ghazalKuch Alfaaz

مری کاروبار ہے وہ ہے وہ سب نے بڑی امداد کی داد لوگوں کی گلہ اپنا غزل استاد کی اپنی سانسیں بیچ کر ہے وہ ہے وہ نے جسے آباد کی حقیقت گلی جنت تو اب بھی ہے م گر شداد کی عمر بھر چلتے رہے آنکھوں پہ پٹی باندھ کر زندگی کو ڈھونڈنے ہے وہ ہے وہ زندگی برباد کی داستانو کے سبھی کردار کم ہونے لگے آج کاغذ چنتی پھرتی ہے پری بغداد کی اک سلگتا چیختا ماحول ہے اور کچھ نہیں بات کرتے ہوں یکتا ک سے امین آباد کی

Rahat Indori18 Likes

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

More from Rahat Indori

یوں صدا دیتے ہوئے تری خیال آتے ہیں چنو کعبہ کی کھلی چھت پہ بلال آتے ہیں روز ہم اشکوں سے دھو آتے ہیں دیوار حرم پگڑیاں روز فرشتوں کی اچھال آتے ہیں ہاتھ ابھی پیچھے بندھے رہتے ہیں چپ رہتے ہیں دیکھنا یہ ہے تجھے کتنے غصہ آتے ہیں چاند سورج مری چوکھٹ پہ کئی صدیوں سے روز لکھے ہوئے چہرے پہ سوال آتے ہیں بے حسی مردہ دلی رقص شرابیں نغمے ب سے اسی راہ سے قوموں پہ زوال آتے ہیں

Rahat Indori

3 likes

چہروں کی دھوپ آنکھوں کی گہرائی لے گیا تو آئی لگ سارے شہر کی بینائی لے گیا تو ڈوبے ہوئے جہاز پہ کیا تبصرہ کریں یہ حادثہ تو سوچ کی گہرائی لے گیا تو حالانکہ بے زبان تھا لیکن عجیب تھا جو بے وجہ مجھ سے چھین کے گویائی لے گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج اپنے گھر سے نکلنے لگ پاؤں گا ب سے اک قمیص تھی جو میرا بھائی لے گیا تو تاکتے تمہارے واسطے اب کچھ نہیں رہا گلیوں کے سارے سنگ تو سودائی لے گیا تو

Rahat Indori

19 likes

مری اشکوں نے کئی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جل تھل کر دیا ایک پاگل نے بے حد لوگوں کو پاگل کر دیا اپنی پلکوں پر سجا کر مری آنسو آپ نے راستے کی دھول کو آنکھوں کا کاجل کر دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دل دے کر اسے کی تھی وفا کی ابتدا ا سے نے دھوکہ دے کے یہ قصہ مکمل کر دیا یہ ہوائیں کب نگاہیں پھیر لیں ک سے کو خبر شہرتوں کا تخت جب ٹوٹا تو پیدل کر دیا سرا پہ اور خداؤں کی لگائی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے بستی کو جنگل کر دیا زخم کی صورت نظر آتے ہیں چہروں کے نقوش ہم نے آئینوں کو تہذیبوں کا مقتل کر دیا شہر ہے وہ ہے وہ چرچا ہے آخر ایسی لڑکی کون ہے ج سے نے اچھے خاصے اک شاعر کو پاگل کر دیا

Rahat Indori

8 likes

حقیقت اک اک بات پہ رونے لگا تھا سمندر رکھ کھونے لگا تھا لگے رہتے تھے سب دروازے پھروں بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھیں کھول کر سونے لگا تھا چراتا ہوں اب آنکھیں آئینوں سے خدا کا سامنا ہونے لگا تھا حقیقت اب آئینے دھوتا پھروں رہا ہے اسے چہرے پہ شک ہونے لگا تھا مجھے اب دیکھ کر ہنستی ہے دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب کے سامنے رونے لگا تھا

Rahat Indori

0 likes

جو منصبوں کے پجاری پہن کے آتے ہیں کلاہ طوق سے بھاری پہن کے آتے ہیں امیر شہر تری طرح قیمتی پوشاک مری گلی ہے وہ ہے وہ بھکاری پہن کے آتے ہیں یہی عقیق تھے جھونپڑیوں کے تاج کی ظفر جو انگلیوں ہے وہ ہے وہ مداری پہن کے آتے ہیں ہمارے جسم کے داغوں پہ تبصرہ کرنے قمیصیں لوگ ہماری پہن کے آتے ہیں عبادتوں کا تحفظ بھی ان کے زممے ہے جو مسجدوں ہے وہ ہے وہ صفاری پہن کے آتے ہیں

Rahat Indori

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Rahat Indori.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Rahat Indori's ghazal.