کیا کوئی تصویر بن سکتی ہے صورت کے بغیر پھروں کسی سے کیوں ملے کوئی ضرورت کے بغیر دشمنی تو چاہنے کی انتہا کا نام ہے یہ کہانی بھی ادھوری ہے محبت کے بغیر تیری یادیں ہوں گئیں چنو مقد سے آیتیں چین آتا ہی نہیں دل کو تلاوت کے بغیر دھوپ کی ہر سان سے گنتے شام تک جو آ گئے چھاؤں ہے وہ ہے وہ حقیقت کیا جیئیں جینے کی عادت کے بغیر بچ گیا تو دامن ا گر مری لہو کے داغ سے حقیقت میرا قاتل تو مر جائےگا شہرت کے بغیر ا سے کی سرداری سے اب انکار کرنا چاہیے روشنی دیتا نہیں سورج سیاست کے بغیر حسن کی دکان ہوں کہ عشق کا بازار ہوں یاں کوئی سودا نہیں ہے دل کی دولت کے بغیر استعمال چہرہ چھپاؤں کیسے بچوں سے فہیم شام آتی ہی نہیں گھر ہے وہ ہے وہ طہارت کے بغیر
Related Ghazal
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
More from Faheem Jogapuri
اپنے قدم کی چاپ سے یوں ڈر رہے ہیں ہم مقتل کی سمت چنو سفر کر رہے ہیں ہم کیا چاند اور تاروں کو ہم جانتے نہیں اے آسمان والو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر رہے ہیں ہم مشکل تھا سطح آب سے ہم کو کھنگالنا باہر نہیں تھے جتنا کہ اندر رہے ہیں ہم کل اور کوئی سمے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہوں تو کیا اب تک تو ہر نگاہ کا محور رہے ہیں ہم صاحب فن سے اور بھی آگے نکل گئے ہاں عقل کی حدود سے باہر رہے ہیں ہم اے ہم سفر لگ پوچھ مسافت نصیب سے تو جانتا ہے کتنے دنوں گھر رہے ہیں ہم باہر لگ آئی ہم بھی انا کے حصار سے ا سے جنگ ہے وہ ہے وہ تمہارے برابر رہے ہیں ہم جھرنوں کی کیا بسات کریں گفتگو فہیم دریا گرے ج ہاں حقیقت سمندر رہے ہیں ہم
Faheem Jogapuri
0 likes
شام خاموش ہے پیڑوں پہ اجالا کم ہے لوٹ آئی ہیں سبھی ایک پرندہ کم ہے دیکھ کر سوکھ گیا تو کیسے بدن کا پانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ کہتا تھا مری پیا سے سے دریا کم ہے خود سے ملنے کی کبھی گاؤں ہے وہ ہے وہ فرصت لگ ملی شہر آئی ہیں ی ہاں ملنا ملانا کم ہے آج کیوں آنکھوں ہے وہ ہے وہ پہلے سے نہیں ہیں آنسو آج کیا بات ہے کیوں موج ہے وہ ہے وہ دریا کم ہے اپنے مہمان کو پلکوں پہ بٹھا لیتی ہے کسانوں جانتی ہے گھر ہے وہ ہے وہ بچھونا کم ہے ب سے یہی سوچ کے کرنے لگے ہجرت آنسو اپنی لاشوں کے مقابل ی ہاں کانده کم ہے دل کی ہر بات زبان پر نہیں آتی ہے فہیم ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سوچا ہے زیادہ اسے لکھا کم ہے
Faheem Jogapuri
0 likes
دوستی ہے وہ ہے وہ لگ دشمنی ہے وہ ہے وہ ہم کیا نظر آئیں گے کسی ہے وہ ہے وہ ہم کیوں سجاتے ہیں خواب صدیوں کے چند لمحوں کی زندگی ہے وہ ہے وہ ہم سیر کرتے ہیں دونوں عالم کی اپنے خوابوں کی پالکی ہے وہ ہے وہ ہم جب تمہارا خیال آتا ہے ڈوب جاتے ہیں روشنی ہے وہ ہے وہ ہم کوئی آواز کیوں نہیں دیتا ڈگمگاتے ہیں تیرگی ہے وہ ہے وہ ہم پیا سے ہم کو کہی ستاتی ہے تیرتے ہیں کہی ن گرا ہے وہ ہے وہ ہم رات ہوتی تو کوئی بات لگ تھی لٹ گئے دن کی روشنی ہے وہ ہے وہ ہم اپنے ماضی سے بات کرتے ہیں تیری یادوں کی چاندنی ہے وہ ہے وہ ہم
Faheem Jogapuri
1 likes
آنا تھا جسے آج حقیقت آیا تو نہیں ہے یہ سمے بدلنے کا اشارہ تو نہیں ہے دعوت دے کبھی کیوں حقیقت محبت سے بلائے دریا سے مری پیا سے کا رشتہ تو نہیں ہے یہ کون گیا تو ہے کہ جھپکتی نہیں آنکھیں رستے ہے وہ ہے وہ حقیقت ٹھہرا ہوا لمحہ تو نہیں ہے ہنستا ہوا چہرہ ہے دمکتا ہوا پیکر گزرا ہوا یہ میرا زما لگ تو نہیں ہے آنکھوں نے ابھی نیند کا دامن نہیں چھوڑا خوابوں سے بھروسا ابھی ٹوٹا تو نہیں ہے دریا ہے وہ ہے وہ سر شام ہے ڈوبا ہوا سورج دن بھر کا مسافر کوئی پیاسا تو نہیں ہے چھوڑ آئی ہوں ج سے کے لیے آنچل کی گھنی چھاؤں ا سے شہر ہے وہ ہے وہ حقیقت دھوپ کا ٹکڑا تو نہیں ہے رستے ہے وہ ہے وہ فہیم ا سے کی طبیعت کا بگڑنا گھر جانے کا اک اور بہانا تو نہیں ہے
Faheem Jogapuri
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Faheem Jogapuri.
Similar Moods
More moods that pair well with Faheem Jogapuri's ghazal.







