خط لفافے ہے وہ ہے وہ غیر کا نکلا ا سے کا شکایت بھی بے وفا نکلا جان ہے وہ ہے وہ جان آ گئی یاروں حقیقت کسی اور سے خفا نکلا شعر ناظم نے جب پڑھا میرا پہلا مصرعہ ہی دوسرا نکلا پھروں اسی قبر کے برابر سے زندہ رہنے کا راستہ نکلا
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر
Anwar Shaoor
95 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
More from Fahmi Badayuni
صحراؤں نے مانگا پانی دریاؤں پر برسا پانی امنگوں کمزور نہیں تھیں دیواروں سے آیا پانی آخر ک سے ک سے نیم کی جڑ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب تک ڈالیں میٹھا پانی چھت کا حال بتا دیتا ہے پرنالے سے گرتا پانی فکر و مسائل یاد جاناں گرم ہوائیں ٹھنڈا پانی پیاسے بچے کھیل رہے ہیں مچھلی مچھلی کتنا پانی
Fahmi Badayuni
11 likes
چارسازوں کے ب سے کی بات نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دواؤں کے ب سے کی بات نہیں چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ دیمکوں سے نجات جو کتابوں کے ب سے کی بات نہیں تیری خوشبو کو قید ہے وہ ہے وہ رکھنا عطر دانوں کے ب سے کی بات نہیں ختم کر دے عذاب قبروں کا تاج محلوں کے ب سے کی بات نہیں آنسوؤں ہے وہ ہے وہ جو جھلملاہٹ ہے حقیقت ستاروں کے ب سے کی بات نہیں ایسا لگتا ہے اب تیرا دیدار صرف آنکھوں کے ب سے کی بات نہیں
Fahmi Badayuni
30 likes
پرندے سہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اڑ رہے ہیں برابر ہے وہ ہے وہ فرشتے اڑ رہے ہیں خوشی سے کب یہ تنکے اڑ رہے ہیں ہوا کے ڈر کے مارے اڑ رہے ہیں کہیں کوئی کماں طعنہ ہوئے ہے کبوتر آڑے ترچھے اڑ رہے ہیں تمہارا خط ہوا ہے وہ ہے وہ اڑ رہا ہے تعاقب ہے وہ ہے وہ لفافے اڑ رہے ہیں بہت کہتی رہی آندھی سے چڑیا کہ پہلی بار بچے اڑ رہے ہیں شجر کے سبز پتوں کی ہوا سے فضا ہے وہ ہے وہ خشک پتے اڑ رہے ہیں
Fahmi Badayuni
13 likes
حقیقت کہی تھا کہی دکھائی دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج ہاں تھا وہیں دکھائی دیا خواب ہے وہ ہے وہ اک حسین دکھائی دیا حقیقت بھی پردہ نشین دکھائی دیا جب تلک تو نہیں دکھائی دیا گھر کہی کا کہی دکھائی دیا روز چہرے نے آئینے بدلے جو نہیں تھا نہیں دکھائی دیا بد مزہ کیوں ہیں آ سماں والے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھا ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ دکھائی دیا ا سے کو لے کر چلی گئی گاڑی پھروں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں دکھائی دیا
Fahmi Badayuni
13 likes
دل جب خالی ہوں جاتا ہے اور بھی بھاری ہوں جاتا ہے جب تو ساقی ہوں جاتا ہے عشق شرابی ہوں جاتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب تک کچھ طے کرتا ہوں سب کچھ ماضی ہوں جاتا ہے ا سے کے چھوتے ہی قسمت کا تالا چابی ہوں جاتا ہے پہلے تو کافی ہوتا تھا اب ناکافی ہوں جاتا ہے
Fahmi Badayuni
29 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Fahmi Badayuni.
Similar Moods
More moods that pair well with Fahmi Badayuni's ghazal.







