ghazalKuch Alfaaz

پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا

Related Ghazal

ہے وہ ہے وہ بھی جاناں جیسا ہوں اپنے سے جدا مت سمجھو آدمی ہی مجھے رہنے دو خدا مت سمجھو یہ جو ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ رہتا نہیں جاناں سے مل کر یہ میرا عشق ہے جاناں اس کا کو نشہ مت سمجھو را سے آتا نہیں سب کو یہ محبت کا مرض مری بیماری کو جاناں اپنی دوا مت سمجھو

Shakeel Azmi

51 likes

ہے وہ ہے وہ نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہوں لیکن اب ٹھان چکے ہوں تو چلو اچھا ہوں جاناں سے ناراض تو ہے وہ ہے وہ اور کسی بات پہ ہوں جاناں م گر اور کسی خیال و خواب سے شرمندہ ہوں اب کہی جا کے یہ معلوم ہوا ہے مجھ کو ٹھیک رہ جاتا ہے جو بے وجہ تری جیسا ہوں ایسے حالات ہے وہ ہے وہ ہوں بھی کوئی حسا سے تو کیا اور بے ح سے بھی ا گر ہوں تو کوئی کتنا ہوں تاکہ تو سمجھے کہ مردوں کے بھی دکھ ہوتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے چاہا بھی یہی تھا کہ تیرا بیٹا ہوں

Jawwad Sheikh

50 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا

Tehzeeb Hafi

241 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

More from Fahmi Badayuni

صحراؤں نے مانگا پانی دریاؤں پر برسا پانی امنگوں کمزور نہیں تھیں دیواروں سے آیا پانی آخر ک سے ک سے نیم کی جڑ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب تک ڈالیں میٹھا پانی چھت کا حال بتا دیتا ہے پرنالے سے گرتا پانی فکر و مسائل یاد جاناں گرم ہوائیں ٹھنڈا پانی پیاسے بچے کھیل رہے ہیں مچھلی مچھلی کتنا پانی

Fahmi Badayuni

11 likes

چارسازوں کے ب سے کی بات نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دواؤں کے ب سے کی بات نہیں چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ دیمکوں سے نجات جو کتابوں کے ب سے کی بات نہیں تیری خوشبو کو قید ہے وہ ہے وہ رکھنا عطر دانوں کے ب سے کی بات نہیں ختم کر دے عذاب قبروں کا تاج محلوں کے ب سے کی بات نہیں آنسوؤں ہے وہ ہے وہ جو جھلملاہٹ ہے حقیقت ستاروں کے ب سے کی بات نہیں ایسا لگتا ہے اب تیرا دیدار صرف آنکھوں کے ب سے کی بات نہیں

Fahmi Badayuni

30 likes

دل جب خالی ہوں جاتا ہے اور بھی بھاری ہوں جاتا ہے جب تو ساقی ہوں جاتا ہے عشق شرابی ہوں جاتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب تک کچھ طے کرتا ہوں سب کچھ ماضی ہوں جاتا ہے ا سے کے چھوتے ہی قسمت کا تالا چابی ہوں جاتا ہے پہلے تو کافی ہوتا تھا اب ناکافی ہوں جاتا ہے

Fahmi Badayuni

29 likes

پرندے سہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اڑ رہے ہیں برابر ہے وہ ہے وہ فرشتے اڑ رہے ہیں خوشی سے کب یہ تنکے اڑ رہے ہیں ہوا کے ڈر کے مارے اڑ رہے ہیں کہیں کوئی کماں طعنہ ہوئے ہے کبوتر آڑے ترچھے اڑ رہے ہیں تمہارا خط ہوا ہے وہ ہے وہ اڑ رہا ہے تعاقب ہے وہ ہے وہ لفافے اڑ رہے ہیں بہت کہتی رہی آندھی سے چڑیا کہ پہلی بار بچے اڑ رہے ہیں شجر کے سبز پتوں کی ہوا سے فضا ہے وہ ہے وہ خشک پتے اڑ رہے ہیں

Fahmi Badayuni

13 likes

کوئی ملتا نہیں خدا کی طرح پھرتا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ دعا کی طرح غم تعاقب ہے وہ ہے وہ ہیں سزا کی طرح تو چھپا لے مجھے غلطیاں کی طرح ہے مریضوں ہے وہ ہے وہ تذکرہ میرا آزمائی ہوئی دوا کی طرح ہوں رہیں ہیں شہادتیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور ہے وہ ہے وہ چپ ہوں کربلا کی طرح ج سے کی خاطر چراغ بنتا ہوں گھورتا ہے وہی ہوا کی طرح سمے کے گنبدوں ہے وہ ہے وہ رہتا ہوں ایک گونجی ہوئی صدا کی طرح

Fahmi Badayuni

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Fahmi Badayuni.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Fahmi Badayuni's ghazal.