hamara dil sawere ka sunahra jam ho jae
ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہو جائے کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے عجب حالات تھے یوں دل کا سودا ہو گیا آخر محبت کی حویلی جس طرح نیلام ہو جائے سمندر کے سفر میں اس طرح آواز دے ہم کو ہوائیں تیز ہوں اور کشتیوں میں شام ہو جائے مجھے معلوم ہے اس کا ٹھکانا پھر کہاں ہوگا پرندہ آسماں چھونے میں جب ناکام ہو جائے اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے