ghazalKuch Alfaaz

پرانی داو پر ہر دن نئے آنسو لگاتا ہے حقیقت اب بھی اک پھٹے رومال پر خوشبو لگاتا ہے اسے کہ دو کہ یہ اونچائیاں مشکل سے ملتی ہیں حقیقت سورج کے سفر ہے وہ ہے وہ موم کے بازو لگاتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کالی رات کے تیزاب سے سورج بناتا ہوں مری چادر ہے وہ ہے وہ یہ پیوند اک جگنو لگاتا ہے ی ہاں لچھمن کی ریکھا ہے لگ سیتا ہے م گر پھروں بھی بے حد پھیرے ہمارے گھر کے اک سادھو لگاتا ہے نمازیں مستقل پہچان بن جاتی ہے چہروں کی تلک ج سے طرح ماتھے پر کوئی ہندو لگاتا ہے لگ جانے یہ انوکھا فرق ا سے ہے وہ ہے وہ ک سے طرح آیا حقیقت اب کالر ہے وہ ہے وہ پھولوں کی جگہ بچھو لگاتا ہے اندھیرے اور اجالے ہے وہ ہے وہ یہ سمجھوتا ضروری ہے نشانے ہم لگاتے ہیں ٹھکانے تو لگاتا ہے

Related Ghazal

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر

Anwar Shaoor

95 likes

غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی

Zubair Ali Tabish

80 likes

جاناں جو کہتے ہوں سنوںگا جو پکاروگے مجھے جانتا ہوں کہ جاناں ہی گھیر کے ماروگے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی اک بے وجہ پہ اک شرط لگا بیٹھا تھا جاناں بھی اک روز اسی کھیل ہے وہ ہے وہ ہاروگے مجھے عید کے دن کی طرح جاناں نے مجھے ضائع کیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمجھتا تھا محبت سے گزاروگے مجھے

Ali Zaryoun

47 likes

راستے جو بھی چمک دار نظر آتے ہیں سب تیری اوڑھنی کے تار نظر آتے ہیں کوئی پاگل ہی محبت سے نوازے گا مجھے آپ تو خیر سمجھدار نظر آتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک ہاں جاؤں کروں ک سے سے شکایت ا سے کی ہر طرف ا سے کے طرف دار نظر آتے ہیں زخم بھرنے لگے ہیں پچھلی ملاقاتوں کے پھروں ملاقات کے آثار نظر آتے ہیں ایک ہی بار نظر پڑتی ہے ان پر تابش اور پھروں حقیقت ہی لگاتار نظر آتے ہیں

Zubair Ali Tabish

39 likes

More from Rahat Indori

شجر ہیں اب ثمر آثار مری چلے آتے ہیں دعویدار مری مہاجر ہیں لگ اب انصار مری مخالف ہیں بے حد ا سے بار مری ی ہاں اک بوند کا محتاج ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمندر ہیں سمندر پار مری ابھی مردوں ہے وہ ہے وہ روحیں پھونک ڈالیں ا گر چاہیں تو یہ بیمار مری ہوائیں اوڑھ کر سویا تھا دشمن گئے بیکار سارے وار مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ کر دشمنوں ہے وہ ہے وہ ب سے گیا تو ہوں ی ہاں ہمدرد ہیں دو چار مری ہنسی ہے وہ ہے وہ ٹال دینا تھا مجھے بھی غلطیاں کیوں ہوں گئے سرکار مری تصور ہے وہ ہے وہ لگ جانے کون آیا مہک اٹھے در و دیوار مری تمہارا نام دنیا جانتی ہے بے حد رسوا ہیں اب اشعار مری بھنور ہے وہ ہے وہ رک گئی ہے ناو مری کنارے رہ گئے ا سے پار مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود اپنی حفاظت کر رہا ہوں ابھی سوئے ہیں پہرے دار مری

Rahat Indori

4 likes

چہروں کی دھوپ آنکھوں کی گہرائی لے گیا تو آئی لگ سارے شہر کی بینائی لے گیا تو ڈوبے ہوئے جہاز پہ کیا تبصرہ کریں یہ حادثہ تو سوچ کی گہرائی لے گیا تو حالانکہ بے زبان تھا لیکن عجیب تھا جو بے وجہ مجھ سے چھین کے گویائی لے گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج اپنے گھر سے نکلنے لگ پاؤں گا ب سے اک قمیص تھی جو میرا بھائی لے گیا تو تاکتے تمہارے واسطے اب کچھ نہیں رہا گلیوں کے سارے سنگ تو سودائی لے گیا تو

Rahat Indori

19 likes

یوں صدا دیتے ہوئے تری خیال آتے ہیں چنو کعبہ کی کھلی چھت پہ بلال آتے ہیں روز ہم اشکوں سے دھو آتے ہیں دیوار حرم پگڑیاں روز فرشتوں کی اچھال آتے ہیں ہاتھ ابھی پیچھے بندھے رہتے ہیں چپ رہتے ہیں دیکھنا یہ ہے تجھے کتنے غصہ آتے ہیں چاند سورج مری چوکھٹ پہ کئی صدیوں سے روز لکھے ہوئے چہرے پہ سوال آتے ہیں بے حسی مردہ دلی رقص شرابیں نغمے ب سے اسی راہ سے قوموں پہ زوال آتے ہیں

Rahat Indori

3 likes

مری کاروبار ہے وہ ہے وہ سب نے بڑی امداد کی داد لوگوں کی گلہ اپنا غزل استاد کی اپنی سانسیں بیچ کر ہے وہ ہے وہ نے جسے آباد کی حقیقت گلی جنت تو اب بھی ہے م گر شداد کی عمر بھر چلتے رہے آنکھوں پہ پٹی باندھ کر زندگی کو ڈھونڈنے ہے وہ ہے وہ زندگی برباد کی داستانو کے سبھی کردار کم ہونے لگے آج کاغذ چنتی پھرتی ہے پری بغداد کی اک سلگتا چیختا ماحول ہے اور کچھ نہیں بات کرتے ہوں یکتا ک سے امین آباد کی

Rahat Indori

18 likes

جو منصبوں کے پجاری پہن کے آتے ہیں کلاہ طوق سے بھاری پہن کے آتے ہیں امیر شہر تری طرح قیمتی پوشاک مری گلی ہے وہ ہے وہ بھکاری پہن کے آتے ہیں یہی عقیق تھے جھونپڑیوں کے تاج کی ظفر جو انگلیوں ہے وہ ہے وہ مداری پہن کے آتے ہیں ہمارے جسم کے داغوں پہ تبصرہ کرنے قمیصیں لوگ ہماری پہن کے آتے ہیں عبادتوں کا تحفظ بھی ان کے زممے ہے جو مسجدوں ہے وہ ہے وہ صفاری پہن کے آتے ہیں

Rahat Indori

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Rahat Indori.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Rahat Indori's ghazal.