صرف خنجر ہی نہیں آنکھوں ہے وہ ہے وہ پانی چاہیے اے خدا دشمن بھی مجھ کو خاندانی چاہیے شہر کی ساری الف لیلائیں بوڑھی ہوں چکیں شہزادے کو کوئی تازہ کہانی چاہیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اے سورج تجھے پوجا نہیں سمجھا تو ہے مری حصے ہے وہ ہے وہ بھی تھوڑی دھوپ آنی چاہیے مری قیمت کون دے سکتا ہے ا سے بازار ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں زلیخا ہوں تمہیں قیمت لگانی چاہیے زندگی ہے اک سفر اور زندگی کی راہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی بھی آئی تو ٹھوکر لگانی چاہیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اپنی خشک آنکھوں سے لہو چھلکا دیا اک سمندر کہ رہا تھا مجھ کو پانی چاہیے
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
More from Rahat Indori
چہروں کی دھوپ آنکھوں کی گہرائی لے گیا تو آئی لگ سارے شہر کی بینائی لے گیا تو ڈوبے ہوئے جہاز پہ کیا تبصرہ کریں یہ حادثہ تو سوچ کی گہرائی لے گیا تو حالانکہ بے زبان تھا لیکن عجیب تھا جو بے وجہ مجھ سے چھین کے گویائی لے گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج اپنے گھر سے نکلنے لگ پاؤں گا ب سے اک قمیص تھی جو میرا بھائی لے گیا تو تاکتے تمہارے واسطے اب کچھ نہیں رہا گلیوں کے سارے سنگ تو سودائی لے گیا تو
Rahat Indori
19 likes
یوں صدا دیتے ہوئے تری خیال آتے ہیں چنو کعبہ کی کھلی چھت پہ بلال آتے ہیں روز ہم اشکوں سے دھو آتے ہیں دیوار حرم پگڑیاں روز فرشتوں کی اچھال آتے ہیں ہاتھ ابھی پیچھے بندھے رہتے ہیں چپ رہتے ہیں دیکھنا یہ ہے تجھے کتنے غصہ آتے ہیں چاند سورج مری چوکھٹ پہ کئی صدیوں سے روز لکھے ہوئے چہرے پہ سوال آتے ہیں بے حسی مردہ دلی رقص شرابیں نغمے ب سے اسی راہ سے قوموں پہ زوال آتے ہیں
Rahat Indori
3 likes
فیصلے لمحات کے جالے پہ بھاری ہوں گئے باپ حاکم تھا م گر بیٹے بھکاری ہوں گئے دیویان پہنچیں تھیں اپنے بال بکھرائے ہوئے دیوتا مندیر سے نکلے اور پجاری ہوں گئے روشنی کی جنگ ہے وہ ہے وہ تاریکیاں پیدا ہوئیں چاند پاگل ہوں گیا تو تارے بھکاری ہوں گئے رکھ دیے جائیں گے نیزے لفظ اور ہونٹوں کے بیچ ظل سبحانی کے احکامات جاری ہوں گئے نرم و چھوؤں گا ہلکے پھلکے روئی چنو خواب تھے آنسوؤں ہے وہ ہے وہ بھیگنے کے بعد بھاری ہوں گئے
Rahat Indori
2 likes
مری اشکوں نے کئی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جل تھل کر دیا ایک پاگل نے بے حد لوگوں کو پاگل کر دیا اپنی پلکوں پر سجا کر مری آنسو آپ نے راستے کی دھول کو آنکھوں کا کاجل کر دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دل دے کر اسے کی تھی وفا کی ابتدا ا سے نے دھوکہ دے کے یہ قصہ مکمل کر دیا یہ ہوائیں کب نگاہیں پھیر لیں ک سے کو خبر شہرتوں کا تخت جب ٹوٹا تو پیدل کر دیا سرا پہ اور خداؤں کی لگائی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے بستی کو جنگل کر دیا زخم کی صورت نظر آتے ہیں چہروں کے نقوش ہم نے آئینوں کو تہذیبوں کا مقتل کر دیا شہر ہے وہ ہے وہ چرچا ہے آخر ایسی لڑکی کون ہے ج سے نے اچھے خاصے اک شاعر کو پاگل کر دیا
Rahat Indori
8 likes
شام نے جب پلکوں پہ آتش دان لیا کچھ یادوں نے چٹکی ہے وہ ہے وہ لوبان لیا دروازوں نے اپنی آنکھیں نمہ کر لیں دیواروں نے اپنا سینا تان لیا پیا سے تو اپنی سات سمندر جیسی تھی ناحق ہم نے بارش کا احسان لیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تلووں سے باندھی تھی چھاؤں م گر شاید مجھ کو سورج نے پہچان لیا کتنے سکھ سے دھرتی اوڑھ کے سوئے ہیں ہم نے اپنی ماں کا کہنا مان لیا
Rahat Indori
10 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Rahat Indori.
Similar Moods
More moods that pair well with Rahat Indori's ghazal.







