چپ چاپ کیوں گلزار جناں ہوں کوئی بات تو کروں حل بھی نکالتے ہیں ملاقات تو کروں خالی ہوا ہے وہ ہے وہ اڑنا فقیری نہیں میاں دل جوڑ کے دکھاؤ کرامات تو کروں کھیتوں کو کھا گئی ہے یہ شہریلی بستیاں صاحب علاج رنج مضافات تو کروں
Related Ghazal
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی
Jaun Elia
77 likes
اب مری ساتھ نہیں ہے سمجھے نا سمجھانے کی بات نہیں ہے سمجھے نا جاناں مانگوگے اور تمہیں مل جائےگا پیار ہے یہ خیرات نہیں ہے سمجھے نا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بادل ہوں ج سے پر چا ہوں برسوں گا مری کوئی ذات نہیں ہے سمجھے نا اپنا خالی ہاتھ مجھے مت دکھلاؤ ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا ہاتھ نہیں ہے سمجھے نا
Zubair Ali Tabish
66 likes
آنکھ کو آئی لگ سمجھتے ہوں جاناں بھی سب کی طرح سمجھتے ہوں دوست اب کیوں نہیں سمجھتے جاناں جاناں تو کہتے تھے نا سمجھتے ہوں اپنا غم جاناں کو کیسے سمجھاؤں سب سے ہارا ہوا سمجھتے ہوں مری دنیا اجڑ گئی ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں اسے حادثہ سمجھتے ہوں آخری راستہ تو باقی ہے آخری راستہ سمجھتے ہوں
Himanshi babra KATIB
76 likes
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
More from Ali Zaryoun
تور سینا ہے سر کروگے میاں اپنے اندر سفر کروگے میاں جاناں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ روز یاد کرتے ہوں پھروں تو جاناں عمر بھر کروگے میاں حقیقت جو اک لفظ مر گیا تو ہے اس کا کا کو کس کی خبر کروگے میاں اور دل درویش ایک مدی لگ ہے جاناں مدینے ہے وہ ہے وہ سیر کروگے میاں
Ali Zaryoun
6 likes
سکوت شام کا حصہ تو مت بنا مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ رنگ ہوں سو کسی موج ہے وہ ہے وہ ملا مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان دنوں تری آنکھوں کے اختیار ہے وہ ہے وہ ہوں جمال سبز کسی تجربے ہے وہ ہے وہ لا مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ بوڑھے جسم کی ذلت اٹھا نہیں سکتا کسی اچھی اچھی تجلی سے کر نیا مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ہونے کی تکمیل چاہتا ہوں سخی سو اب بدن کی دیکھوں سے کر رہا مجھ کو مجھے چراغ کی حیرت بھی ہوں چکی معلوم اب ا سے سے آگے کوئی راستہ بتا مجھ کو ا سے اسم خاص کی ترکیب سے بنا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبتوں کے مقالے سے کر نیا مجھ کو درون سی لگ جسے دل سمجھ رہا تھا علی حقیقت نیلی آگ ہے یہ اب پتا چلا مجھ کو
Ali Zaryoun
9 likes
اسی لیے تو مجھے سنکے طیش آیا ہے تمہارا حال کسی اور نے بتایا ہے مجھے بتا میرا بھائی سلطان کیسے ہوا تو ا سے کے ساتھ تھا تو کیسے بچ کے آیا ہے ابھی یہ زخم کسی پر نہیں کھلا میرا ابھی یہ شعر کسی کو نہیں سنایا ہے
Ali Zaryoun
16 likes
پرائی نیند ہے وہ ہے وہ سونے کا غضب کر کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ خوش نہیں ہوں تجھے خود ہے وہ ہے وہ مبتلا کر کے اصولی طور پہ مر جانا چاہیے تھا م گر مجھے سکون ملا ہے تجھے جدا کر کے یہ کیوں کہا کہ تجھے مجھ سے پیار ہوں جائے تڑپ اٹھا ہوں تری حق ہے وہ ہے وہ بد دعا کر کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں خریدار پر یہ کھل جائے نیا نہیں ہوں رکھا ہوں ی ہاں نیا کر کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جوتیوں ہے وہ ہے وہ بھی بیٹھا ہوں ملائے گا مان کے ساتھ کسی نے مجھ کو بلایا ہے التجا کر کے بشر سمجھ کے کیا تھا نا یوں نظر انداز لے ہے وہ ہے وہ بھی چھوڑ رہا ہوں تجھے خدا کر کے تو پھروں حقیقت روتے ہوئے منتیں بھی مانتے ہیں جو انتہا نہیں کرتے ہیں ابتدا کر کے بدل چکا ہے میرا لم سے نفسیات ا سے کی کہ رکھ دیا ہے اسے ہے وہ ہے وہ نے ان چھوا کر کے منا بھی لوں گا گلے بھی لگاؤں گا ہے وہ ہے وہ علی ابھی تو دیکھ رہا ہوں اسے خفا کر کے
Ali Zaryoun
14 likes
ہوں جسے یار سے تصدیق نہیں کر سکتا حقیقت کسی شعر کی تضحیک نہیں کر سکتا پر کشش دوست مری ہجر کی مجبوری سمجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے دور سے نزدیک نہیں کر سکتا مجھ پہ تنقید سے رہتے ہیں اجالے جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان دکانوں کو ہے وہ ہے وہ تاریک نہیں کر سکتا کون سے غم سے نکلنا ہے کسے رکھنا ہے مسئلہ یہ ہے ہے وہ ہے وہ تفریق نہیں کر سکتا پیڑ کو گالیاں بکنے کے علاوہ ذریعون کیا کریں حقیقت کے جو تخلیق نہیں کر سکتا شعر تو خیر ہے وہ ہے وہ تنہائی ہے وہ ہے وہ کہ لوگا علی اپنی حالت تو ہے وہ ہے وہ خود ٹھیک نہیں کر سکتا ہجر سے گزرے بنا عشق بتانے والا بحث کر سکتا ہے تحقیق نہیں کر سکتا
Ali Zaryoun
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ali Zaryoun.
Similar Moods
More moods that pair well with Ali Zaryoun's ghazal.







