ghazalKuch Alfaaz

ا سے طرح سے لگ آزماؤ مجھے ا سے کی تصویر مت دکھاؤ مجھے عین ممکن ہے ہے وہ ہے وہ پلٹ آؤں ا سے کی آواز ہے وہ ہے وہ بلاؤ مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بولا تھا یاد مت آنا جھوٹ بولا تھا یاد آؤ مجھے

Ali Zaryoun64 Likes

Related Ghazal

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں

Jaun Elia

315 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

ج سے طرح سمے گزرنے کے لیے ہوتا ہے آدمی شکل پہ مرنے کے لیے ہوتا ہے تیری آنکھوں سے ملاقات ہوئی تب یہ کھلا ڈوبنے والا ابھرنے کے لیے ہوتا ہے عشق کیوں پیچھے ہٹا بات نبھانے سے میاں حسن تو خیر مکرنے کے لیے ہوتا ہے آنکھ ہوتی ہے کسی راہ کو تکنے کے لیے دل کسی پاؤں پہ دھرنے کے لیے ہوتا ہے دل کی دہلی کا چناؤ ہی ا پیش ہے صاحب جب بھی ہوتا ہے یہ ہَرنے کے لیے ہوتا ہے کوئی بستی ہوں اجڑنے کے لیے بستی ہے کوئی مجمع ہوں گزرا کے لیے ہوتا ہے

Ali Zaryoun

61 likes

More from Ali Zaryoun

ا سے باندی کے سب گھروں کی خیر اور گھروں ہے وہ ہے وہ جلے دیوں کی خیر ماں ہے وہ ہے وہ قربان تری غصے پر بابا جانی کی جھڑ کیوں کی خیر تری ہم خواب دوستوں کے نثار تیری ہم نام لڑ کیوں کی خیر جو تری خدو خال پر ہوں گے تری بیٹوں کی بیٹیوں کی خیر جن کا سردار و پیشوا ہے وہ ہے وہ ہوں تری ہاتھوں پوچھے ہوؤں کی خیر ٹوٹی پھوٹی لکھائی کے صدقے پہلی پہلی محبتوں کی خیر دشمنوں کے لیے دعا زبان تیری جانب کے دوستوں کی خیر فی سے بک سے جو دور بیٹھے ہیں ان فقیروں کی بیٹھکوں کی خیر کار ہے وہ ہے وہ باغ کھیل گیا تو چنو احتساب تیری خوشبوؤں کی خیر حقیقت جو سینوں پہ ڈ سے کے ہنستی ہے ان ہوسناک ناگنوں کی خیر

Ali Zaryoun

6 likes

چپ چاپ کیوں گلزار جناں ہوں کوئی بات تو کروں حل بھی نکالتے ہیں ملاقات تو کروں خالی ہوا ہے وہ ہے وہ اڑنا فقیری نہیں میاں دل جوڑ کے دکھاؤ کرامات تو کروں کھیتوں کو کھا گئی ہے یہ شہریلی بستیاں صاحب علاج رنج مضافات تو کروں

Ali Zaryoun

15 likes

حقیقت ہی کربتہ تیری یاد کا حقیقت ہی لگ مزاق نوا اے خیال ہے حقیقت ہی ہے وہ ہے وہ جو تھا تری ہجر ہے وہ ہے وہ حقیقت ہی فنا قلبی اے خدو خال ہے تیری نیند ک سے کے لیے اڑی میرا خواب ک سے نے بجھا دیا اسے سن کر رکھ نہیں پھیرنا تری ٹھور ٹھکا لگ کا سوال ہے یہ سیدہ تو نہیں ہوں رہا ہے وہ ہے وہ خوشی سے تو نہیں رو رہا کوئی فلم تو نہیں چل رہی مری جان یہ میرا حال ہے کسی خیرو کے چرن پڈوں کوئی کاظمی جو دعا کرے کوئی ہوں جو غم کی حیا کرے میرا کربلائی ملال ہے حقیقت چراغ اے شہر اے وفاق ہے مری ساتھ جس کا فراق ہے بھلے دور پار سے ہی صحیح میرا رابطہ تو بحال ہے حقیقت خوشی سے اتنی نہال تھی کہ علی ہے وہ ہے وہ سوچ کر ڈر گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسے بتا ہی نہیں سکا کہ یہ مری آخری کال ہے

Ali Zaryoun

3 likes

ساز تیار کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور خبردار کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو شاید برا لگے لیکن دیکھ کے پیار کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں نہیں چاہیے یہ تاج اور تخت صاف انکار کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی جا کر اسے بتا تو دے جس کا کردار کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج سے خود کو تیری حالت سے دستبردار کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دو ج ہاں مجھ کو مل رہے ہیں م گر تجھ پر اصرار کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ

Ali Zaryoun

8 likes

تری آگے سرکشی دکھلاؤں گا تو تو جو کہ دے وہی بن جاؤں گا اے زبوری پھول اے نیلے گلاب مت خفا ہوں ہے وہ ہے وہ دوبارہ آؤںگا سات صدیاں سات راتیں سات دن اک پہیلی ہے کسے سمجھاؤں گا یار ہوں جائے صحیح تجھ سے مجھے تری قبضے سے تجھے چھڑواؤں گا جاناں بے حد معصوم لڑکی ہوں تمہیں نجم بھیجوں گا دعا پہناؤں گا کوئی دریا ہے لگ جنگل اور لگ باغ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ی ہاں بلکل نہیں رہ پاؤں گا یاد کرواؤں گا تجھ کو تری زخم تیری ساری نعمتیں گنواؤں گا کھڑکیاں ا سے کے لیے مشکل لگ ہوں مجھ سے مت کہنا ہے وہ ہے وہ یہ کر جاؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ علی زریون ہوں کافی ہے یہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ظفر اقبال کیوں بن جاؤں گا

Ali Zaryoun

16 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ali Zaryoun.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ali Zaryoun's ghazal.