kya karoge bachav suraj ka jante ho subhav suraj ka garm hai vo to kam nahin ham bhi kaun sahta hai taao suraj ka mere ghar ka charaghh bujhte hi chadh gaya kitna bhaav suraj ka surmai shaam aae kamre men ab to parda hatao suraj ka raat se jang kar ke aaya hai taaza taaza hai ghaav suraj ka milne jaata hai raat se chhup kar ik fasana banao suraj ka asmanon se dosti kar ke badh gaya hai tanav suraj ka ho gai shaam sochte kya ho ab janaza uthao suraj ka raat bhar munh chhupae phirta raha kam nahin phir bhi taao suraj ka roz dariya kinare baith ke ham jodte hain ghatao suraj ka jugnuon se muqabla tha 'fahim' kaun karta bachao suraj ka kya karoge bachaw suraj ka jaante ho subhaw suraj ka garm hai wo to kam nahin hum bhi kaun sahta hai tao suraj ka mere ghar ka charagh bujhte hi chadh gaya kitna bhaw suraj ka surmai sham aae kamre mein ab to parda hatao suraj ka raat se jang kar ke aaya hai taza taza hai ghaw suraj ka milne jata hai raat se chhup kar ek fasana banao suraj ka aasmanon se dosti kar ke badh gaya hai tanaw suraj ka ho gai sham sochte kya ho ab janaza uthao suraj ka raat bhar munh chhupae phirta raha kam nahin phir bhi tao suraj ka roz dariya kinare baith ke hum jodte hain ghatao suraj ka jugnuon se muqabla tha 'fahim' kaun karta bachao suraj ka
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
More from Faheem Jogapuri
کیا کوئی تصویر بن سکتی ہے صورت کے بغیر پھروں کسی سے کیوں ملے کوئی ضرورت کے بغیر دشمنی تو چاہنے کی انتہا کا نام ہے یہ کہانی بھی ادھوری ہے محبت کے بغیر تیری یادیں ہوں گئیں چنو مقد سے آیتیں چین آتا ہی نہیں دل کو تلاوت کے بغیر دھوپ کی ہر سان سے گنتے شام تک جو آ گئے چھاؤں ہے وہ ہے وہ حقیقت کیا جیئیں جینے کی عادت کے بغیر بچ گیا تو دامن ا گر مری لہو کے داغ سے حقیقت میرا قاتل تو مر جائےگا شہرت کے بغیر ا سے کی سرداری سے اب انکار کرنا چاہیے روشنی دیتا نہیں سورج سیاست کے بغیر حسن کی دکان ہوں کہ عشق کا بازار ہوں یاں کوئی سودا نہیں ہے دل کی دولت کے بغیر استعمال چہرہ چھپاؤں کیسے بچوں سے فہیم شام آتی ہی نہیں گھر ہے وہ ہے وہ طہارت کے بغیر
Faheem Jogapuri
0 likes
اپنے قدم کی چاپ سے یوں ڈر رہے ہیں ہم مقتل کی سمت چنو سفر کر رہے ہیں ہم کیا چاند اور تاروں کو ہم جانتے نہیں اے آسمان والو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر رہے ہیں ہم مشکل تھا سطح آب سے ہم کو کھنگالنا باہر نہیں تھے جتنا کہ اندر رہے ہیں ہم کل اور کوئی سمے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہوں تو کیا اب تک تو ہر نگاہ کا محور رہے ہیں ہم صاحب فن سے اور بھی آگے نکل گئے ہاں عقل کی حدود سے باہر رہے ہیں ہم اے ہم سفر لگ پوچھ مسافت نصیب سے تو جانتا ہے کتنے دنوں گھر رہے ہیں ہم باہر لگ آئی ہم بھی انا کے حصار سے ا سے جنگ ہے وہ ہے وہ تمہارے برابر رہے ہیں ہم جھرنوں کی کیا بسات کریں گفتگو فہیم دریا گرے ج ہاں حقیقت سمندر رہے ہیں ہم
Faheem Jogapuri
0 likes
آنا تھا جسے آج حقیقت آیا تو نہیں ہے یہ سمے بدلنے کا اشارہ تو نہیں ہے دعوت دے کبھی کیوں حقیقت محبت سے بلائے دریا سے مری پیا سے کا رشتہ تو نہیں ہے یہ کون گیا تو ہے کہ جھپکتی نہیں آنکھیں رستے ہے وہ ہے وہ حقیقت ٹھہرا ہوا لمحہ تو نہیں ہے ہنستا ہوا چہرہ ہے دمکتا ہوا پیکر گزرا ہوا یہ میرا زما لگ تو نہیں ہے آنکھوں نے ابھی نیند کا دامن نہیں چھوڑا خوابوں سے بھروسا ابھی ٹوٹا تو نہیں ہے دریا ہے وہ ہے وہ سر شام ہے ڈوبا ہوا سورج دن بھر کا مسافر کوئی پیاسا تو نہیں ہے چھوڑ آئی ہوں ج سے کے لیے آنچل کی گھنی چھاؤں ا سے شہر ہے وہ ہے وہ حقیقت دھوپ کا ٹکڑا تو نہیں ہے رستے ہے وہ ہے وہ فہیم ا سے کی طبیعت کا بگڑنا گھر جانے کا اک اور بہانا تو نہیں ہے
Faheem Jogapuri
0 likes
شام خاموش ہے پیڑوں پہ اجالا کم ہے لوٹ آئی ہیں سبھی ایک پرندہ کم ہے دیکھ کر سوکھ گیا تو کیسے بدن کا پانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ کہتا تھا مری پیا سے سے دریا کم ہے خود سے ملنے کی کبھی گاؤں ہے وہ ہے وہ فرصت لگ ملی شہر آئی ہیں ی ہاں ملنا ملانا کم ہے آج کیوں آنکھوں ہے وہ ہے وہ پہلے سے نہیں ہیں آنسو آج کیا بات ہے کیوں موج ہے وہ ہے وہ دریا کم ہے اپنے مہمان کو پلکوں پہ بٹھا لیتی ہے کسانوں جانتی ہے گھر ہے وہ ہے وہ بچھونا کم ہے ب سے یہی سوچ کے کرنے لگے ہجرت آنسو اپنی لاشوں کے مقابل ی ہاں کانده کم ہے دل کی ہر بات زبان پر نہیں آتی ہے فہیم ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سوچا ہے زیادہ اسے لکھا کم ہے
Faheem Jogapuri
0 likes
دوستی ہے وہ ہے وہ لگ دشمنی ہے وہ ہے وہ ہم کیا نظر آئیں گے کسی ہے وہ ہے وہ ہم کیوں سجاتے ہیں خواب صدیوں کے چند لمحوں کی زندگی ہے وہ ہے وہ ہم سیر کرتے ہیں دونوں عالم کی اپنے خوابوں کی پالکی ہے وہ ہے وہ ہم جب تمہارا خیال آتا ہے ڈوب جاتے ہیں روشنی ہے وہ ہے وہ ہم کوئی آواز کیوں نہیں دیتا ڈگمگاتے ہیں تیرگی ہے وہ ہے وہ ہم پیا سے ہم کو کہی ستاتی ہے تیرتے ہیں کہی ن گرا ہے وہ ہے وہ ہم رات ہوتی تو کوئی بات لگ تھی لٹ گئے دن کی روشنی ہے وہ ہے وہ ہم اپنے ماضی سے بات کرتے ہیں تیری یادوں کی چاندنی ہے وہ ہے وہ ہم
Faheem Jogapuri
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Faheem Jogapuri.
Similar Moods
More moods that pair well with Faheem Jogapuri's ghazal.







