ghazalKuch Alfaaz

کوئی ملتا نہیں خدا کی طرح پھرتا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ دعا کی طرح غم تعاقب ہے وہ ہے وہ ہیں سزا کی طرح تو چھپا لے مجھے غلطیاں کی طرح ہے مریضوں ہے وہ ہے وہ تذکرہ میرا آزمائی ہوئی دوا کی طرح ہوں رہیں ہیں شہادتیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور ہے وہ ہے وہ چپ ہوں کربلا کی طرح ج سے کی خاطر چراغ بنتا ہوں گھورتا ہے وہی ہوا کی طرح سمے کے گنبدوں ہے وہ ہے وہ رہتا ہوں ایک گونجی ہوئی صدا کی طرح

Related Ghazal

سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی

Jaun Elia

77 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

اب مری ساتھ نہیں ہے سمجھے نا سمجھانے کی بات نہیں ہے سمجھے نا جاناں مانگوگے اور تمہیں مل جائےگا پیار ہے یہ خیرات نہیں ہے سمجھے نا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بادل ہوں ج سے پر چا ہوں برسوں گا مری کوئی ذات نہیں ہے سمجھے نا اپنا خالی ہاتھ مجھے مت دکھلاؤ ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا ہاتھ نہیں ہے سمجھے نا

Zubair Ali Tabish

66 likes

غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی

Zubair Ali Tabish

80 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

More from Fahmi Badayuni

صحراؤں نے مانگا پانی دریاؤں پر برسا پانی امنگوں کمزور نہیں تھیں دیواروں سے آیا پانی آخر ک سے ک سے نیم کی جڑ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب تک ڈالیں میٹھا پانی چھت کا حال بتا دیتا ہے پرنالے سے گرتا پانی فکر و مسائل یاد جاناں گرم ہوائیں ٹھنڈا پانی پیاسے بچے کھیل رہے ہیں مچھلی مچھلی کتنا پانی

Fahmi Badayuni

11 likes

چارسازوں کے ب سے کی بات نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دواؤں کے ب سے کی بات نہیں چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ دیمکوں سے نجات جو کتابوں کے ب سے کی بات نہیں تیری خوشبو کو قید ہے وہ ہے وہ رکھنا عطر دانوں کے ب سے کی بات نہیں ختم کر دے عذاب قبروں کا تاج محلوں کے ب سے کی بات نہیں آنسوؤں ہے وہ ہے وہ جو جھلملاہٹ ہے حقیقت ستاروں کے ب سے کی بات نہیں ایسا لگتا ہے اب تیرا دیدار صرف آنکھوں کے ب سے کی بات نہیں

Fahmi Badayuni

30 likes

پرندے سہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اڑ رہے ہیں برابر ہے وہ ہے وہ فرشتے اڑ رہے ہیں خوشی سے کب یہ تنکے اڑ رہے ہیں ہوا کے ڈر کے مارے اڑ رہے ہیں کہیں کوئی کماں طعنہ ہوئے ہے کبوتر آڑے ترچھے اڑ رہے ہیں تمہارا خط ہوا ہے وہ ہے وہ اڑ رہا ہے تعاقب ہے وہ ہے وہ لفافے اڑ رہے ہیں بہت کہتی رہی آندھی سے چڑیا کہ پہلی بار بچے اڑ رہے ہیں شجر کے سبز پتوں کی ہوا سے فضا ہے وہ ہے وہ خشک پتے اڑ رہے ہیں

Fahmi Badayuni

13 likes

دل جب خالی ہوں جاتا ہے اور بھی بھاری ہوں جاتا ہے جب تو ساقی ہوں جاتا ہے عشق شرابی ہوں جاتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب تک کچھ طے کرتا ہوں سب کچھ ماضی ہوں جاتا ہے ا سے کے چھوتے ہی قسمت کا تالا چابی ہوں جاتا ہے پہلے تو کافی ہوتا تھا اب ناکافی ہوں جاتا ہے

Fahmi Badayuni

29 likes

خط لفافے ہے وہ ہے وہ غیر کا نکلا ا سے کا شکایت بھی بے وفا نکلا جان ہے وہ ہے وہ جان آ گئی یاروں حقیقت کسی اور سے خفا نکلا شعر ناظم نے جب پڑھا میرا پہلا مصرعہ ہی دوسرا نکلا پھروں اسی قبر کے برابر سے زندہ رہنے کا راستہ نکلا

Fahmi Badayuni

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Fahmi Badayuni.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Fahmi Badayuni's ghazal.