ghazalKuch Alfaaz

فیصلے لمحات کے جالے پہ بھاری ہوں گئے باپ حاکم تھا م گر بیٹے بھکاری ہوں گئے دیویان پہنچیں تھیں اپنے بال بکھرائے ہوئے دیوتا مندیر سے نکلے اور پجاری ہوں گئے روشنی کی جنگ ہے وہ ہے وہ تاریکیاں پیدا ہوئیں چاند پاگل ہوں گیا تو تارے بھکاری ہوں گئے رکھ دیے جائیں گے نیزے لفظ اور ہونٹوں کے بیچ ظل سبحانی کے احکامات جاری ہوں گئے نرم و چھوؤں گا ہلکے پھلکے روئی چنو خواب تھے آنسوؤں ہے وہ ہے وہ بھیگنے کے بعد بھاری ہوں گئے

Related Ghazal

کھٹملوں پہ آ اتاری ہے زندگی زندہ لاش بھاری ہے آپ دکھ دے رہے ہے رو رہا ہوں اور یہ فیلحال جاری ہے رونا لکھا گیا تو روتے ہے ذمہ داری تو ذمہ داری ہے مری مرضی ج ہاں بھی صرف کروں زندگی مری ہے تمہاری ہے دشمنی کے ہزاروں درجے ہے آخری درجہ رشتہ داری ہے

Afkar Alvi

28 likes

ا سے کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں ہم کہی ٹالنے سے ٹلتے ہیں بند ہے مے کدوں کے دروازے ہم تو ب سے یوںہی چل نکلتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسی طرح تو بہلتا ہوں اور سب ج سے طرح بہلتے ہیں حقیقت ہے جان اب ہر ایک محفل کی ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں کیا تکلف کریں یہ کہنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو بھی خوش ہے ہم ا سے سے جلتے ہیں ہے اسے دور کا سفر در سانحے ہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں شام فرقت کی لہلہا اٹھی حقیقت ہوا ہے کہ زخم بھرتے ہیں ہے غضب فیصلے کا صحرا بھی چل لگ پڑیے تو پاؤں جلتے ہیں ہوں رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ک سے طرح برباد دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں جاناں بنو رنگ جاناں بنو خوشبو ہم تو اپنے سخن ہے وہ ہے وہ ڈھلتے ہیں

Jaun Elia

30 likes

اب نئے سپنے سجانا آپ کو شا گرا مبارک رات دن ب سے مسکرانا آپ کو شا گرا مبارک یاد کروائی تھی ہے وہ ہے وہ نے جو غزل مری کبھی حقیقت ہوں سکے تو بھول جانا آپ کو شا گرا مبارک جانتا ہوں من کرےگا بات کرلیں اک دفع ب سے فون لیکن مت لگانا آپ کو شا گرا مبارک دور اب ماں باپ سے گھر سے ہمیشہ ہی رہوگے سمے پر کھا لینا خا لگ آپ کو شا گرا مبارک آپ سے یہ التجا ہے وہ ہے وہ جب کبھی ٹی وی پہ آؤں آپ چینل مت ہٹانا آپ کو شا گرا مبارک پوچھ لے کوئی سہیلی کیا ہوا ا سے عشق کا تو دوست مجھ پر ہی لگانا آپ کو شا گرا مبارک آپنے شا گرا رچائی تو مری امید ٹوٹی شکریہ کرتا دیوا لگ آپ کو شا گرا مبارک

Tanoj Dadhich

22 likes

جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے ہم نے ب سے آپ کے لیے کیے تھے تب کہی جا کے اپنی مرضی کی پہلے اپنوں سے مشورے کیے تھے کبھی ا سے کی نگہ میسر تھی کیسے کیسے مشاہدے کیے تھے عقل کچھ اور کر کے بیٹھ رہی عشق نے اور فیصلے کیے تھے بات ہم نے سنی ہوئی سنی تھی کام ا سے نے کیے ہوئے کیے تھے اسے بھی ایک خط لکھا گیا تو تھا اپنے آگے بھی آئینے کیے تھے ی ہاں کچھ بھی نہیں ہے مری لیے تو نے کیا کیا مبالغے کیے تھے اول آنے کا شوق تھا لیکن کام سارے ہی دوسرے کیے تھے بڑی مشکل تھی حقیقت گھڑی جواد ہم نے کب ایسے فیصلے کیے تھے

Jawwad Sheikh

14 likes

سب کو رسوا باری باری کیا کروں ہر موسم ہے وہ ہے وہ فتوے جاری کیا کروں راتوں کا نیندوں سے رشتہ ٹوٹ چکا اپنے گھر کی پہرے داری کیا کروں اللہ ری اللہ ری شبنم گن کر کیا ہوگا دریاؤں کی دعوی داری کیا کروں روز قصیدے لکھو گونگے بہروں کے فرصت ہوں تو یہ بیگاری کیا کروں شب بھر آنے والے دن کے خواب بنو دن بھر فکر شب بیداری کیا کروں چاند زیادہ روشن ہے تو رہنے دو جگنو بھیا جی مت بھاری کیا کروں جب جی چاہے موت بچھا دو بستی ہے وہ ہے وہ ہے وہ لیکن باتیں پیاری پیاری کیا کروں رات بدن دریا ہے وہ ہے وہ روز اترتی ہے ا سے کشتی ہے وہ ہے وہ خوب سواری کیا کروں روز وہی اک کوشش زندہ رہنے کی مرنے کی بھی کچھ تیاری کیا کروں خواب لپیٹے سوتے رہنا ٹھیک نہیں فرصت ہوں تو شب بیداری کیا کروں کاغذ کو سب سونپ دیا یہ ٹھیک نہیں شعر کبھی خود پر بھی تاری کیا کروں

