی
پڑ گئی کیا نگہ مست ترے ساقی کی لڑکھڑاتے ہوئے مے خوار چلے آتے ہیں
Explore Similar Collections
Saqi FAQs
Saqi collection me kya milega?
Saqi se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.