ghazalKuch Alfaaz

تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے

Tehzeeb Hafi262 Likes

Related Ghazal

ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا

Tehzeeb Hafi

241 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

سارے کا سارا تو میرا بھی نہیں اور حقیقت بے وجہ بےوفا بھی نہیں غور سے دیکھنے پہ بولی ہے شا گرا سے پہلے سوچنا بھی نہیں اچھی صحت کا ہے میرا محبوب دھوکے دیتے ہوئے تھکا بھی نہیں جتنا برباد کر دیا تو نے اتنا آباد تو ہے وہ ہے وہ تھا بھی نہیں مجھ کو ب سے اتنا دین آتا ہے ج ہاں ہے وہ ہے وہ خود نہیں خدا بھی نہیں

Kushal Dauneria

43 likes

کیا غلط فہمی ہے وہ ہے وہ رہ جانے کا صدمہ کچھ نہیں حقیقت مجھے سمجھا تو سکتا تھا کہ ایسا کچھ نہيں عشق سے بچ کر بھی بندہ کچھ نہیں ہوتا مغر یہ بھی سچ ہے عشق ہے وہ ہے وہ بندے کا اختیار کچھ نہیں جانے کیسے راز سینے ہے وہ ہے وہ لیے بیٹھا ہے حقیقت زہر کھا لیتا ہے پر منا سے اگلتا کچھ نہیں شکر ہے کہ ا سے نے مجھ سے کہ دیا کہ کچھ تو ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے کہنے ہی والا تھا کہ اچھا کچھ نہیں

Tehzeeb Hafi

105 likes

صرف خنجر ہی نہیں آنکھوں ہے وہ ہے وہ پانی چاہیے اے خدا دشمن بھی مجھ کو خاندانی چاہیے شہر کی ساری الف لیلائیں بوڑھی ہوں چکیں شہزادے کو کوئی تازہ کہانی چاہیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اے سورج تجھے پوجا نہیں سمجھا تو ہے مری حصے ہے وہ ہے وہ بھی تھوڑی دھوپ آنی چاہیے مری قیمت کون دے سکتا ہے ا سے بازار ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں زلیخا ہوں تمہیں قیمت لگانی چاہیے زندگی ہے اک سفر اور زندگی کی راہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی بھی آئی تو ٹھوکر لگانی چاہیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اپنی خشک آنکھوں سے لہو چھلکا دیا اک سمندر کہ رہا تھا مجھ کو پانی چاہیے

Rahat Indori

38 likes

More from Tehzeeb Hafi

چیختے ہیں در و دیوار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھ کھلنے پہ بھی منجملہ و اسباب ماتم نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خواب کرنا ہوں سفر کرنا ہوں یا رونا ہوں مجھ ہے وہ ہے وہ خوبی ہے بیزار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب بھلا اپنے لیے بننا سنورنا کیسا خود سے ملنا ہوں تو تیار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون آئےگا بھلا میری عیادت کے لیے بس اسی خوف سے بیمار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ منزل عشق پہ نکلا تو کہا رستے نے ہر کسی کے لیے خوددار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری تصویر سے تسکین نہیں ہوتی مجھے تیری آواز سے مخمور نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لوگ کہتے ہیں ہے وہ ہے وہ بارش کی طرح ہوں حافی 9 اوقات لگاتار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ

Tehzeeb Hafi

35 likes

ख़ुद पर जब इश्क़ की वहशत को मुसल्लत करूँँगा इस कदर ख़ाक उड़ाऊँगा कयामत करूँँगा हिज्र की रात मेरी जान को आई हुई है बच गया तो मैं मोहब्बत की मज़म्मत करूँँगा अब तेरे राज़ सँभाले नहीं जाते मुझ सेे मैं किसी रोज़ अमानत में ख़यानत करूँँगा लयलातुल क़दर गुज़रेंगे किसी जंगल में नूर बरसेगा दरख़्तों की इमामत करूँँगा

Tehzeeb Hafi

22 likes

اک ترا ہجر دائمی ہے مجھے ور لگ ہر چیز عارضی ہے مجھے ایک سایہ مری تعاقب ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک آواز ڈھونڈتی ہے مجھے مری آنکھوں پہ دو مقد سے ہاتھ یہ اندھیرا بھی روشنی ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سخن ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے جگہ کہ ج ہاں سان سے لینا بھی شاعری ہے مجھے ان پرندوں سے بولنا سیکھا پیڑ سے خموشی ملی ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسے کب کا بھول بھال چکا زندگی ہے کہ رو رہی ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ کاغذ کی ایک کشتی ہوں پہلی بارش ہی آخری ہے مجھے

Tehzeeb Hafi

25 likes

خوابوں کو آنکھوں سے منہا کرتی ہے نیند ہمیشہ مجھ سے دھوکہ کرتی ہے ا سے لڑکی سے ب سے اب اتنا رشتہ ہے مل جائے تو بات وغیرہ کرتی ہے آوازوں کا حب سے ا گر بڑھ جاتا ہے خموشی مجھ ہے وہ ہے وہ دروازہ کرتی ہے بارش مری رب کی ایسی نعمت ہے رونے ہے وہ ہے وہ آسانی پیدا کرتی ہے سچ پوچھو تو حافی یہ تنہائی بھی جینے کا سامان مہیا کرتی ہے

Tehzeeb Hafi

44 likes

تیری طرف میرا خیال کیا گیا تو کے پھروں ہے وہ ہے وہ تجھ کو سوچتا چلا گیا تو یہ شہر بن رہا تھا مری سامنے یہ گیت مری سامنے لکھا گیا تو یہ وصل ساری عمر پر محیط ہے یہ ہجر ایک رات ہے وہ ہے وہ سما گیا تو مجھے کسی کی آ سے تھی لگ پیا سے تھی یہ پھول مجھ کو بھول کر دیا گیا تو بچھڑ کے سان سے کھینچنا محال تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی سے ہاتھ کھینچتا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک روز دست کیا گیا تو کے پھروں حقیقت باغ مری ہاتھ سے چلا گیا تو

Tehzeeb Hafi

56 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Tehzeeb Hafi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Tehzeeb Hafi's ghazal.