ghazalKuch Alfaaz

آنا تھا جسے آج حقیقت آیا تو نہیں ہے یہ سمے بدلنے کا اشارہ تو نہیں ہے دعوت دے کبھی کیوں حقیقت محبت سے بلائے دریا سے مری پیا سے کا رشتہ تو نہیں ہے یہ کون گیا تو ہے کہ جھپکتی نہیں آنکھیں رستے ہے وہ ہے وہ حقیقت ٹھہرا ہوا لمحہ تو نہیں ہے ہنستا ہوا چہرہ ہے دمکتا ہوا پیکر گزرا ہوا یہ میرا زما لگ تو نہیں ہے آنکھوں نے ابھی نیند کا دامن نہیں چھوڑا خوابوں سے بھروسا ابھی ٹوٹا تو نہیں ہے دریا ہے وہ ہے وہ سر شام ہے ڈوبا ہوا سورج دن بھر کا مسافر کوئی پیاسا تو نہیں ہے چھوڑ آئی ہوں ج سے کے لیے آنچل کی گھنی چھاؤں ا سے شہر ہے وہ ہے وہ حقیقت دھوپ کا ٹکڑا تو نہیں ہے رستے ہے وہ ہے وہ فہیم ا سے کی طبیعت کا بگڑنا گھر جانے کا اک اور بہانا تو نہیں ہے

Related Ghazal

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی

Ali Zaryoun

102 likes

تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں

Dagh Dehlvi

84 likes

بغیر اس کا کو بتائے نبھانا پڑتا ہے یہ عشق راز ہے اس کا کو چھپانا پڑتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ذہن کی ضد سے بے حد پریشاں ہوں تری خیال کی چوکھٹ پہ آنا پڑتا ہے تری بغیر ہی اچھے تھے کیا مصیبت ہے یہ کیسا پیار ہے ہر دن جتانا پڑتا ہے

Mehshar Afridi

73 likes

بعد ہے وہ ہے وہ مجھ سے نا کہنا گھر پلٹنا ٹھیک ہے ویسے سننے ہے وہ ہے وہ یہی آیا ہے رستہ ٹھیک ہے شاخ سے پتہ گرے بارش گردشیں بادل چھٹے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی تو سب کچھ غلط کرتا ہوں اچھا ٹھیک ہے ذہن تک تسلیم کر لیتا ہے ا سے کی برتری آنکھ تک تصدیق کر دیتی ہے بندہ ٹھیک ہے ایک تیری آواز سننے کے لیے زندہ ہے ہم تو ہی جب خاموش ہوں جائے تو پھروں کیا ٹھیک ہے

Tehzeeb Hafi

182 likes

More from Faheem Jogapuri

اپنے قدم کی چاپ سے یوں ڈر رہے ہیں ہم مقتل کی سمت چنو سفر کر رہے ہیں ہم کیا چاند اور تاروں کو ہم جانتے نہیں اے آسمان والو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر رہے ہیں ہم مشکل تھا سطح آب سے ہم کو کھنگالنا باہر نہیں تھے جتنا کہ اندر رہے ہیں ہم کل اور کوئی سمے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہوں تو کیا اب تک تو ہر نگاہ کا محور رہے ہیں ہم صاحب فن سے اور بھی آگے نکل گئے ہاں عقل کی حدود سے باہر رہے ہیں ہم اے ہم سفر لگ پوچھ مسافت نصیب سے تو جانتا ہے کتنے دنوں گھر رہے ہیں ہم باہر لگ آئی ہم بھی انا کے حصار سے ا سے جنگ ہے وہ ہے وہ تمہارے برابر رہے ہیں ہم جھرنوں کی کیا بسات کریں گفتگو فہیم دریا گرے ج ہاں حقیقت سمندر رہے ہیں ہم

Faheem Jogapuri

0 likes

کیا کوئی تصویر بن سکتی ہے صورت کے بغیر پھروں کسی سے کیوں ملے کوئی ضرورت کے بغیر دشمنی تو چاہنے کی انتہا کا نام ہے یہ کہانی بھی ادھوری ہے محبت کے بغیر تیری یادیں ہوں گئیں چنو مقد سے آیتیں چین آتا ہی نہیں دل کو تلاوت کے بغیر دھوپ کی ہر سان سے گنتے شام تک جو آ گئے چھاؤں ہے وہ ہے وہ حقیقت کیا جیئیں جینے کی عادت کے بغیر بچ گیا تو دامن ا گر مری لہو کے داغ سے حقیقت میرا قاتل تو مر جائےگا شہرت کے بغیر ا سے کی سرداری سے اب انکار کرنا چاہیے روشنی دیتا نہیں سورج سیاست کے بغیر حسن کی دکان ہوں کہ عشق کا بازار ہوں یاں کوئی سودا نہیں ہے دل کی دولت کے بغیر استعمال چہرہ چھپاؤں کیسے بچوں سے فہیم شام آتی ہی نہیں گھر ہے وہ ہے وہ طہارت کے بغیر

Faheem Jogapuri

0 likes

شام خاموش ہے پیڑوں پہ اجالا کم ہے لوٹ آئی ہیں سبھی ایک پرندہ کم ہے دیکھ کر سوکھ گیا تو کیسے بدن کا پانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ کہتا تھا مری پیا سے سے دریا کم ہے خود سے ملنے کی کبھی گاؤں ہے وہ ہے وہ فرصت لگ ملی شہر آئی ہیں ی ہاں ملنا ملانا کم ہے آج کیوں آنکھوں ہے وہ ہے وہ پہلے سے نہیں ہیں آنسو آج کیا بات ہے کیوں موج ہے وہ ہے وہ دریا کم ہے اپنے مہمان کو پلکوں پہ بٹھا لیتی ہے کسانوں جانتی ہے گھر ہے وہ ہے وہ بچھونا کم ہے ب سے یہی سوچ کے کرنے لگے ہجرت آنسو اپنی لاشوں کے مقابل ی ہاں کانده کم ہے دل کی ہر بات زبان پر نہیں آتی ہے فہیم ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سوچا ہے زیادہ اسے لکھا کم ہے

Faheem Jogapuri

0 likes

دوستی ہے وہ ہے وہ لگ دشمنی ہے وہ ہے وہ ہم کیا نظر آئیں گے کسی ہے وہ ہے وہ ہم کیوں سجاتے ہیں خواب صدیوں کے چند لمحوں کی زندگی ہے وہ ہے وہ ہم سیر کرتے ہیں دونوں عالم کی اپنے خوابوں کی پالکی ہے وہ ہے وہ ہم جب تمہارا خیال آتا ہے ڈوب جاتے ہیں روشنی ہے وہ ہے وہ ہم کوئی آواز کیوں نہیں دیتا ڈگمگاتے ہیں تیرگی ہے وہ ہے وہ ہم پیا سے ہم کو کہی ستاتی ہے تیرتے ہیں کہی ن گرا ہے وہ ہے وہ ہم رات ہوتی تو کوئی بات لگ تھی لٹ گئے دن کی روشنی ہے وہ ہے وہ ہم اپنے ماضی سے بات کرتے ہیں تیری یادوں کی چاندنی ہے وہ ہے وہ ہم

Faheem Jogapuri

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Faheem Jogapuri.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Faheem Jogapuri's ghazal.