چارسازوں کے ب سے کی بات نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دواؤں کے ب سے کی بات نہیں چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ دیمکوں سے نجات جو کتابوں کے ب سے کی بات نہیں تیری خوشبو کو قید ہے وہ ہے وہ رکھنا عطر دانوں کے ب سے کی بات نہیں ختم کر دے عذاب قبروں کا تاج محلوں کے ب سے کی بات نہیں آنسوؤں ہے وہ ہے وہ جو جھلملاہٹ ہے حقیقت ستاروں کے ب سے کی بات نہیں ایسا لگتا ہے اب تیرا دیدار صرف آنکھوں کے ب سے کی بات نہیں
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
More from Fahmi Badayuni
صحراؤں نے مانگا پانی دریاؤں پر برسا پانی امنگوں کمزور نہیں تھیں دیواروں سے آیا پانی آخر ک سے ک سے نیم کی جڑ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب تک ڈالیں میٹھا پانی چھت کا حال بتا دیتا ہے پرنالے سے گرتا پانی فکر و مسائل یاد جاناں گرم ہوائیں ٹھنڈا پانی پیاسے بچے کھیل رہے ہیں مچھلی مچھلی کتنا پانی
Fahmi Badayuni
11 likes
نہیں ہوں جاناں تو ایسا لگ رہا ہے کہ چنو شہر ہے وہ ہے وہ کرف یوں لگا ہے مری سائے ہے وہ ہے وہ ا سے کا نقش پا ہے بڑا احسان مجھ پر دھوپ کا ہے کوئی برباد ہوں کر جا چکا ہے کوئی برباد ہونا چاہتا ہے لہو آنکھوں ہے وہ ہے وہ آ کر چھپ گیا تو ہے لگ جانے شہر دل ہے وہ ہے وہ کیا ہوا ہے کٹی ہے عمر ب سے یہ اڑانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری بارے ہے وہ ہے وہ حقیقت کیا سوچتا ہے برائے نام ہیں ان سے مراسم برائے نام جینا پڑ رہا ہے ستارے تم تم جگمگاتے جا رہے ہیں خدا اپنا قصیدہ لکھ رہا ہے گلوں کی باتیں چھپ کر سن رہا ہوں تمہارا ذکر اچھا لگ رہا ہے
Fahmi Badayuni
9 likes
چلتی سانسوں کو جام کرنے لگا حقیقت نظر سے چھوؤں گا کرنے لگا رات فرہاد خواب ہے وہ ہے وہ آیا اور فرشی سلام بخیر کرنے لگا پھروں ہے وہ ہے وہ زہریلے کار خانوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندہ رہنے کا کام کرنے لگا صاف انکار کر نہیں پایا حقیقت میرا احترام کرنے لگا لیلیٰ گھر ہے وہ ہے وہ سلائی کرنے لگی قی سے دہلی ہے وہ ہے وہ کام کرنے لگا ہجر کے مال سے دل ناداں وصل کا انتظام کرنے لگا
Fahmi Badayuni
16 likes
جاہلوں کو سلام بخیر کرنا ہے اور پھروں جھوٹ موٹ ڈرنا ہے کاش حقیقت راستے ہے وہ ہے وہ مل جائے مجھ کو منا پھیر کر گزرنا ہے پوچھتی ہے صدا بال پر کیا ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر نہیں اترنا ہے سوچنا کچھ نہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ فیلحال ان سے کوئی بھی بات کرنا ہے بھوک سے ڈگمگا رہے ہیں پاؤں اور بازار سے گزرنا ہے
Fahmi Badayuni
8 likes
موت کی سمت جان چلتی رہی زندگی کی دکان چلتی رہی سارے کردار سو گئے تھک کر ب سے تری داستان چلتی رہی ہے وہ ہے وہ ہے وہ لرزتا رہا ہدف بن کر مشک تیر و کمان چلتی رہی الٹی سیدھی چراغ سنتے رہے اور ہوا کی زبان چلتی رہی دو ہی موسم تھے دھوپ یا بارش چھتریوں کی دکان چلتی رہی جسم لمبے تھے چادریں چھوٹی رات بھر کھینچ تان چلتی رہی پر نکلتے رہے بکھرتے رہے اونچی نیچی اڑان چلتی رہی
Fahmi Badayuni
7 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Fahmi Badayuni.
Similar Moods
More moods that pair well with Fahmi Badayuni's ghazal.







