حقیقت تو اچھا ہے غزل تیرا سہارا ہے مجھے ور لگ فکروں نے تو ب سے گھیر کے مارا ہے مجھے ج سے کی تصویر ہے وہ ہے وہ کاغذ پہ بنا بھی لگ سکا ا سے نے مہن گرا سے ہتھیلی پہ اتارا ہے مجھے غیر کے ہاتھ سے مرہم مجھے جھمکے نہیں جاناں م گر زخم بھی دے دو تو بے شرط ہے مجھے
Related Ghazal
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا
Tehzeeb Hafi
241 likes
مجھے ادا سے کر گئے ہوں خوش رہو مری مزاج پر گئے ہوں خوش رہو مری لیے لگ رک سکے تو کیا ہوا ج ہاں کہی ٹھہر گئے ہوں خوش رہو خوشی ہوئی ہے آج جاناں کو دیکھ کر بے حد نکھر سنور گئے ہوں خوش رہو ادا سے ہوں کسی کی بے وفائی پر وفا کہی تو کر گئے ہوں خوش رہو گلی ہے وہ ہے وہ اور لوگ بھی تھے آشنا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کر گئے ہوں خوش رہو تمہیں تو مری دوستی پہ ناز تھا اسی سے اب مکر گئے ہوں خوش رہو کسی کی زندگی بنو کہ بندگی مری لیے تو مر گئے ہوں خوش رہو
Fazil Jamili
73 likes
ا سے طرح سے لگ آزماؤ مجھے ا سے کی تصویر مت دکھاؤ مجھے عین ممکن ہے ہے وہ ہے وہ پلٹ آؤں ا سے کی آواز ہے وہ ہے وہ بلاؤ مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بولا تھا یاد مت آنا جھوٹ بولا تھا یاد آؤ مجھے
Ali Zaryoun
64 likes
More from Abrar Kashif
ا سے طرح تلخ نوائی سے نہیں چلتا ہے کام دنیا ہے وہ ہے وہ برائی سے نہیں چلتا ہے پیار زندہ ہے زمانے ہے وہ ہے وہ بھلے لوگوں سے پیار کا نام لڑائی سے نہیں چلتا ہے مری بچوں کی عبادت بھی ہے ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ شامل گھر فقط مری کمائی سے نہیں چلتا ہے
Abrar Kashif
20 likes
دل کو تیری خواہش پہلی بار ہوئی ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ بارش پہلی بار ہوئی مانگنے والے ہیرے اندھیرا مانگتے ہیں اشکوں کی فرمائش پہلی بار ہوئی ڈوبنے والے اک اک کر کے آ جائیں دریا ہے وہ ہے وہ گنجائش پہلی بار ہوئی
Abrar Kashif
46 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Abrar Kashif.
Similar Moods
More moods that pair well with Abrar Kashif's ghazal.







