ghazalKuch Alfaaz

غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی

Related Ghazal

ہے وہ ہے وہ نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہوں لیکن اب ٹھان چکے ہوں تو چلو اچھا ہوں جاناں سے ناراض تو ہے وہ ہے وہ اور کسی بات پہ ہوں جاناں م گر اور کسی خیال و خواب سے شرمندہ ہوں اب کہی جا کے یہ معلوم ہوا ہے مجھ کو ٹھیک رہ جاتا ہے جو بے وجہ تری جیسا ہوں ایسے حالات ہے وہ ہے وہ ہوں بھی کوئی حسا سے تو کیا اور بے ح سے بھی ا گر ہوں تو کوئی کتنا ہوں تاکہ تو سمجھے کہ مردوں کے بھی دکھ ہوتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے چاہا بھی یہی تھا کہ تیرا بیٹا ہوں

Jawwad Sheikh

50 likes

حقیقت تو اچھا ہے غزل تیرا سہارا ہے مجھے ور لگ فکروں نے تو ب سے گھیر کے مارا ہے مجھے ج سے کی تصویر ہے وہ ہے وہ کاغذ پہ بنا بھی لگ سکا ا سے نے مہن گرا سے ہتھیلی پہ اتارا ہے مجھے غیر کے ہاتھ سے مرہم مجھے جھمکے نہیں جاناں م گر زخم بھی دے دو تو بے شرط ہے مجھے

Abrar Kashif

54 likes

چل دیے پھیر کر نظر جاناں بھی غیر تو غیر تھے م گر جاناں بھی یہ گلی مری دلربا کی ہے دوستوں خیریت ادھر جاناں بھی مجھ پہ لوگوں کے ساتھ ہنستے ہوں لوگ روئیںگے خاص کر جاناں بھی مجھ کو ٹھکرا دیا ہے دنیا نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو مر جاؤں گا ا گر جاناں بھی ا سے کی گاڑی تو جا چکی تابش اب اٹھو جاؤ اپنے گھر جاناں بھی

Zubair Ali Tabish

58 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے

Tehzeeb Hafi

220 likes

More from Zubair Ali Tabish

تمہارے غم سے توبہ کر رہا ہوں ت غضب ہے ہے وہ ہے وہ ایسا کر رہا ہوں ہے اپنے ہاتھ ہے وہ ہے وہ اپنا گریبان لگ جانے ک سے سے جھگڑا کر رہا ہوں بے حد سے بند تالے کھل رہے ہیں تری سب خط اکٹھا کر رہا ہوں کوئی تتلی نشانے پر نہیں ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے رنگوں کا پیچھا کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رسمًا کہ رہا ہوں پھروں ملیںگے یہ مت سمجھو کہ وعدہ کر رہا ہوں مری احباب سارے شہر ہے وہ ہے وہ ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے گاؤں ہے وہ ہے وہ کیا کر رہا ہوں مری ہر اک غزل اصلی ہے صاحب کئی برسوں سے دھندا کر رہا ہوں

Zubair Ali Tabish

38 likes

بیٹھے بیٹھے اک دم سے چونکاتی ہے یاد تری کب دستک دے کر آتی ہے تتلی کے جیسی ہے مری ہر خواہش ہاتھ لگانے سے پہلے اڑ جاتی ہے مری سجدے راز نہیں رہنے والے ا سے کی چوکھٹ ماتھے کو چمکاتی ہے عشق ہے وہ ہے وہ جتنا بہکو اتنا ہی اچھا یہ گمراہی منزل تک پہنچاتی ہے پہلی پہلی بار غضب سا لگتا ہے دھیرے دھیرے عادت سی ہوں جاتی ہے جاناں ا سے کو بھی سمجھا کر پچھتاؤگے حقیقت بھی مری ہی جیسی جذباتی ہے

Zubair Ali Tabish

27 likes

دل پھروں اس کا کوچے ہے وہ ہے وہ جانے والا ہے بیٹھے بٹھائے ٹھوکر خانے والا ہے ترک تعلق کا دھڑکا سا ہے دل کو حقیقت مجھ کو اک بات بتانے والا ہے کتنے ادب سے بیٹھے ہیں سوکھے پودے چنو بادل شعر سنہانے والا ہے یہ مت سوچ سرائے پر کیا بیتےگی تو تو بس اک رات بتانے والا ہے اینٹوں کو آپس ہے وہ ہے وہ ملانے والا بے وجہ اصل ہے وہ ہے وہ اک دیوار اٹھانے والا ہے گاڑی کی رفتار ہے وہ ہے وہ آئی ہے سستی شاید اب اسٹیشن آنے والا ہے آخری ہچکی لینی ہے اب آ جاؤ بعد ہے وہ ہے وہ جاناں کو کون بلانے والا ہے

Zubair Ali Tabish

33 likes

پہلے مفت ہے وہ ہے وہ پیا سے بٹےگی بعد ہے وہ ہے وہ اک اک بوند بکےگی کتنے حسین ہوں ماشا اللہ جاناں پہ محبت خوب جچےگی ظالم ب سے اتنا بتلا دے کیا رونے کی چھوٹ ملےگی آج تو پتھر باندھ لیا ہے لیکن کل پھروں بھوک لگےگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی پاگل تو بھی پاگل ہم دونوں کی خوب جمےگی یار نے پانی پھیر دیا ہے خاک ہماری خاک اڑےگی دنیا کو ایسے بھولوںگا دنیا مجھ کو یاد کرے گی

Zubair Ali Tabish

30 likes

چاند کو دامن ہے وہ ہے وہ لا کر رکھ دیا ا سے نے مری گود ہے وہ ہے وہ سر رکھ دیا آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو ہے ک سے کے نام کے ک سے نے کشتی ہے وہ ہے وہ سمندر رکھ دیا حقیقت بتانے لگ گیا تو مجبوریاں اور پھروں ہم نے ریسیور رکھ دیا

Zubair Ali Tabish

31 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Zubair Ali Tabish.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Zubair Ali Tabish's ghazal.