نہیں ہوں جاناں تو ایسا لگ رہا ہے کہ چنو شہر ہے وہ ہے وہ کرف یوں لگا ہے مری سائے ہے وہ ہے وہ ا سے کا نقش پا ہے بڑا احسان مجھ پر دھوپ کا ہے کوئی برباد ہوں کر جا چکا ہے کوئی برباد ہونا چاہتا ہے لہو آنکھوں ہے وہ ہے وہ آ کر چھپ گیا تو ہے لگ جانے شہر دل ہے وہ ہے وہ کیا ہوا ہے کٹی ہے عمر ب سے یہ اڑانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری بارے ہے وہ ہے وہ حقیقت کیا سوچتا ہے برائے نام ہیں ان سے مراسم برائے نام جینا پڑ رہا ہے ستارے تم تم جگمگاتے جا رہے ہیں خدا اپنا قصیدہ لکھ رہا ہے گلوں کی باتیں چھپ کر سن رہا ہوں تمہارا ذکر اچھا لگ رہا ہے
Related Ghazal
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
More from Fahmi Badayuni
چارسازوں کے ب سے کی بات نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دواؤں کے ب سے کی بات نہیں چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ دیمکوں سے نجات جو کتابوں کے ب سے کی بات نہیں تیری خوشبو کو قید ہے وہ ہے وہ رکھنا عطر دانوں کے ب سے کی بات نہیں ختم کر دے عذاب قبروں کا تاج محلوں کے ب سے کی بات نہیں آنسوؤں ہے وہ ہے وہ جو جھلملاہٹ ہے حقیقت ستاروں کے ب سے کی بات نہیں ایسا لگتا ہے اب تیرا دیدار صرف آنکھوں کے ب سے کی بات نہیں
Fahmi Badayuni
30 likes
پرندے سہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اڑ رہے ہیں برابر ہے وہ ہے وہ فرشتے اڑ رہے ہیں خوشی سے کب یہ تنکے اڑ رہے ہیں ہوا کے ڈر کے مارے اڑ رہے ہیں کہیں کوئی کماں طعنہ ہوئے ہے کبوتر آڑے ترچھے اڑ رہے ہیں تمہارا خط ہوا ہے وہ ہے وہ اڑ رہا ہے تعاقب ہے وہ ہے وہ لفافے اڑ رہے ہیں بہت کہتی رہی آندھی سے چڑیا کہ پہلی بار بچے اڑ رہے ہیں شجر کے سبز پتوں کی ہوا سے فضا ہے وہ ہے وہ خشک پتے اڑ رہے ہیں
Fahmi Badayuni
13 likes
صحراؤں نے مانگا پانی دریاؤں پر برسا پانی امنگوں کمزور نہیں تھیں دیواروں سے آیا پانی آخر ک سے ک سے نیم کی جڑ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب تک ڈالیں میٹھا پانی چھت کا حال بتا دیتا ہے پرنالے سے گرتا پانی فکر و مسائل یاد جاناں گرم ہوائیں ٹھنڈا پانی پیاسے بچے کھیل رہے ہیں مچھلی مچھلی کتنا پانی
Fahmi Badayuni
11 likes
حقیقت کہی تھا کہی دکھائی دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج ہاں تھا وہیں دکھائی دیا خواب ہے وہ ہے وہ اک حسین دکھائی دیا حقیقت بھی پردہ نشین دکھائی دیا جب تلک تو نہیں دکھائی دیا گھر کہی کا کہی دکھائی دیا روز چہرے نے آئینے بدلے جو نہیں تھا نہیں دکھائی دیا بد مزہ کیوں ہیں آ سماں والے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھا ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ دکھائی دیا ا سے کو لے کر چلی گئی گاڑی پھروں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں دکھائی دیا
Fahmi Badayuni
13 likes
خط لفافے ہے وہ ہے وہ غیر کا نکلا ا سے کا شکایت بھی بے وفا نکلا جان ہے وہ ہے وہ جان آ گئی یاروں حقیقت کسی اور سے خفا نکلا شعر ناظم نے جب پڑھا میرا پہلا مصرعہ ہی دوسرا نکلا پھروں اسی قبر کے برابر سے زندہ رہنے کا راستہ نکلا
Fahmi Badayuni
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Fahmi Badayuni.
Similar Moods
More moods that pair well with Fahmi Badayuni's ghazal.







