جو منصبوں کے پجاری پہن کے آتے ہیں کلاہ طوق سے بھاری پہن کے آتے ہیں امیر شہر تری طرح قیمتی پوشاک مری گلی ہے وہ ہے وہ بھکاری پہن کے آتے ہیں یہی عقیق تھے جھونپڑیوں کے تاج کی ظفر جو انگلیوں ہے وہ ہے وہ مداری پہن کے آتے ہیں ہمارے جسم کے داغوں پہ تبصرہ کرنے قمیصیں لوگ ہماری پہن کے آتے ہیں عبادتوں کا تحفظ بھی ان کے زممے ہے جو مسجدوں ہے وہ ہے وہ صفاری پہن کے آتے ہیں
Related Ghazal
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
اپنی آنکھوں ہے وہ ہے وہ بھر کر لے جانے ہیں مجھ کو ا سے کے آنسو کام ہے وہ ہے وہ لانے ہے دیکھو ہم کوئی وحشی نہیں دیوانے ہیں جاناں سے بٹن کھلواتے نہیں لگواتے ہیں ہم جاناں اک دوجے کی سیڑھی ہے جاناں باقی دنیا تو سانپوں کے خانے ہیں پاکیزہ چیزوں کو پاکیزہ لکھو مت لکھو ا سے کی آنکھیں مے خانے ہیں
Varun Anand
63 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر
Anwar Shaoor
95 likes
سفر ہے وہ ہے وہ دھوپ تو ہوں گی جو چل سکو تو چلو سبھی ہیں بھیڑ ہے وہ ہے وہ جاناں بھی نکل سکو تو چلو کسی کے واسطے راہیں ک ہاں بدلتی ہیں جاناں اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو ی ہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا مجھے گرا کے ا گر جاناں سنبھل سکو تو چلو کہی نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں انہی کھلونوں سے جاناں بھی بہل سکو تو چلو
Nida Fazli
61 likes
More from Rahat Indori
مری اشکوں نے کئی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جل تھل کر دیا ایک پاگل نے بے حد لوگوں کو پاگل کر دیا اپنی پلکوں پر سجا کر مری آنسو آپ نے راستے کی دھول کو آنکھوں کا کاجل کر دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دل دے کر اسے کی تھی وفا کی ابتدا ا سے نے دھوکہ دے کے یہ قصہ مکمل کر دیا یہ ہوائیں کب نگاہیں پھیر لیں ک سے کو خبر شہرتوں کا تخت جب ٹوٹا تو پیدل کر دیا سرا پہ اور خداؤں کی لگائی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے بستی کو جنگل کر دیا زخم کی صورت نظر آتے ہیں چہروں کے نقوش ہم نے آئینوں کو تہذیبوں کا مقتل کر دیا شہر ہے وہ ہے وہ چرچا ہے آخر ایسی لڑکی کون ہے ج سے نے اچھے خاصے اک شاعر کو پاگل کر دیا
Rahat Indori
8 likes
مری کاروبار ہے وہ ہے وہ سب نے بڑی امداد کی داد لوگوں کی گلہ اپنا غزل استاد کی اپنی سانسیں بیچ کر ہے وہ ہے وہ نے جسے آباد کی حقیقت گلی جنت تو اب بھی ہے م گر شداد کی عمر بھر چلتے رہے آنکھوں پہ پٹی باندھ کر زندگی کو ڈھونڈنے ہے وہ ہے وہ زندگی برباد کی داستانو کے سبھی کردار کم ہونے لگے آج کاغذ چنتی پھرتی ہے پری بغداد کی اک سلگتا چیختا ماحول ہے اور کچھ نہیں بات کرتے ہوں یکتا ک سے امین آباد کی
Rahat Indori
18 likes
پرانی داو پر ہر دن نئے آنسو لگاتا ہے حقیقت اب بھی اک پھٹے رومال پر خوشبو لگاتا ہے اسے کہ دو کہ یہ اونچائیاں مشکل سے ملتی ہیں حقیقت سورج کے سفر ہے وہ ہے وہ موم کے بازو لگاتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کالی رات کے تیزاب سے سورج بناتا ہوں مری چادر ہے وہ ہے وہ یہ پیوند اک جگنو لگاتا ہے ی ہاں لچھمن کی ریکھا ہے لگ سیتا ہے م گر پھروں بھی بے حد پھیرے ہمارے گھر کے اک سادھو لگاتا ہے نمازیں مستقل پہچان بن جاتی ہے چہروں کی تلک ج سے طرح ماتھے پر کوئی ہندو لگاتا ہے لگ جانے یہ انوکھا فرق ا سے ہے وہ ہے وہ ک سے طرح آیا حقیقت اب کالر ہے وہ ہے وہ پھولوں کی جگہ بچھو لگاتا ہے اندھیرے اور اجالے ہے وہ ہے وہ یہ سمجھوتا ضروری ہے نشانے ہم لگاتے ہیں ٹھکانے تو لگاتا ہے
Rahat Indori
4 likes
ساتھ منزل تھی م گر خوف و خطر ایسا تھا عمر بھر چلتے رہے لوگ سفر ایسا تھا جب حقیقت آئی تو ہے وہ ہے وہ خوش بھی ہوا شرمندہ بھی مری تقدیر تھی ایسی میرا گھر ایسا تھا حفظ تھیں مجھ کو بھی چہروں کی کتابیں کیا کیا دل شکستہ تھا م گر تیز نظر ایسا تھا آگ اوڑھے تھا م گر بانٹ رہا تھا سایہ دھوپ کے شہر ہے وہ ہے وہ اک تنہا شجر ایسا تھا لوگ خود اپنے چراغوں کو بجھا کر سوئے شہر ہے وہ ہے وہ تیز ہواؤں کا اثر ایسا تھا
Rahat Indori
15 likes
سوال گھر نہیں بنیاد پر اٹھایا ہے ہمارے پاؤں کی مٹی نے سر اٹھایا ہے ہمیشہ سر پہ رہی اک چٹان رشتوں کی یہ بوجھ حقیقت ہے جسے عمر بھر اٹھایا ہے مری غلیل کے پتھر کا کار نامہ تھا م گر یہ کون ہے ج سے نے ثمر اٹھایا ہے یہی ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دبائےگا ایک دن ہم کو یہ آسمان جسے دوش پر اٹھایا ہے بلندیوں کو پتا چل گیا تو کہ پھروں ہے وہ ہے وہ نے ہوا کا ٹوٹا ہوا ایک پر اٹھایا ہے مہا بلی سے بغاوت بے حد ضروری ہے قدم یہ ہم نے سمجھ سوچ کر اٹھایا ہے
Rahat Indori
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Rahat Indori.
Similar Moods
More moods that pair well with Rahat Indori's ghazal.







