سب کو رسوا باری باری کیا کروں ہر موسم ہے وہ ہے وہ فتوے جاری کیا کروں راتوں کا نیندوں سے رشتہ ٹوٹ چکا اپنے گھر کی پہرے داری کیا کروں اللہ ری اللہ ری شبنم گن کر کیا ہوگا دریاؤں کی دعوی داری کیا کروں روز قصیدے لکھو گونگے بہروں کے فرصت ہوں تو یہ بیگاری کیا کروں شب بھر آنے والے دن کے خواب بنو دن بھر فکر شب بیداری کیا کروں چاند زیادہ روشن ہے تو رہنے دو جگنو بھیا جی مت بھاری کیا کروں جب جی چاہے موت بچھا دو بستی ہے وہ ہے وہ ہے وہ لیکن باتیں پیاری پیاری کیا کروں رات بدن دریا ہے وہ ہے وہ روز اترتی ہے ا سے کشتی ہے وہ ہے وہ خوب سواری کیا کروں روز وہی اک کوشش زندہ رہنے کی مرنے کی بھی کچھ تیاری کیا کروں خواب لپیٹے سوتے رہنا ٹھیک نہیں فرصت ہوں تو شب بیداری کیا کروں کاغذ کو سب سونپ دیا یہ ٹھیک نہیں شعر کبھی خود پر بھی تاری کیا کروں
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر
Anwar Shaoor
95 likes
More from Rahat Indori
یوں صدا دیتے ہوئے تری خیال آتے ہیں چنو کعبہ کی کھلی چھت پہ بلال آتے ہیں روز ہم اشکوں سے دھو آتے ہیں دیوار حرم پگڑیاں روز فرشتوں کی اچھال آتے ہیں ہاتھ ابھی پیچھے بندھے رہتے ہیں چپ رہتے ہیں دیکھنا یہ ہے تجھے کتنے غصہ آتے ہیں چاند سورج مری چوکھٹ پہ کئی صدیوں سے روز لکھے ہوئے چہرے پہ سوال آتے ہیں بے حسی مردہ دلی رقص شرابیں نغمے ب سے اسی راہ سے قوموں پہ زوال آتے ہیں
Rahat Indori
3 likes
سوال گھر نہیں بنیاد پر اٹھایا ہے ہمارے پاؤں کی مٹی نے سر اٹھایا ہے ہمیشہ سر پہ رہی اک چٹان رشتوں کی یہ بوجھ حقیقت ہے جسے عمر بھر اٹھایا ہے مری غلیل کے پتھر کا کار نامہ تھا م گر یہ کون ہے ج سے نے ثمر اٹھایا ہے یہی ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دبائےگا ایک دن ہم کو یہ آسمان جسے دوش پر اٹھایا ہے بلندیوں کو پتا چل گیا تو کہ پھروں ہے وہ ہے وہ نے ہوا کا ٹوٹا ہوا ایک پر اٹھایا ہے مہا بلی سے بغاوت بے حد ضروری ہے قدم یہ ہم نے سمجھ سوچ کر اٹھایا ہے
Rahat Indori
3 likes
شجر ہیں اب ثمر آثار مری چلے آتے ہیں دعویدار مری مہاجر ہیں لگ اب انصار مری مخالف ہیں بے حد ا سے بار مری ی ہاں اک بوند کا محتاج ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمندر ہیں سمندر پار مری ابھی مردوں ہے وہ ہے وہ روحیں پھونک ڈالیں ا گر چاہیں تو یہ بیمار مری ہوائیں اوڑھ کر سویا تھا دشمن گئے بیکار سارے وار مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ کر دشمنوں ہے وہ ہے وہ ب سے گیا تو ہوں ی ہاں ہمدرد ہیں دو چار مری ہنسی ہے وہ ہے وہ ٹال دینا تھا مجھے بھی غلطیاں کیوں ہوں گئے سرکار مری تصور ہے وہ ہے وہ لگ جانے کون آیا مہک اٹھے در و دیوار مری تمہارا نام دنیا جانتی ہے بے حد رسوا ہیں اب اشعار مری بھنور ہے وہ ہے وہ رک گئی ہے ناو مری کنارے رہ گئے ا سے پار مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود اپنی حفاظت کر رہا ہوں ابھی سوئے ہیں پہرے دار مری
Rahat Indori
4 likes
چہروں کی دھوپ آنکھوں کی گہرائی لے گیا تو آئی لگ سارے شہر کی بینائی لے گیا تو ڈوبے ہوئے جہاز پہ کیا تبصرہ کریں یہ حادثہ تو سوچ کی گہرائی لے گیا تو حالانکہ بے زبان تھا لیکن عجیب تھا جو بے وجہ مجھ سے چھین کے گویائی لے گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج اپنے گھر سے نکلنے لگ پاؤں گا ب سے اک قمیص تھی جو میرا بھائی لے گیا تو تاکتے تمہارے واسطے اب کچھ نہیں رہا گلیوں کے سارے سنگ تو سودائی لے گیا تو
Rahat Indori
19 likes
مری کاروبار ہے وہ ہے وہ سب نے بڑی امداد کی داد لوگوں کی گلہ اپنا غزل استاد کی اپنی سانسیں بیچ کر ہے وہ ہے وہ نے جسے آباد کی حقیقت گلی جنت تو اب بھی ہے م گر شداد کی عمر بھر چلتے رہے آنکھوں پہ پٹی باندھ کر زندگی کو ڈھونڈنے ہے وہ ہے وہ زندگی برباد کی داستانو کے سبھی کردار کم ہونے لگے آج کاغذ چنتی پھرتی ہے پری بغداد کی اک سلگتا چیختا ماحول ہے اور کچھ نہیں بات کرتے ہوں یکتا ک سے امین آباد کی
Rahat Indori
18 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Rahat Indori.
Similar Moods
More moods that pair well with Rahat Indori's ghazal.







