بیٹھے بیٹھے اک دم سے چونکاتی ہے یاد تری کب دستک دے کر آتی ہے تتلی کے جیسی ہے مری ہر خواہش ہاتھ لگانے سے پہلے اڑ جاتی ہے مری سجدے راز نہیں رہنے والے ا سے کی چوکھٹ ماتھے کو چمکاتی ہے عشق ہے وہ ہے وہ جتنا بہکو اتنا ہی اچھا یہ گمراہی منزل تک پہنچاتی ہے پہلی پہلی بار غضب سا لگتا ہے دھیرے دھیرے عادت سی ہوں جاتی ہے جاناں ا سے کو بھی سمجھا کر پچھتاؤگے حقیقت بھی مری ہی جیسی جذباتی ہے
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے
Tehzeeb Hafi
262 likes
More from Zubair Ali Tabish
چاند کو دامن ہے وہ ہے وہ لا کر رکھ دیا ا سے نے مری گود ہے وہ ہے وہ سر رکھ دیا آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو ہے ک سے کے نام کے ک سے نے کشتی ہے وہ ہے وہ سمندر رکھ دیا حقیقت بتانے لگ گیا تو مجبوریاں اور پھروں ہم نے ریسیور رکھ دیا
Zubair Ali Tabish
31 likes
دل پھروں اس کا کوچے ہے وہ ہے وہ جانے والا ہے بیٹھے بٹھائے ٹھوکر خانے والا ہے ترک تعلق کا دھڑکا سا ہے دل کو حقیقت مجھ کو اک بات بتانے والا ہے کتنے ادب سے بیٹھے ہیں سوکھے پودے چنو بادل شعر سنہانے والا ہے یہ مت سوچ سرائے پر کیا بیتےگی تو تو بس اک رات بتانے والا ہے اینٹوں کو آپس ہے وہ ہے وہ ملانے والا بے وجہ اصل ہے وہ ہے وہ اک دیوار اٹھانے والا ہے گاڑی کی رفتار ہے وہ ہے وہ آئی ہے سستی شاید اب اسٹیشن آنے والا ہے آخری ہچکی لینی ہے اب آ جاؤ بعد ہے وہ ہے وہ جاناں کو کون بلانے والا ہے
Zubair Ali Tabish
33 likes
پہلے مفت ہے وہ ہے وہ پیا سے بٹےگی بعد ہے وہ ہے وہ اک اک بوند بکےگی کتنے حسین ہوں ماشا اللہ جاناں پہ محبت خوب جچےگی ظالم ب سے اتنا بتلا دے کیا رونے کی چھوٹ ملےگی آج تو پتھر باندھ لیا ہے لیکن کل پھروں بھوک لگےگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی پاگل تو بھی پاگل ہم دونوں کی خوب جمےگی یار نے پانی پھیر دیا ہے خاک ہماری خاک اڑےگی دنیا کو ایسے بھولوںگا دنیا مجھ کو یاد کرے گی
Zubair Ali Tabish
30 likes
بھرے ہوئے جام پر سراحی کا سر جھکا تو برا لگے گا جسے تیری آرزو نہیں تو اسے ملا تو برا لگے گا یہ ایسا رستہ ہے ج سے پہ ہر کوئی بارہا لڑکھڑا رہا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلی ٹھوکر کے بعد ہی گر سنبھل گیا تو تو برا لگے گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خوش ہوں ا سے کے نکالنے پر اور اتنا آگے نکل چکا ہوں کے اب اچانک سے ا سے نے واپ سے بلا لیا تو برا لگے گا یہ آخری کمپکمپاتا جملہ کہ ا سے تعلق کو ختم کر دو بڑے جتن سے کہا ہے ا سے نے نہیں کیا تو برا لگے گا لگ جانے کتنے غموں کو پینے کے بعد تابش چڑھی اداسی کسی نے ایسے ہے وہ ہے وہ آ کے ہم کو ہنسا دیا تو برا لگے گا
Zubair Ali Tabish
28 likes
تمہارے غم سے توبہ کر رہا ہوں ت غضب ہے ہے وہ ہے وہ ایسا کر رہا ہوں ہے اپنے ہاتھ ہے وہ ہے وہ اپنا گریبان لگ جانے ک سے سے جھگڑا کر رہا ہوں بے حد سے بند تالے کھل رہے ہیں تری سب خط اکٹھا کر رہا ہوں کوئی تتلی نشانے پر نہیں ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے رنگوں کا پیچھا کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رسمًا کہ رہا ہوں پھروں ملیںگے یہ مت سمجھو کہ وعدہ کر رہا ہوں مری احباب سارے شہر ہے وہ ہے وہ ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے گاؤں ہے وہ ہے وہ کیا کر رہا ہوں مری ہر اک غزل اصلی ہے صاحب کئی برسوں سے دھندا کر رہا ہوں
Zubair Ali Tabish
38 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Zubair Ali Tabish.
Similar Moods
More moods that pair well with Zubair Ali Tabish's ghazal.







