اپنے قدم کی چاپ سے یوں ڈر رہے ہیں ہم مقتل کی سمت چنو سفر کر رہے ہیں ہم کیا چاند اور تاروں کو ہم جانتے نہیں اے آسمان والو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر رہے ہیں ہم مشکل تھا سطح آب سے ہم کو کھنگالنا باہر نہیں تھے جتنا کہ اندر رہے ہیں ہم کل اور کوئی سمے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہوں تو کیا اب تک تو ہر نگاہ کا محور رہے ہیں ہم صاحب فن سے اور بھی آگے نکل گئے ہاں عقل کی حدود سے باہر رہے ہیں ہم اے ہم سفر لگ پوچھ مسافت نصیب سے تو جانتا ہے کتنے دنوں گھر رہے ہیں ہم باہر لگ آئی ہم بھی انا کے حصار سے ا سے جنگ ہے وہ ہے وہ تمہارے برابر رہے ہیں ہم جھرنوں کی کیا بسات کریں گفتگو فہیم دریا گرے ج ہاں حقیقت سمندر رہے ہیں ہم
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے
Tehzeeb Hafi
262 likes
More from Faheem Jogapuri
کیا کوئی تصویر بن سکتی ہے صورت کے بغیر پھروں کسی سے کیوں ملے کوئی ضرورت کے بغیر دشمنی تو چاہنے کی انتہا کا نام ہے یہ کہانی بھی ادھوری ہے محبت کے بغیر تیری یادیں ہوں گئیں چنو مقد سے آیتیں چین آتا ہی نہیں دل کو تلاوت کے بغیر دھوپ کی ہر سان سے گنتے شام تک جو آ گئے چھاؤں ہے وہ ہے وہ حقیقت کیا جیئیں جینے کی عادت کے بغیر بچ گیا تو دامن ا گر مری لہو کے داغ سے حقیقت میرا قاتل تو مر جائےگا شہرت کے بغیر ا سے کی سرداری سے اب انکار کرنا چاہیے روشنی دیتا نہیں سورج سیاست کے بغیر حسن کی دکان ہوں کہ عشق کا بازار ہوں یاں کوئی سودا نہیں ہے دل کی دولت کے بغیر استعمال چہرہ چھپاؤں کیسے بچوں سے فہیم شام آتی ہی نہیں گھر ہے وہ ہے وہ طہارت کے بغیر
Faheem Jogapuri
0 likes
شام خاموش ہے پیڑوں پہ اجالا کم ہے لوٹ آئی ہیں سبھی ایک پرندہ کم ہے دیکھ کر سوکھ گیا تو کیسے بدن کا پانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ کہتا تھا مری پیا سے سے دریا کم ہے خود سے ملنے کی کبھی گاؤں ہے وہ ہے وہ فرصت لگ ملی شہر آئی ہیں ی ہاں ملنا ملانا کم ہے آج کیوں آنکھوں ہے وہ ہے وہ پہلے سے نہیں ہیں آنسو آج کیا بات ہے کیوں موج ہے وہ ہے وہ دریا کم ہے اپنے مہمان کو پلکوں پہ بٹھا لیتی ہے کسانوں جانتی ہے گھر ہے وہ ہے وہ بچھونا کم ہے ب سے یہی سوچ کے کرنے لگے ہجرت آنسو اپنی لاشوں کے مقابل ی ہاں کانده کم ہے دل کی ہر بات زبان پر نہیں آتی ہے فہیم ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سوچا ہے زیادہ اسے لکھا کم ہے
Faheem Jogapuri
0 likes
آنا تھا جسے آج حقیقت آیا تو نہیں ہے یہ سمے بدلنے کا اشارہ تو نہیں ہے دعوت دے کبھی کیوں حقیقت محبت سے بلائے دریا سے مری پیا سے کا رشتہ تو نہیں ہے یہ کون گیا تو ہے کہ جھپکتی نہیں آنکھیں رستے ہے وہ ہے وہ حقیقت ٹھہرا ہوا لمحہ تو نہیں ہے ہنستا ہوا چہرہ ہے دمکتا ہوا پیکر گزرا ہوا یہ میرا زما لگ تو نہیں ہے آنکھوں نے ابھی نیند کا دامن نہیں چھوڑا خوابوں سے بھروسا ابھی ٹوٹا تو نہیں ہے دریا ہے وہ ہے وہ سر شام ہے ڈوبا ہوا سورج دن بھر کا مسافر کوئی پیاسا تو نہیں ہے چھوڑ آئی ہوں ج سے کے لیے آنچل کی گھنی چھاؤں ا سے شہر ہے وہ ہے وہ حقیقت دھوپ کا ٹکڑا تو نہیں ہے رستے ہے وہ ہے وہ فہیم ا سے کی طبیعت کا بگڑنا گھر جانے کا اک اور بہانا تو نہیں ہے
Faheem Jogapuri
0 likes
دوستی ہے وہ ہے وہ لگ دشمنی ہے وہ ہے وہ ہم کیا نظر آئیں گے کسی ہے وہ ہے وہ ہم کیوں سجاتے ہیں خواب صدیوں کے چند لمحوں کی زندگی ہے وہ ہے وہ ہم سیر کرتے ہیں دونوں عالم کی اپنے خوابوں کی پالکی ہے وہ ہے وہ ہم جب تمہارا خیال آتا ہے ڈوب جاتے ہیں روشنی ہے وہ ہے وہ ہم کوئی آواز کیوں نہیں دیتا ڈگمگاتے ہیں تیرگی ہے وہ ہے وہ ہم پیا سے ہم کو کہی ستاتی ہے تیرتے ہیں کہی ن گرا ہے وہ ہے وہ ہم رات ہوتی تو کوئی بات لگ تھی لٹ گئے دن کی روشنی ہے وہ ہے وہ ہم اپنے ماضی سے بات کرتے ہیں تیری یادوں کی چاندنی ہے وہ ہے وہ ہم
Faheem Jogapuri
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Faheem Jogapuri.
Similar Moods
More moods that pair well with Faheem Jogapuri's ghazal.