Rahat Indori

9 likes

More from Rahat Indori

شجر ہیں اب ثمر آثار مری چلے آتے ہیں دعویدار مری مہاجر ہیں لگ اب انصار مری مخالف ہیں بے حد ا سے بار مری ی ہاں اک بوند کا محتاج ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمندر ہیں سمندر پار مری ابھی مردوں ہے وہ ہے وہ روحیں پھونک ڈالیں ا گر چاہیں تو یہ بیمار مری ہوائیں اوڑھ کر سویا تھا دشمن گئے بیکار سارے وار مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ کر دشمنوں ہے وہ ہے وہ ب سے گیا تو ہوں ی ہاں ہمدرد ہیں دو چار مری ہنسی ہے وہ ہے وہ ٹال دینا تھا مجھے بھی غلطیاں کیوں ہوں گئے سرکار مری تصور ہے وہ ہے وہ لگ جانے کون آیا مہک اٹھے در و دیوار مری تمہارا نام دنیا جانتی ہے بے حد رسوا ہیں اب اشعار مری بھنور ہے وہ ہے وہ رک گئی ہے ناو مری کنارے رہ گئے ا سے پار مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود اپنی حفاظت کر رہا ہوں ابھی سوئے ہیں پہرے دار مری

Rahat Indori

4 likes

یوں صدا دیتے ہوئے تری خیال آتے ہیں چنو کعبہ کی کھلی چھت پہ بلال آتے ہیں روز ہم اشکوں سے دھو آتے ہیں دیوار حرم پگڑیاں روز فرشتوں کی اچھال آتے ہیں ہاتھ ابھی پیچھے بندھے رہتے ہیں چپ رہتے ہیں دیکھنا یہ ہے تجھے کتنے غصہ آتے ہیں چاند سورج مری چوکھٹ پہ کئی صدیوں سے روز لکھے ہوئے چہرے پہ سوال آتے ہیں بے حسی مردہ دلی رقص شرابیں نغمے ب سے اسی راہ سے قوموں پہ زوال آتے ہیں

Rahat Indori

3 likes

अपने दीवार-ओ-दर से पूछते हैं घर के हालात घर से पूछते हैं क्यूँँ अकेले हैं क़ाफ़िले वाले एक इक हम-सफ़र से पूछते हैं क्या कभी ज़िंदगी भी देखेंगे बस यही उम्र-भर से पूछते हैं जुर्म है ख़्वाब देखना भी क्या रात-भर चश्म-ए-तर से पूछते हैं ये मुलाक़ात आख़िरी तो नहीं हम जुदाई के डर से पूछते हैं ज़ख़्म का नाम फूल कैसे पड़ा तेरे दस्त-ए-हुनर से पूछते हैं कितने जंगल हैं इन मकानों में बस यही शहर भर से पूछते हैं ये जो दीवार है ये किस की है हम इधर वो उधर से पूछते हैं हैं कनीज़ें भी इस महल में क्या शाह-ज़ादों के डर से पूछते हैं क्या कहीं क़त्ल हो गया सूरज रात से रात-भर से पूछते हैं कौन वारिस है छाँव का आख़िर धूप में हम-सफ़र से पूछते हैं ये किनारे भी कितने सादा हैं कश्तियों को भँवर से पूछते हैं वो गुज़रता तो होगा अब तन्हा एक इक रहगुज़र से पूछते हैं

Rahat Indori

1 likes

محبتوں کے سفر پر نکل کے دیکھوں گا یہ پل صراط ا گر ہے تو چل کے دیکھوں گا سوال یہ ہے کہ رفتار ک سے کی کتنی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آفتاب سے آگے نکل کے دیکھوں گا مزاق اچھا رہے گا یہ چاند تاروں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج شام سے پہلے ہی ڈھل کے دیکھوں گا حقیقت مری حکم کو پڑنا جان لیتا ہے ا گر یہ سچ ہے تو لہجہ بدل کے دیکھوں گا اجالے بانٹنے والوں پہ کیا گزرتی ہے کسی چراغ کی مانند جل کے دیکھوں گا غضب نہیں کہ وہی روشنی مجھ مل جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے گھر سے کسی دن نکل کے دیکھوں گا

Rahat Indori

3 likes

مری اشکوں نے کئی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جل تھل کر دیا ایک پاگل نے بے حد لوگوں کو پاگل کر دیا اپنی پلکوں پر سجا کر مری آنسو آپ نے راستے کی دھول کو آنکھوں کا کاجل کر دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دل دے کر اسے کی تھی وفا کی ابتدا ا سے نے دھوکہ دے کے یہ قصہ مکمل کر دیا یہ ہوائیں کب نگاہیں پھیر لیں ک سے کو خبر شہرتوں کا تخت جب ٹوٹا تو پیدل کر دیا سرا پہ اور خداؤں کی لگائی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے بستی کو جنگل کر دیا زخم کی صورت نظر آتے ہیں چہروں کے نقوش ہم نے آئینوں کو تہذیبوں کا مقتل کر دیا شہر ہے وہ ہے وہ چرچا ہے آخر ایسی لڑکی کون ہے ج سے نے اچھے خاصے اک شاعر کو پاگل کر دیا

Rahat Indori

8 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Rahat Indori.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Rahat Indori's ghazal.