صحراؤں نے مانگا پانی دریاؤں پر برسا پانی امنگوں کمزور نہیں تھیں دیواروں سے آیا پانی آخر ک سے ک سے نیم کی جڑ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب تک ڈالیں میٹھا پانی چھت کا حال بتا دیتا ہے پرنالے سے گرتا پانی فکر و مسائل یاد جاناں گرم ہوائیں ٹھنڈا پانی پیاسے بچے کھیل رہے ہیں مچھلی مچھلی کتنا پانی
Related Ghazal
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
من ج سے کا مولا ہوتا ہے حقیقت بلکل مجھ سا ہوتا ہے آنکھیں ہنسکر پوچھ رہی ہیں نیند آنے سے کیا ہوتا ہے مٹی کی عزت ہوتی ہے پانی کا چرچا ہوتا ہے جانتا ہوں منصور کو بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ہی گھر کا ہوتا ہے اچھی لڑکی ضد نہیں کرتے دیکھو عشق برا ہوتا ہے وحشت کا اک گور ہے ج سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ قی سے اپنا بچہ ہوتا ہے زور طوفان مجھے دنیا پر دنیا کا بھی شبہ ہوتا ہے جاناں مجھ کو اپنا کہتے ہوں کہ لینے سے کیا ہوتا ہے
Ali Zaryoun
26 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
More from Fahmi Badayuni
چارسازوں کے ب سے کی بات نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دواؤں کے ب سے کی بات نہیں چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ دیمکوں سے نجات جو کتابوں کے ب سے کی بات نہیں تیری خوشبو کو قید ہے وہ ہے وہ رکھنا عطر دانوں کے ب سے کی بات نہیں ختم کر دے عذاب قبروں کا تاج محلوں کے ب سے کی بات نہیں آنسوؤں ہے وہ ہے وہ جو جھلملاہٹ ہے حقیقت ستاروں کے ب سے کی بات نہیں ایسا لگتا ہے اب تیرا دیدار صرف آنکھوں کے ب سے کی بات نہیں
Fahmi Badayuni
30 likes
چلتی سانسوں کو جام کرنے لگا حقیقت نظر سے چھوؤں گا کرنے لگا رات فرہاد خواب ہے وہ ہے وہ آیا اور فرشی سلام بخیر کرنے لگا پھروں ہے وہ ہے وہ زہریلے کار خانوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندہ رہنے کا کام کرنے لگا صاف انکار کر نہیں پایا حقیقت میرا احترام کرنے لگا لیلیٰ گھر ہے وہ ہے وہ سلائی کرنے لگی قی سے دہلی ہے وہ ہے وہ کام کرنے لگا ہجر کے مال سے دل ناداں وصل کا انتظام کرنے لگا
Fahmi Badayuni
16 likes
پرندے سہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اڑ رہے ہیں برابر ہے وہ ہے وہ فرشتے اڑ رہے ہیں خوشی سے کب یہ تنکے اڑ رہے ہیں ہوا کے ڈر کے مارے اڑ رہے ہیں کہیں کوئی کماں طعنہ ہوئے ہے کبوتر آڑے ترچھے اڑ رہے ہیں تمہارا خط ہوا ہے وہ ہے وہ اڑ رہا ہے تعاقب ہے وہ ہے وہ لفافے اڑ رہے ہیں بہت کہتی رہی آندھی سے چڑیا کہ پہلی بار بچے اڑ رہے ہیں شجر کے سبز پتوں کی ہوا سے فضا ہے وہ ہے وہ خشک پتے اڑ رہے ہیں
Fahmi Badayuni
13 likes
جب ریتیلے ہوں جاتے ہیں پہاڑ ٹیلے ہوں جاتے ہیں گرفت جاتے ہیں جو شیشے حقیقت نوکیلے ہوں جاتے ہیں باغ دھوئیں ہے وہ ہے وہ رہتا ہے تو پھل زہریلے ہوں جاتے ہیں ناداری ہے وہ ہے وہ آغوشوں کے بندھن ڈھیلے ہوں جاتے ہیں پھولوں کو سرخی دینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پتے پیلے ہوں جاتے ہیں
Fahmi Badayuni
9 likes
موت کی سمت جان چلتی رہی زندگی کی دکان چلتی رہی سارے کردار سو گئے تھک کر ب سے تری داستان چلتی رہی ہے وہ ہے وہ ہے وہ لرزتا رہا ہدف بن کر مشک تیر و کمان چلتی رہی الٹی سیدھی چراغ سنتے رہے اور ہوا کی زبان چلتی رہی دو ہی موسم تھے دھوپ یا بارش چھتریوں کی دکان چلتی رہی جسم لمبے تھے چادریں چھوٹی رات بھر کھینچ تان چلتی رہی پر نکلتے رہے بکھرتے رہے اونچی نیچی اڑان چلتی رہی
Fahmi Badayuni
7 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Fahmi Badayuni.
Similar Moods
More moods that pair well with Fahmi Badayuni's ghazal.







